فرانسیسی میڈیا نے منگل کو رپورٹ کیا کہ شمالی نائجر میں ایک چوکی پر حملے میں نائجر کے کم از کم 10 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے، یہ خطہ عسکریت پسندانہ تشدد اور سرحدی اسمگلنگ سے متاثر ہے۔
ریڈیو فرانس انٹرنیشنل کی خبر کے مطابق اس حملے کے ساتھ اساماکا میں واقع ایک پولیس چوکی کو نشانہ بنایا گیا، جو الجزائر کی سرحد کے قریب ایک صحرائی قصبہ ہے اور شمال کی طرف جانے والے مغربی افریقی مہاجرین کے لیے اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔
نائجرین سکیورٹی ذرائع نے نشریاتی ادارے کو بتایا کہ مسلح حملہ آور چھ پک اپ گاڑیوں میں آئے اور چوکی پر فائر کھول دیا۔ ذرائع کے مطابق جھڑپوں کے دوران دو حملہ آور ہلاک ہو گئے۔
کسی بھی گروہ نے تاحال اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
عسکریت پسند گروپوں کے خلاف مشترکہ فورس
یہ تشدد ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نائجر، مالی اور برکینا فاسو عسکریت پسند گروپوں کے خلاف تشکیل دی گئی ایک مشترکہ فورس کے تحت سیکیورٹی تعاون کو گہرا کرنے کی کوشش میں ہیں۔
ان تینوں ممالک نے 20 دسمبر کو باضابطہ طور پر "ساحل ریاستوں کے اتحاد کی 5,000 رکنی یونٹ پر مشتمل متحدہ فورس کی داغ بیل ڈالی تھی۔ اس کا مقصد مشترکہ انسداد دہشت گردی آپریشنز انجام دینا، سرحدی سیکیورٹی مضبوط کرنا اور خفیہ معلومات کے تبادلے کو موثر بنانا ہے۔
برکینا فاسو کے جنرل داؤدا ٹراؤرے کے زیرِ کمان اس اتحادی فورس کا ہیڈ کوارٹر نیامی میں ہےاور یہ مغربی سکیورٹی شراکت داریوں اور علاقائی بلاک ECOWAS سے دوری کی سمت میں ایک تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ یہ تینوں ریاستیں اپنی مشترکہ دفاعی حکمتِ عملی اپنا رہی ہیں۔
اگرچہ حکام نے مکمل تعیناتی کا اعلان نہیں کیا، لیکن خطرات بڑھنے کی صورت میں یہ قانونی فریم ورک تیزی سے متحرک ہونے کی اجازت دیتا ہے۔ کیونکہ خطے میں حملے جاری ہیں، اس طرح کے منظرنامے کے وقوع پذیر ہونے کا امکان بڑھ رہا ہے۔










