سیاست
2 منٹ پڑھنے
استنبول میں ایک اہم اجلاس: امریکی اور روسی وفود مذاکراتی میز پر
ماسکو اور واشنگٹن کے مطابق، مذاکرات کا مرکزِ توجہ کئی سالہ تنازعات کے بعد سفارتی مشنوں کا کام دوبارہ سے بحال کرنا ہے۔
استنبول میں ایک اہم اجلاس: امریکی اور روسی وفود مذاکراتی میز پر
2nd round of Russia-US talks has started in Istanbul / AA

امریکہ اور روس کے درمیان دوسرا  مذاکراتی دور  استنبول میں شروع ہو گیا ہے۔

امریکی وفد بروز جمعرات  صبح 9 بج کر 45 منٹ پر   استنبول میں روسی قونصل جنرل  دفتر پہنچا اور دونوں ممالک  کے سفارت خانوں کی کارروائیوں کو معمول پر لانے کے موضوع پر مذاکرات میں شرکت کی۔

امریکہ وزارتِ خارجہ کی ترجمان 'ٹیمی بروس 'نے منگل کے روز جاری کردہ بیان میں  کہا  تھا کہ دونوں وفود "دوطرفہ سفارتی مشنوں کی  کاروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے موضوع پر بات چیت کے لئے"  استنبول میں متوقع  دوسرے مذاکراتی دور میں شرکت  کریں گے ۔

بروس نے کہا تھا کہ "ایجنڈے میں سیاسی یا سکیورٹی مسائل شامل نہیں ہیں۔ علاوہ ازیں یوکرین سے متعلقہ معاملات بالکل بھی ایجنڈے کا حصہ نہیں ہیں"۔

مذاکرات، استنبول میں روسی قونصل جنرل کی رہائش گاہ پر جاری ہیں اور توقع ہے کہ چند گھنٹوں تک جاری رہیں گے۔ تاہم  یہ پچھلے مذاکراتی دور کی طرح  چھ گھنٹے   طویل نہیں ہوں گے۔

روس کے مذاکراتی  وفد کی قیادت امریکہ میں روس کے سفیر 'الیگزینڈر درچیف' کریں گے، امریکی وفد کی قیادت ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری 'سوناتا کولٹر 'کریں گی۔

ملاقات سے قبل، درچیف نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے  کہ کئی معاملات پر پہلے ہی کچھ پیش رفت ہو چکی ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں ماسکو اور واشنگٹن دونوں  ہی،سفیروں کی اسنادِ اعتماد کی وصولی  میں دشواریوں  اور اس  تعطل کی وجہ سے امورِ سفارت خانہ کے متاثر ہونے  سے، مضطرب  ہیں۔

روسی فریق  نے کہا ہے کہ مغربی پابندیوں کی وجہ سے سفارت کاروں کو تنخواہوں کی ادائیگی تکنا بھی مشکل ہو گئی ہے۔ دوسری طرف امریکی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ روس میں ان کی نقل و حرکت محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ دونوں فریقین نے دو طرفہ دھمکیوں کی شکایت کر رہے ہیں۔

مذاکرات کے سرفہرست موضوعات میں سے ایک "سفارتی جائیداد" ہے۔

واشنگٹن نے روس کی چھ جائیدادوں پر پابندیاں عائد کی ہیں، جن میں لانگ آئی لینڈ پر واقع کلین ورتھ اسٹیٹ، میری لینڈ میں پاینیر پوائنٹ "ڈاچا"، سان فرانسسکو اور سیئٹل میں روسی قونصل خانے، اور واشنگٹن اور نیویارک میں تجارتی نمائندہ دفاتر شامل ہیں۔

دریافت کیجیے
ٹرمپ: ہم ایردوان کے ساتھ ایف-35 کے معاملے پر بات کریں گے
ترک وزیر خارجہ فیدان: یورپی سلامتی کو یورپی یونین تک محدود نہیں کیا جا سکتا
فیدان  کے انقرہ میں نیٹو سمٹ سے قبل امریکی سینیٹرز سے مذاکرات
یورپ انقرہ میں نیٹو اجلاس کو ٹرمپ کو اجتماعی دفاع میں اپنی دلچسپی دکھانے کا ،مظاہرہ کرے گا: جرمنی
انقرہ میں نیٹو سمٹ سے قبل پوتن اور ٹرمپ کی یوکرین کے معاملے پر بات چیت
اسرائیل حکومت اپنی بگڑتی ساکھ کو بچانے کے لیے نئے دشمن کی متلاشی ہے، ترک وزیر خارجہ
روس اور امریکہ پر  عظیم جوہری طاقتیں ہونے کے ناطے عالمی سلامتی کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، پوتن
ایردوان اور میلونی نے انقرہ نیٹو سمٹ سے قبل دفاعی روابط پر بات چیت کی
یوکرین سے ایران تک: نیٹو انقرہ سمٹ میں زیر غور آنے والے ممکنہ موضوعات کا جائزہ
نیٹو سیکریٹری جنرل: "ترکیہ میثاق کی سب سے طاقتور افواج میں سے ایک ہے"
امریکہ نے اسرائیل اور لبنان امن  معاہدے کے فریم کی تفصیلات جاری کر دیں
میلونی: ٹرمپ کے تبصروں سے مجھے ' سخت حیرانگی' ہوئی ہے
امریکہ اور ایران نے سوئٹزرلینڈ میں اعلی سطحی مذاکرات مکمل کر لیے ہیں، ثالث ممالک
وٹکوف اور عراقچی اسرائیل کے لبنان پر قبضے کے دوران سویٹزرلینڈ میں مذاکرات کے لیے جا رہے ہیں
ممکن ہے کہ نیتن یاہو ٹرمپ کے ایران امن معاہدے کو خطرے میں ڈال دے: امریکی انٹیلی جنس
امریکہ اور ایران کے درمیان مقرر کردہ مذاکرات میں تاخیر
امریکہ-ایران معاہدے سے متعلق تیکنیکی مسائل تا حال حل نہیں ہوئے: ترک وزیر خارجہ
2022 کا استنبول یوکرین معاہدہ مغربی مداخلت کی وجہ سے بگڑا، روس کا دعوٰی
امریکہ-ایران امن معاہدے کے باوجوداسرائیلی فوج لبنان میں طویل المدت قبضے کی تیاری کر رہی ہے — رپورٹ
لبنان میں جنگ کا خاتمہ ایران کی جنگ کے خاتمے کے لیے 'لازمی شرط' ہے: وزیر خارجہ عراقچی