دنیا
7 منٹ پڑھنے
ٹرمپ نے 28 نکاتی منصوبہ پیش کر دیا
روس۔ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 28 نکاتی مسودہ تجویز کیف کے حکام کو  پیش کر دی گئی
ٹرمپ نے 28 نکاتی منصوبہ پیش کر دیا
کیف کو مشکل فیصلوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ امریکہ روس کے ساتھ جنگ ​​ختم کرنے کے لیے ایک امن منصوبہ تشکیل دے رہا ہے۔ تصویر: ٹی آر ٹی ورلڈ / TRT World
21 نومبر 2025

روس۔ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 28 نکاتی مسودہ تجویز کیف کے حکام کو  پیش کر دی گئی ہے۔

اس مسودہ تجویز پر واشنگٹن اور ماسکو نےمل کر کام کیا ہے  اور، یوکرین کی اپنے علاقوں سے دستبرداری، نیٹو میں شمولیت سے اجتناب اور دیگر مشابہہ شقوں  کی وجہ سے، روس کے لیے زیادہ موافق شرائط پیش کرتی ہے ۔

ٹرمپ کی تجویز لفظ بہ لفظ درج ذیل  ہے:

1۔ یوکرین کی خودمختاری کی تصدیق کی جائے گی۔

2۔ روس، یوکرین اور یورپ کے درمیان ایک جامع اورجارحیت سے پاک معاہدہ طے کیا جائے گا۔  اس طرح گذشتہ 30 سالوں کے تمام ابہامات کو حل شدہ سمجھا جائے گا۔

3۔ روس پڑوسی ممالک پر حملہ نہیں کرے گا اور نیٹو مزید توسیع نہیں کرے گا۔

4۔ سلامتی کے مسائل حل  کرنے اور کشیدگی میں کمی کے حالات پیدا کرنے کے لئےامریکہ کے زیرِ ثالثی  روس۔ نیٹو  مذاکراتی عمل طے پائے  گا ۔ اس طرح عالمی سلامتی کے لیے مواقع اور مستقبل میں اقتصادی تعاون کے امکانات میں اضافہ ہو گا۔

5۔ یوکرین کو قابلِ یقین سکیورٹی ضمانتیں فراہم کی جائیں گی۔

6۔ یوکرین مسلح افواج کی نفری  کو 600,000 اہلکاروں تک محدود کیا جائے گا۔

7۔ یوکرین اپنے آئین میں، نیٹو میں شمولیت سے اجتناب کی،  شق اور نیٹو اپنے قوانین میں،مستقبل میں یوکرین کے لئے رکنیت کی ممانعت کی، شق درج کرے گا۔

8۔ نیٹو ، یوکرین میں فوجی دستے تعینات نہ کرنے پر اتفاق کرے گا۔

9۔ یورپی لڑاکا طیارے پولینڈ میں تعینات کیے جائیں گے۔

10۔ امریکہ کی ضمانت:

— امریکہ اس ضمانت کا معاوضہ وصول کرے گا۔

— اگر یوکرین نے روس پر حملہ کیا تو اسے دی گئی  ضمانت ختم ہو جائے گی۔

— اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو فیصلہ کن مشترکہ عسکری ردِعمل کے علاوہ تمام عالمی پابندیاں دوبارہ نافذ کر دی جائیں گی، نئے علاقے کو تسلیم کرنے اور اس معاہدے کے فراہم کردہ   دیگر تمام فوائد منسوخ کر دیے جائیں گے۔

— اگر یوکرین کسی نامعقول وجہ سے ماسکو یا سینٹ پیٹرزبرگ پر میزائل فائر کرتا ہے  تو اس کو دی گئی سکیورٹی ضمانت غیر موثر سمجھی جائے گی۔

11۔ یوکرین، یورپی یونین  رکنیت کا اہل شمار کیا جائے گا اور اس مسئلے پر غور کے دوران مختصر مدت کے لیے یورپی بازار تک رسائی حاصل کرے گا۔

12۔ یوکرین کی تعمیرِ نو کے لیے ایک طاقتور عالمی تدبیری  پیکج تشکیل دیا جائے گاجو بوقتِ ضرورت اضافے کی صلاحیت کے ساتھ مندرجہ ذیل شکل میں ہو گا:

— ملک میں ٹیکنالوجی، ڈیٹا سینٹروں اور مصنوعی ذہانت سمیت تیزی سے ترقی کرنے والی صنعتوں میں سرمایہ کاری کے لئےا یک 'یوکرین ترقیاتی فنڈ'  قائم کیا جائے گا۔

—امریکہ، ملک میں پائپ لائنوں اور ذخیرے کی سہولیات کی خاطر گیس انفراسٹرکچر کی بحالی، ترقی، جدید کاری اور آپریشن میں تعاون کے لئے یوکرین کے ساتھ تعاون  کرے گا۔

— جنگ سے متاثرہ علاقوں کی بحالی، تعمیرِ نو اور جدید کاری کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی

— بنیادی ڈھانچے کو ترقی دی جائے گی

— معدنیات اور قدرتی وسائل کو نکالا جائے گا

— عالمی بینک تیز رفتار اقدامات کے لیے ایک خصوصی مالیاتی پیکیج تیار کرے گا۔

13۔ روس کو دوبارہ عالمی معیشت میں ضم کیا جائے گا:

—مرحلہ واراور موضوع بہ موضوع  شکل میں مذاکراتی عمل کے بعد پابندیوں کے خاتمے پر اتفاق کیا جائے گا؛

— ریاست ہائے متحدہ امریکہ توانائی، قدرتی وسائل، انفراسٹرکچر، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سینٹروں، آرکٹک میں نایاب دھاتوں کے کان کُنی منصوبوں اورمفادِ باہمی کے  دیگر اداراتی  مواقع میں باہمی ترقی کے لیے طویل مدتی اقتصادی تعاون کا معاہدہ کرے گا؛

— روس کو دوبارہ جی-8 میں شامل ہونے کی دعوت دی جائے گی۔

14۔منجمد اثاثے درج ذیل طریقے سے استعمال کیے جائیں گے:

امریکی زیرِ قیادت کوششوں میں 100 بلین  ڈالر مالیت کےمنجمد روسی اثاثوں کو یوکرین کی تعمیر و سرمایہ کاری میں لگایا جائے گا؛

— اس منصوبے کے منافع کا 50٪ حصہ امریکہ کو دیا جائے گا۔ یورپ یوکرین کی تعمیر کے لیے دستیاب سرمائے میں اضافے کے لئے مزید 100 بلین ڈالر شامل کرے گا۔ یورپی منجمد اثاثوں کو پابندی  سے آزاد کیا جائے گا۔

— باقی ماندہ منجمد روسی اثاثوں کو ایک علیحدہ امریکی-روسی سرمایہ کاری ادارے میں لگا کر مخصوص شعبوں میں مشترکہ منصوبے عمل میں لائے جائیں گے۔ یہ فنڈ ، دوبارہ جنگ کے خطرے کو ختم کرنے کے لئے،تعلقات کو مضبوط بنانے اور مشترکہ مفادات بڑھانے کے لیے ایک مضبوط ترغیب مہیا کرے گا ۔

15۔ ایک مشترکہ امریکی-روسی ورکنگ گروپ برائے سلامتی معاملات قائم کیا جائے گا تاکہ اس معاہدے کی تمام شقوں کی تعمیل کو فروغ اور ضمانت دی جا سکے۔

16۔روس اپنے قانون میں یورپ اور یوکرین کے خلاف عدمِ جارحیت کی پالیسی کو درج کرے گا۔

17۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور روس ایٹمی ہتھیاروں کی عدمِ پھیلاؤ اور کنٹرول کے معاہدوں کی معیاد میں توسیع پر متفق ہوں گے، بشمول START I معاہدہ۔

18۔ یوکرین عدمِ ایٹمی ریاست رہنے پر متفق ہوگا، جیسا کہ ایٹمی ہتھیاروں کی عدمِ پھیلاؤ کے معاہدے میں درج ہے۔

19۔ زاپوریزھیا ایٹمی پاور پلانٹ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی میں دوبارہ چلایا جائے گا، اور پیدا ہونے والی بجلی روس اور یوکرین کے درمیان مساوی طور پر 50:50 تقسیم کی جائے گی۔

20۔ دونوں ممالک اسکولوں اور سماج میں ایسے تعلیمی پروگرام نافذ کرنے کے پابند ہوں گے جو مختلف ثقافتوں کی سمجھ، رواداری اور نسل پرستی و تعصبات کے خاتمے کو فروغ دیں:

— یوکرین یورپی یونین کے مذہبی رواداری اور لسانی اقلیتوں کے تحفظ کے قواعد اپنائے گا؛

— دونوں ممالک تمام امتیازی پابندیوں کو ختم کرنے اور یوکرینی اور روسی ذرائعِ ابلاغ اور تعلیمی حقوق کی ضمانت دینے پر متفق ہوں گے؛

— تمام نازی نظریات اور سرگرمیاں مسترد اور ممنوع قرار دی جائیں گی۔

21۔ علاقے:

— کریمیا، لوہانسک اور دونتسک کو امریکہ سمیت سب کی طرف سے عملی طور پر روسی تسلیم کیا جائے گا ؛

— خیِرسن اور زاپوریزھیا کو رابطہ لائن کے طولِ اضلاع کے مطابق منجمد رہنے دیا جائے گا اور یہ چیز رابطہ لائن کے عملی طور پر تسلیم کرنے کا مفہوم رکھے گی؛

— روس ان پانچ خطوں کے علاوہ وہ دیگر ضلعی علاقے جن پر اسے متفقہ طور پر کنٹرول حاصل ہے، واپس کرے گا؛

— یوکرینی افواج اس دونتسک اوبلست کے اس حصے سے واپس چلی جائیں گی جو وہ فی الحال کنٹرول کر رہی ہیں، اور یہ واپسی زون ایک غیر جانبدار غیر عسکریتی بفر زون قرار دیا جائے گا، جسے بین الاقوامی سطح پر روسی فیڈریشن کا علاقہ تسلیم کیا جائے گا۔ روسی افواج اس غیر  عسکری زون میں داخل نہیں ہوں گی۔

22۔ مستقبل کے علاقائی انتظامات پر متفق ہونے کے بعد، روس فیڈریشن اور یوکرین اس بات پر پابند ہوں گے کہ وہ ان انتظامات کو طاقت کے ذریعے تبدیل نہیں کریں گے۔ اس وعدے کی خلاف ورزی کی صورت میں کوئی سکیورٹی گارنٹی لاگو نہیں ہوگی۔

23۔ روس یوکرین کو دنیپر دریا کے تجارتی استعمال سے منع نہیں کرے گا اور بحیرہ اسود  میں اناج کے آزادانہ نقل و حمل پر معاہدے طے کیے جائیں گے۔

24۔ایک انسانی امداد کمیٹی قائم کی جائے گی تاکہ زیرِ التواء مسائل حل کیے جائیں:

— تمام زندہ  قیدی اور لاشوں کا'سب کے بدلے سب' کے اصول کے تحت تبادلہ کیا جائے گا؛

— تمام شہری قیدی اور یرغمالی افراد، بشمول بچے، واپس کیے جائیں گے؛

— خاندانی ملاپ کا پروگرام نافذ کیا جائے گا؛

— تنازع کے متاثرین کی تکالیف کم کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔

25۔ یوکرین سو (100) دن میں انتخابات کرے گا۔

26۔ اس تنازعےمیں ملوث تمام فریقین کو جنگ کے دوران کیے گئے اعمال کے لیے مکمل معافی دی جائے گی اور وہ آئندہ کسی دعوے یا شکایت سے باز رہنے پر متفق ہوں گے۔

27۔ یہ معاہدہ قانونی طور پر پابند ہوگا۔ اس کے نفاذ کی نگرانی اور ضمانت امن کونسل کرے گی، جس کی صدارت صدر ڈونلڈ جے۔ ٹرمپ کریں گے۔ خلاف ورزیوں کی صورت میں پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

28۔جب تمام فریقین اس یادداشت پر اتفاق کر لیں گے، دونوں جانب متفقہ نکات تک پیچھے ہٹ جائیں گے اور معاہدے کے نفاذ کا آغاز کریں گے تو فوراََ جنگ بندی نافذالعمل ہو جائے گی۔