ترکیہ کے وزیرِ خارجہ خاقان فیدان نے کہا ہے کہ "ایک ایسے دور میں کہ جب بین الاقوامی نظام بتدریج ناقابلِ عمل ہوتا جا رہا ہے ترکیہ کو، اپنے سفارتی آلات کے ذریعے، امن، استحکام اور خوشحالی قائم کرنے میں پہل کرنی چاہیے" ۔
فیدان نے پیر کو دارالحکومت انقرہ میں سفیروں کی سولہویں کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں کہا ہے کہ موجودہ عالمی نظام مفلوج ہو چکے ہیں اور بحرانوں کو حل کرنے کے قابل نہیں رہے۔ دوسروں کے تیار کردہ تصورات کے مطابق اور دوسروں کی بنائی ہوئی حدود کے اندر رہ کر پالیسی بنانے کا دور ختم ہو چکا ہے۔
فیدان نے کہا ہے کہ "ایک ایسے ماحول میں کہ جب بین الاقوامی نظام ناکارہ اور حل میکانزم مفلوج ہو چُکے ہیں، ہمیں بذات خود اور اپنے سفارتی اوزاروں کے ذریعے امن، استحکام اور خوشحالی کی تعمیر کرنا چاہیے"۔
عالمی منظرنامے کی بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فیدان نے کہا ہےکہ سفارت کاروں کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ انہیں معیاری معلومات کو غلط معلومات سے الگ کرنے اور بین الاقوامی دارالحکومتوں میں پسِ پردہ حقیقی مفہوم کو سمجھنے کا فریضہ سونپا جاتا ہے"۔
انہوں نے ترکیہ کی فعال اور کثیرالجہتی خارجہ پالیسی کو اجاگر کیا اور کہا ہے کہ انقرہ نے، صرف بحرانوں کو ردعمل پیش کرنے والے ہی نہیں نظام کو شکل دینے والے ایک علاقائی و عالمی کھلاڑی کی حیثیت سے بھی اپنے کردار کو تقویت دی ہے"۔
فیدان نے کہا ہے کہ "ہم، اپنے خطّے میں سلامتی و امن کے معمار، علاقائی و عالمی سطح پر ترتیب و توازن کو شکل عطا کرنے والے، بین الاقوامی تجارت میں اپنے حصّے اور رقابت میں اضافہ کرنے والے اور بین الاقوامی نظام میں اپنے سے مخصوص سیاسی و ثقافتی کردار ادا کر سکنے کے اہل ایک معّزز اور قائد ترکیہ کی تعمیر کر رہے ہیں"۔
ترکی کی فعال سفارت کاری
فیدان نے غزہ، روس۔یوکرین جنگ اور شام جیسے اہم علاقائی و عالمی مسائل پر ترکیہ کی سفارتی کوششوں کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی اور کہا ہے کہ ترکیہ، اپنے اصولی نقطہ نظر کے ساتھ، غزہ میں جنگ بندی کے حصول کی کوششوں میں پیش رفت کی رہنمائی کو اور دو ریاستی حل کے حامی موقف کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہےکہ "اس وقت اگر دو ریاستی حل مغربی دارالحکومتوں میں بھی قبولیت حاصل کر رہا ہے تو یہ بڑی حد تک ہماری سفارت کاری کے مستقل اور اصولی موقف کی بدولت ہے"۔
روس۔یوکرین جنگ کے بارے میں فیدان نے کہا ہے کہ ترکیہ نے ہمیشہ بذریعہ سفارت کاری منصفانہ امن کے لیے مستقل مزاجی سے کام کیا ہے۔ استنبول وہ واحد پلیٹ فارم ہے جہاں فریقین تکنیکی سطح پر اب بھی ملاقات کر سکتے ہیں۔
فیدان نے کہا ہےکہ 'جنگ کے پہلے دن سے ہمارا اصول واضح رہا ہے: جنگ کا کوئی فاتح نہیں ہوتا، اور منصفانہ امن کا کوئی ہارنے والا نہیں ہوتا۔ اسی یقین کے ساتھ ہم ایک ایسا ملک رہے ہیں جس نے مذاکراتی میز پر جنگ ختم کرنے کی سب سے زیادہ مؤثر کوشش کی ہے۔'
شام کے حوالے سے انہوں نے کہا ہے کہ ترکیہ نے انسانی وقار کو فوقیت دے کر 'تاریخ کی برحق طرف میں رہنے کا انتخاب کیا۔ چاہے اس کے بھاری سیاسی اور معاشی بدل ہی کیوں نہ ہوں۔ انقرہ ایک مستحکم شام کی حمایت جاری رکھے گا۔
فیدان نے کہا ہےکہ "ہمیں یقین ہے کہ غیر ملکی مداخلتوں سے پاک ایک مستحکم شام ہمارے خطے کے لیے اضافی فائدہ ثابت ہوگا۔ترکیہ ثابت قدمی کے ساتھ دوست اور برادر شامی عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا"۔
فیدان نے عالمی نظام اور خاص طور پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا اور کہا ہے کہ" اپنے سے مخصوص اور تخلیقی حل پیدا کرنے کے اہل ممالک ان نظامی رکاوٹوں کے حل میں سرفہرست رہیں گے"۔














