روس کی بااختیار سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین نے کہا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سیاسی نظام بدلنے کے اس جنونی راستے کو جاری رکھتے ہیں تو تیسری عالمی جنگ پھوٹ پڑے گی ۔
روسی سرکاری خبر ایجنسی تاس کے ساتھ ایک انٹرویو میں دمتری مید ویدیف نے واشنگٹن کے اقدامات کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے عالمی بالادستی برقرار رکھنے کی جنگ قرار دیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ٹرمپ اپنے اس پاگل پن سے بھرپور جرم کے ساتھ سیاسی نظام بدلنے کے راستے کو جاری رکھتے ہیں تو بلا شبہ جنگ شروع ہو جائے گی ۔
میدویدیف کے اندازے کے مطابق، جب سے ایران نے مقدس جنگ کا اعلان کیا ہے،مریکی اور اسرائیلی حکام کی کمزوری قابلِ ذکر حد تک بڑھ گئی ہے۔
سابق روسی صدر نے زور دے کر کہا کہ ٹرمپ نے ایک سنگین غلطی کی ہے اپنے فیصلے سے انہوں نے تمام امریکیوں کو ممکنہ خطرے میں ڈال دیا ہے ۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران اس تصادم کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ سنبھل جائیں گے مگر بحالی کی قیمت بہت زیادہ ہوگی۔
انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے اقدامات پر یورپی ممالک کے ردِ عمل کو "چاپلوسی اور گھٹیا پن" قرار دیا۔














