چین کے صدر شی جن پنگ نے سرکاری دورے پر چین میں موجود فن لینڈ کے وزیرِ اعظم 'پیٹری اورپو' کے ساتھ ملاقات کی اور کہا ہے کہ بیجنگ، ہیلنسکی کے ساتھ مل کر کام کرنے پر تیار ہے۔
چین کی سرکاری خبر ایجنسی شن ہوا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے آج بروز منگل فن لینڈ کے وزیر اعظم 'پیٹری اورپو' سے ملاقات میں کہا ہے کہ بیجنگ، اقوامِ متحدہ کی مرکزیت والے بین الاقوامی نظام کے دفاع اور اقتصادی عالمگیریت کی بنیاد پر ایک کثیرالقطبی دنیا کو فروغ دینے کے لیے ہیلنسکی کے ساتھ مل کر کام کرنے پر تیار ہے۔
شی نے کہا ہے کہ بیجنگ امید کرتا ہے کہ فن لینڈ، چین۔یورپی یونین تعلقات کی صحت مند اور مستحکم ترقی کے فروغ میں تعمیری کردار ادا کرے گا۔
اورپو کا دورہ چین ایک ایسے وقت میں ہوا ہے کہ جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر مستحکم خارجہ پالیسی اور اتحادیوں کے ساتھ ٹکراؤ پسند رویے نے یورپی ممالک کو اپنے خارجہ تعلقات متنّوع بنانے کی طرف راغب کر دیا ہے۔
گذشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ کے قصبے ڈاؤوس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم کے دوران آرکٹک سیکورٹی پر توجہ میں اضافہ، ٹرمپ کی طرف سے گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکی اور علاقے میں چین اور روس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی بات کو بھی دورے کے پس منظر میں اہم مقام حاصل ہے۔
اگرچہ ٹرمپ کےاس بیان کے بعد کہ امریکہ نے ڈینش علاقے تک مستقل رسائی یقینی بنا لی ہے، دھمکیوں میں نرمی آ گئی ہے لیکن قطب شمالی کا تحفظ فن لینڈ ، اس کے نیٹو اتحادیوں اور چین کے لئے ایک مستقل بڑھتا ہوا اسٹریٹجک مسئلہ بنا ہوا ہے۔
آرکٹک، بین الاقوامی تجارت کے لیے، تیزی سے اہم ہو رہا ہے کیونکہ کم ہوتی برف نئے اور زیادہ موزوں سمندری راستے کھول رہی ہے۔ یہ سمندری راستے ایشیا اور یورپ کے درمیان سفر کے اوقات کو تقریباً نصف حد تک کر دیں گے۔
واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے ڈاؤوس اجلاس سے خطاب میں فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب نے مطالبہ کیا تھا کہ نیٹو، جولائی کی سربراہی کانفرنس میں، گذشتہ سال دفاعی اخراجات میں اضافے کی یقین دہانی کروانے سے مشابہہ شکل میں، قطب شمالی کے دفاعی معاہدے کو بھی قبول کرے۔












