منگل کو دو سینئر امریکی قانون سازوں نے کانگریس سے مطالبہ کیا کہ وہ شام پر عائد سیزر پابندیوں کو منسوخ کرے، جب کہ سالانہ دفاعی بل سینٹ میں رائے دہی کا منتظر ہے۔
سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ تعلقات میں ڈیموکریٹ کے رکن سینیٹر جین شاہین اور رپ جو ولسن، جو ایک ریپبلکن ہیں، نے یہ باتیں میگزین فارن پالیسی میں شائع ایک مقالے میں کی ہیں۔ یہ رائے 2026 کے نیشنل ڈیفنس آتھورائزیشن ایکٹ (NDAA) پر متوقع سینیٹ ووٹنگ کے پیشِ نظر دی گئی۔
اس بل میں ایک شق شامل ہے جو سیزر پروٹیکشن ایکٹ کے تحت عائد کی گئی پابندیوں کو منسوخ کرنے کی اجازت دیتی ہے۔
انہوں نے لکھا، “یہ پابندیاں اسد کے سابقہ متاثرین کے لک کو سزا دے رہی ہیں، یہ متاثرین اپنی روزہ مرہ کی زندگیوں کو لوٹنے کی کوشش میں ہیں۔ اگر ہم متبادل راستہ اختیار نہ کریں تو شام کا کرب اور اس کے عوام کی کٹھن جدوجہد سے حاصل کردہ ترقی ضائع ہو سکتی ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ ملکی بحالی کے لیے درکار سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کے لیے وقتی چھوٹ کافی نہیں ۔
انہوں نے کہا، “کسی بھی طرح کی مفلوج کر دینے والی پابندیوں کو منسوخ کرنے سے شامیوں کو وہ صلاحیتیں پیدا کرنے میں مدد ملے گی جن کے ذریعے وہ ہمارے بے شمار مطالبات پورے کر سکیں گے، مثلاً کیمیائی ہتھیاروں کو تلاش کر کے تباہ کرنا، غیرقانونی منشیات کے کاروبار کو روکنا، اسلامی انتہا پسندی کو ختم کرنا، اور تمام شامی شہریوں کو برابر طور پر تحفظ فراہم کرنے کے طریقے تیار کرنا وغیرہ۔"
امریکی ایوانِ نمائندگان نے گزشتہ ہفتے 901 ارب ڈالر کے NDAA کی منظوری دی، جس میں سیزر پابندیوں کی مکمل منسوخی شامل ہے، اور اسے سینیٹ کو بھیج دیا گیا ہے ۔
اگر سینیٹ نے اسے منظور کر دیا تو توقع ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسے قانون بنانے کے لیے دستخط کر دیں گے۔












