یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس-یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے ممکنہ امن فریم ورک کے سب سے حساس پہلو براہِ راست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ زیرِ بحث لائے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ"آج ہماری وفد جنیوا سے امریکی طرف اور یورپی شراکت داروں کے ساتھ مذاکرات کے بعد واپس آیا۔ اب جنگ ختم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کی فہرست قابلِ عمل بن سکتی ہے۔"
زیلنسکی نے ایک ویڈیو پیغام میں X پر کہا کہ جنیوا کے بعد، اب نکات کی تعداد کم ہوئی ہے، یہ اب 28 نہیں ہیں اور اس فریم ورک میں بہت سے درست عناصر کو مدِنظر رکھا گیا ہے،"
انہوں نے کہا کہ کسی بھی فریم ورک کو حتمی شکل دینے سے پہلے اس کا بغور جائزہ لیناہو گا۔
انہوں نے مزید کہا"ہماری ٹیم نے اقدامات کے نئے مسودے پر رپورٹ تیار کی ہے، اور یہ واقعی درست طریقہ کار ہے — میں حساس معاملات پر صدر ٹرمپ سے بات کروں گا۔"
ایک الگ پوسٹ میں، زیلنسکی نے کہا کہ شراکت داروں کے ساتھ 'مثبت پہلووں پر کام' ضروری ہے اور خبردار کیا کہ روس دباؤ جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا"ہمیں اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ روس یوکرین پر اپنے دباؤ میں نرمی نہیں کرے گا۔ ان دنوں اور ہفتوں میں فضائی حملے کی وارننگز اور اسی نوعیت کے تمام حملوں کے خطرات کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔ ہمیں واضح طور پر معلوم ہے کہ ہم کس سے نمٹ رہے ہیں۔"
انہوں نے خبردار کیا کہ ' نہیں، یوکرین اور ہمارے عوام پر کوئی بڑے پیمانے پر حملے نہیں ہونے چاہئیں۔'
یہ اُن لوگوں کے ذریعے یقینی بنایا جا سکتا ہے جو دنیا میں واقعی طاقتور ہیں۔ اور بہت کچھ امریکہ پر منحصر ہے۔ روس نے یہ جنگ شروع کی، اور اسے ہی ختم کرنا چاہیے۔ ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ مکالمے کے ذریعے اس ضمن میں ساز گار حالات پیدا کر رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے کہا کہ واشنگٹن اور کیف کے درمیان بات چیت نتیجہ خیز رہی، تاہم اعتراف کیا کہ فریقین چند نکات پر ابھی اختلاف رکھتے ہیں۔
امریکی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے فاکس نیوز کے پروگرام 'دی اسٹوری' کو بتایا کہ امریکہ اور یوکرین کے درمیان ممکنہ معاہدے پر محض 'چند نقاطِ اختلاف' باقی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اس بات کے بارے میں پر امید ہیں کہ ایک معاہدہ ممکن ہے۔
تنقید کا جواب دیتے ہوئے — جس میں ریپبلکن پارٹی کے اندر سے بھی آوازیں شامل تھیں — کہ ٹرمپ مذاکرات میں روس کا ساتھ دے رہے ہیں، لیویٹ نے ان دعوؤں کو مسترد کیا۔
انہوں نے صحافیوں سے کہا"یہ خیال کہ امریکہ اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے دونوں فریقین کے ساتھ یکساں طور پر کام نہیں کر رہا، ایک بالکل اور مکمل غلط فہمی ہے،" ۔
انہوں نے کہا کہ صدر 'پر امید اور مثبت' ہیں کہ ایک قابلِ عمل منصوبہ حتمی شکل اختیار کر سکتا ہے۔









