سیاست
3 منٹ پڑھنے
آسٹریلیا اور انڈونیشیا کے درمیان ایشیا۔ پیسیفک تناؤ کے وقت سیکیورٹی معاہدے پر دستخط
نئے معاہدے کے تحت آسٹریلیا اور انڈونیشیا ایک دوسرے کے ساتھ سیکیورٹی سے متعلق امور پر ملکی رہنماوں اور وزارتی سطح پر باقاعدگی سے مشاورت کریں گے۔
آسٹریلیا اور انڈونیشیا کے درمیان ایشیا۔ پیسیفک تناؤ کے وقت سیکیورٹی معاہدے پر دستخط
Indonesian President Subianto speaks next to Australian PM Albanese during a press conference in Sydney, Australia, November 12 2025. / Reuters

آسٹریلیا اور انڈونیشیا نے ایک نئے سیکیورٹی معاہدے پر اتفاق کیا ہے، جس میں فوجی تعاون کے قریبی پہلو شامل ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے بدھ کو سڈنی میں مذاکرات کے بعد کہا۔

کینبرا طویل عرصے سے ساتھی واشنگٹن کے اور بھی قریب آ گیا ہے اور اپنے فوجی وسائل کو مضبوط کر رہا ہے تاکہ ایشیا پیسفک خطے میں ابھرتی ہوئی چین کی طاقت کے سامنے مزاحمت قائم کی جا سکے۔

جکارتہ نے ایک نسبتاً غیر جانبدار راستہ اپنایا ہے، واشنگٹن کے بہت زیادہ قریب آنے کے دوران محتاط رہتے ہوئے اور بیجنگ کو چھیڑنے کے لیے کہیں کم خواہاں۔

آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز نے صدر پرابوو سو بیانتو کے ساتھ سڈنی میں رائل آسٹریلین نیوی بیس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے "ہماری مشترکہ سلامتی پر ایک نئے دوطرفہ معاہدے پر باضابطہ مذاکرات ابھی ختم کیے ہیں۔"

البانیزے نے صحافیوں کو بتایا کہ"یہ معاہدہ دونوں ممالک کا یہ اعتراف ہے کہ امن و استحکام کو یقینی بنانے کا بہترین طریقہ ایک ساتھ عمل کرنا ہے۔"

آسٹریلوی رہنماء نے کہا کہ وہ آنے والے برسوں میں انڈونیشیا کا دورہ کر کے نئے معاہدے پر دستخط کرنے کی امید رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ 2024 میں دستخط شدہ دوطرفہ دفاعی معاہدے کی بنیاد پر ہے، جس نے متنازعہ ایشیا پیسفک خطے میں قریبی تعاون کا وعدہ کیا تھا اور ہر ملک کی فوج کو دوسرے ملک میں آپریشن کرنے کے بندوبست شامل تھے۔

2024 کے معاہدے کے دستخط کے چند ماہ بعد ہزاروں انڈونیشیائی اور آسٹریلوی فوجیوں نے مشرقی جاوا میں مشترکہ مشقیں کی تھیں۔

ابھرتے ہوئے خطرات

البانیزنے کہا کہ نئے معاہدے کے تحت آسٹریلیا اور انڈونیشیا "رہنماؤں اور وزارت کی سطح پر باقاعدگی سے سلامتی کے معاملات پر مشاورت کرنے" کے پابند ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ "باہمی مفاد کے حامل سکیورٹی سرگرمیوں کو سہل بنائے گا، اور اگر کسی یا دونوں ملکوں کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو تو مشاورت کر کے یہ سوچا جائے گا کہ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے انفرادی یا مشترکہ طور پر کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔"

پرابوو نے کہا کہ اس معاہدے سے دونوں ممالک دفاع اور سکیورٹی کے شعبے میں "قریب تعاون" کے پابند ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ"ہم اپنے پڑوسی کا انتخاب نہیں کر سکتے... خاص طور پر ہمارے جیسے ممالک،" پرابوو نے مزید کہا، "اچھے پڑوسی مشکل وقت میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔"

آسٹریلیا امید کرتا ہے کہ وہ انڈونیشیا کے ساتھ قریبی تعلقات کو مضبوط کرے کیونکہ خطہ چین اور امریکہ کے درمیان رسہ کشی سے متاثر ہو رہا ہے۔

انڈونیشیا اور آسٹریلیا، جو اپنے نزدیک ترین نقطے پر 300 کلومیٹر (185 میل) سے بھی کم فاصلے پر ہیں، نے اس جیوپولیٹیکل تبدیلی کے دوران مختلف راستے اپنائے ہیں۔

اگست میں آسٹریلیا نے انڈونیشیا، امریکہ اور دیگر حلیفوں کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں حصہ لیا۔

کینبرا نے بیجنگ کے بڑھتے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے دیگر پیسیفک پڑوسیوں کے ساتھ بھی فوجی تعلقات مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔

ستمبر میں اس نے پاپوا نیو گنی کے ساتھ ایک نئے دفاعی معاہدے پر اتفاق کیا تھا جو دونوں ممالک کو مسلح حملوں اور ان کی سلامتی پر پڑنے والے "ابھرتے ہوئے خطرات" کے خلاف ایک دوسرے کا دفاع کرنے کا پابند بنائے گا۔

 

 

دریافت کیجیے
آئی او س کا ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان 'تاریخی' دفاعی معاہدے کا خیر مقدم
ٹرمپ کا دعویٰ: وہ نہیں چاہتے کہ انہیں مارا جائے، ایران امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا چاہتا ہے
ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پا گیا
آبنائے ہرمز بہت جلد کھل جائے گی: ٹرمپ
مراکشی عہدیدار: غیر قانونی نقل مکانی سے نمٹنا مشترکہ ذمہ داری ہے
روس: جولائی میں ماسکو پر 6,000 سے زیادہ ڈرون حملے کیے گئے
ٹرمپ نے یوکرین کو پیٹریئٹ میزائل سسٹم لائسنس دینے پر اتفاق کیا ہے، زیلینسکی
فرانسیسی صدر میکرون کا ترکیہ سے آگ بجھانے والے طیارے روانہ کرنے کا شکریہ
متحدہ عرب امارات کی مغربی کنارے پر دو مساجد کو نذر آتش کیے جانے کی مذمت
رومانیہ نے دو دنوں میںفضائی حدود کی خلاف ورزی کے جواز میں دوسرا ڈرون مار گرایا
ٹرمپ نیتن یاہو کی ترکیہ کو F-35 کی فروخت کی مخالفت پر طیش میں ہیں: رپورٹ
امریکہ نے ایران پر حملوں کو معطل کر دیا: رپورٹ
F-35 سے لیکر بحیرہ اسود تک: نیٹو انقرہ سمٹ کے اہم نتائج
"اجلاس اچھا رہا"بہت سے مسائل حل ہوئے ہیں:ٹرمپ
نیٹو انقرہ سمٹ کا اختتامی اعلامیہ جاری
ٹرمپ: ہم ایردوان کے ساتھ ایف-35 کے معاملے پر بات کریں گے
ترک وزیر خارجہ فیدان: یورپی سلامتی کو یورپی یونین تک محدود نہیں کیا جا سکتا
فیدان  کے انقرہ میں نیٹو سمٹ سے قبل امریکی سینیٹرز سے مذاکرات
یورپ انقرہ میں نیٹو اجلاس کو ٹرمپ کو اجتماعی دفاع میں اپنی دلچسپی دکھانے کا ،مظاہرہ کرے گا: جرمنی
انقرہ میں نیٹو سمٹ سے قبل پوتن اور ٹرمپ کی یوکرین کے معاملے پر بات چیت