ترکیہ میں نایاب زمینی عناصر (REEs) کے حوالے سے ملکی صلاحیت کے جائزے کی خاطر ایک اہم معدنیات اتھارٹی قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
ترکیہ یونین آف چیمبرز اینڈ کموڈیٹی ایکسچینج (TOBB) مائننگ کونسل کے چیئرمین 'ابراہیم خلیل کرسان' نے اناطولیہ خبر ایجنسی کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا ہےکہ نایاب زمینی عناصر برقی گاڑیاں (EVs)، بیٹریاں، قابل تجدید توانائی، صنعتی روبوٹ اور دفاعی صنعت سمیت مختلف شعبوں میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں اور یہ چین، امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی تنازعات کا بھی ایک بنیادی موضوع بن چکے ہیں۔
کرسان نے کہا ہےکہ REEs اور دیگر اہم معدنیات نے "ایک نئے صنعتی انقلاب" کے دوران ملکوں کی جیوپولیٹیکل ترجیحات کو بدل دیا ہے۔دنیا معدنیات کی رسد کے ایک ایسے بحران کی طرف جا رہی ہے جو 1970 کی دہائی کے تیل بحران کی مانند ہوگا۔ معدنیات دورِ حاضر کا تیل بنتی جا رہی ہیں۔"
کرسان نے کہا ہے کہ متعدد شعبوں میں ڈیجیٹلائزیشن اور الیکٹرک فیکیشن کی کوششوں کے ساتھ ساتھ صاف توانائی والی ٹیکنالوجیوں کے استعمال میں اضافے نے ترقی یافتہ ممالک کو، اہم اور اسٹریٹجک معدنیات تک رسائی کو قومی سلامتی کا مسئلہ سمجھنے پر، مجبور کر دیا ہے۔گذشتہ سال کے اعداد و شمار کے مطابق معدنی پیداوار کا تقریباً 70 فیصد چین کے کنٹرول میں ہے اور ایشیا اور یورپ کے جغرافیائی سنگم پر واقع ملک 'ترکیہ' نمایاں معدنی صلاحیت کا حامل ایک اہم ملک ہے۔
کرسان نے کہا ہےکہ ترکیہ معدنی تنّوع کے اعتبار سے 168 ممالک میں آٹھویں، ذخائر کے لحاظ سے 22 ویں اور قدر کے لحاظ سے 28 ویں نمبر پر ہے اور اسے REEs کے میدان میں "نمایاں امیدواروں" میں شمار کیا جا سکتا ہے۔فی الحال چین نایاب معدنیات کی صاف کاری میں عالمی سطح پر 90 فیصد کی اجارہ داری رکھتا ہے اور اپنی ٹیکنالوجی دیگر ممالک کے ساتھ شیئر نہیں کرتا۔ امریکہ، جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور اس ٹیکنالوجی کے مالک یورپی ممالک کے ساتھ بین الاقوامی تعاون ترکیہ کے REE ذخائر کو فعال کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔"













