وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ مشترکہ بیان کے مطابق امریکہ اور یوکرین نے جنیوا میں مذاکرات کے بعد ایک "اپ ڈیٹ شدہ اور بہتر" امن فریم ورک تیار کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ "مذاکرات نے موقف کو ہم آہنگ کرنے اور واضح اگلے اقدامات کا تعین کرنے میں بامعنی پیش رفت کا موقع دیا ہے۔ یوکرین نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ کسی بھی مستقبل کے معاہدے کو یوکرین کی خودمختاری کو مکمل طور پر برقرار رکھنا چاہیے اور ایک پائیدار اور منصفانہ امن یقینی بنانا چاہیے۔"
بیان میں مذاکرات کو "تعمیری، مرکوز اور باعزت" قرار دیا گیا اور دونوں فریقوں کی طرف سے دیرپا تصفیہ حاصل کرنے کے مشترکہ عزم کو دہرایا گیا۔ وفود نے کہا کہ مشاورتیں “کافی نتیجہ خیز” تھیں اور اپ ڈیٹ شدہ فریم ورک حالیہ ہفتوں میں ہونے والی پیش رفت کا عکاس ہے۔
امریکہ اور یوکرین نے اتوار کو نمایاں پیش رفت کی اطلاع دی، جس کے بارے میں دونوں اطراف نے جاری مذاکرات میں اب تک کی سب سے زیادہ نتیجہ خیز گفت و شنید قرار دیا۔ یہ بیان، یوکرین میں امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے تیار کردہ ایک 28 نکاتی تجویز پر جنیوا میں دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کےبعدسامنےآیا ہے۔
ان مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف نے کی۔ امریکی فوجی سیکریٹری ڈینیئل ڈرسکول بھی اس وفد کا حصہ تھے اور جنیوا میں موجود تھے۔
یوکرینی وفد کی قیادت صدارتی چیف آف اسٹاف اندری یرماک نے کی۔
ثابت قدمی کا عزم
الگ الگ طور پر، E3 ممالک — برطانیہ، فرانس اور جرمنی — کے قومی سلامتی کے مشیروں نے بھی یوکرینی وفد سے جنیوا میں ملاقاتیں کیں۔
بیان میں یوکرین نے جنگ ختم کرنے اور مزید جانی نقصان کو روکنے کی کوششوں کے لیے امریکہ اور بالخصوص صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ”ثابت قدمی“ کا شکریہ ادا کیا۔
دونوں حکومتوں نے کہا کہ وہ آنے والے ایام میں مشترکہ تجاویز پر بھرپور کام جاری رکھیں گے اور مذاکرات آگے بڑھنے کے ساتھ یورپی شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہیں گے۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ابھرتے فریم ورک کے تحت حتمی فیصلے امریکہ اور یوکرین کے صدور کریں گے۔
دونوں فریقین نے یوکرین کی "حفاظت، استحکام، اور دوبارہ تعمیر" کو یقینی بنانے والے امن کے حصول کے لیے مل کر کام جاری رکھنے کا اعادہ کیا ، جس سے واضح اشارہ ملا کہ عمل اب ایک اگلے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے اور باقی اختلافات کو کم کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق 28 نکاتی تجویز میں یوکرین سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ روس کو مزید علاقے سونپ دے، اپنی فوج کے سائز کو محدود کرے، اور نیٹو میں شمولیت کی کوشش کو رسمی طور پر ترک کر دے۔ ٹرمپ نے اپنے یوکرینی ہم منصب وولودیمیر زیلنسکی کو جمعرات تک جواب دینے کی مہلت دی تھی۔
زیلنسکی نے کہا کہ انہیں ایک سخت انتخاب کا سامنا ہے، یعنی"ہماری عزت کو زد لگانا یا ایک اہم شراکت دار کھونے کا خطرہ۔"
نیا روسی حملہ
دریں اثنا، شہر کے میئر نے اطلاع دی ہے کہ روسی ڈرون حملے میں یوکرینی شہر خَرکیف میں چار افراد ہلاک اور 17 کو زخمی ہو گئے۔
میئر ایگور ٹیرخوف نے ٹیلیگرام پیغام میں شام کے اس حملے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا، “اس وقت 17 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ چار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔”
خارکیف ریجن کے عسکری انتظامیہ کے سربراہ اولیگ سینیگوبوف نے اس حملے کو "وسیع پیمانے کا" قرار دیا۔








