سیاست
2 منٹ پڑھنے
کشمیر میں شہداء کے دن کی تقریب پر چھاپا: بھارت نے کشمیر میں آواز کو دبا دیا
سیکورٹی لاک ڈاؤن عوام اور سیاسی رہنماؤں کو 1931 کے بغاوت کی یاد میں آیا کرنے سے روک رہا ہے، جبکہ مخالفین اس اقدام کو جمہوری حقوق پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔
کشمیر میں شہداء کے دن کی تقریب پر چھاپا: بھارت نے کشمیر میں آواز کو دبا دیا
Police block roads in Srinagar to prevent Kashmiris from entering the Martyrs’ Graveyard to commemorate the 1931 anti-colonial uprising. (Photo: AP) / AP
13 جولائی 2025

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حکام نے، کشمیری سیاسی رہنماوں اور عوام کو 1931 کی نوآبادیت مخالف تحریک کی سالانہ یاد منانے سے روکنے کے لئے، سری نگر کے ایک تاریخی قبرستان کی طرف جانے والے تمام اہم راستے بند کر دیئے ہیں ۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اتوار کے روز شہر بھر میں صبح سویرے بھاری پولیس نفری  اور نیم فوجی دستے تعینات کر دیئے گئے۔ خواجہ بازار کے داخلی راستےبھی، کہ  جہاں 1931 کی تحریک کے دوران شہید کئے گئے  22 کشمیریوں کی قبریں  ہیں، صرف سرکاری اور سکیورٹی گاڑیوں کے لیے کھلے تھے۔

معروف کشمیری شخصیات، بشمول سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، نے کہا ہے کہ انہیں نظر بند کر دیا گیا ہے۔

عمر عبداللہ نے ایکس پر جاری کردہ بیان   میں کہا ہے کہ "گھروں کو باہر سے بند کر دیا گیا ہے، پولیس اور مرکزی فورسز جیلر کے طور پر تعینات ہیں، اور سری نگر کے اہم پُل بند کر دیے گئے ہیں۔"

"یہ سب کچھ لوگوں کو ایک تاریخی اہمیت کے حامل قبرستان میں جانے سے روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔ میں کبھی نہیں سمجھ سکوں گا کہ قانون اور حکومت کو کس چیز کا اتنا خوف ہے۔"

https://trt.global/world/article/f1f242893249

جمہوری حقوق پر کریک ڈاؤن اور حملہ

یہ کریک ڈاؤن 2019 میں نئی دہلی کی جانب سے جموں و کشمیر کی نیم خودمختار حیثیت ختم کرنے کے بعد خطے کے سیاسی ماحول پر بڑھتی ہوئی تنقید کے درمیان سامنے آیا ہے۔

2020 تک، 13 جولائی کو یومِ شہدائے کشمیر کے طور پر منایا جاتا تھا اور اس دن عام تعطیل ہوتی تھی۔ یہ دن  ڈوگرہ مہاراجہ کے دور حکومت میں برطانوی نوآبادیاتی حکمرانی کے تحت 22 مظاہرین کی شہادت کی یادگار ہے۔

نیشنل کانفرنس پارٹی نے کہا ہے کہ اس سال  اس نے قبرستان کی زیارت  کی باضابطہ اجازت طلب کی تھی لیکن ضلعی انتظامیہ نے اسے مسترد کر دیا ہے۔

سری نگر پولیس نے ایکس سے جاری کردہ  عوامی مشورے میں   تصدیق کی ہے کہ تمام ایسی درخواستیں مسترد کر دی گئی ہیں اور خبردار کیا ہے کہ "کسی بھی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔"

نیشنل کانفرنس کے ترجمان تنویر صادق نے کہا ہے کہ "یہ صرف ایک تاریخ نہیں ہےیہ قربانی، وقار، اور انصاف کے لیے جدوجہد کی یاد دہانی ہے۔"

"ہم اپنے شہداء کو پرامن، باوقار اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ یاد کرتے رہیں گے۔"

https://trt.global/world/article/6da5953bd107

دریافت کیجیے
ٹرمپ، ایران کے ساتھ مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں: روبیو
روس نے برکس کے فوجی اتحاد میں تبدیل ہونے کا دعوی مسترد کر دیا
امینہ ایردوان نے7 ویں TRT ورلڈ سٹیزن ایوارڈز میں عالمی تبدیلیوں کی نمایاں شخصیات کو اعزازات سے نوازا
ارندھتی رائے نے غزہ میں نسل کشی کے بیانات پر احتجاج میں برلن فلم فیسٹیول سے کنارہ کشی کر لی
امریکہ  نے یمنیوں کے لیے دہائی پرانی عارضی تحفظ کی حیثیت ختم کردی
صدر ایردوان کی عراقی وزیر اعظم السودانی کے ساتھ تجارت اور دہشت گردی کے خلاف تعاون پر بات چیت
مانچسٹر یونائیٹڈ کے شریک مالک نے برطانیہ میں 'مہاجرین کی آبادی' کے دعوے پر معذرت کی
ترکیہ، شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کے ساتھ نئے اقتصادی معاہدے طے کریں گے
روس کا یوکرین پر مزید حملہ،1 شخص ہلاک 6 زخمی
امریکی طیارہ بردار جہاز مشرق وسطی کی طرف روانہ کر دیا گیا
ایران سے معاہدہ نہ ہوا تو نتیجہ برا نکلے گا:ٹرمپ
سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان بڑھتے دفاعی تعلقات
میونخ کانفرنس کا آغاز،عالمی بحرانوں پر غور کا امکان
صدر ایردوان کی مسلم ممالک میں مضبوط ٹرانسپورٹ انضمام کی اپیل
امریکی انخلا کے بعد اہم الطنف بیس پر شامی فوج متعین ہو گئی