وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے کولمبیا کے سیاسی رہنماؤں، سماجی تحریکوں اور مسلح افواج سے ہنگامی اپیل کی اور عسکری اتحاد کا مطالبہ کیا ہے۔
مادورو نے، امریکہ کے ساتھ کشیدگی میں تیزی آنے پر، بدھ کو اپنے حامیوں سے خطاب میں کہا ہے کہ ‘علاقائی اتحاد' امن اور خودمختاری کی مضبوط ترین ضمانت ہے۔انہوں نے، بیرونی مداخلت کو روکنے کے لیے، کولمبیا کی فوج کو بھی وینزویلا کے ساتھ اتحاد کی پیشکش کی ہے۔
مادورو نے کہا ہے کہ "میں ان سے وینزویلا کے ساتھ ایک کامل اتحاد کا مطالبہ کرتا ہوں تاکہ کوئی بھی ہمارے ممالک کی خودمختاری کی طرف آنکھ اٹھانے کی جرات نہ کرے"۔
ٹرمپ ایک کٹھ پتلی حکومت چاہتا ہے
یہ اپیل واشنگٹن کے جھڑپوں کی طرف اشارہ کرنے والے چند بیانات کے بعد کی گئی ہے۔
مادورو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 'نوآبادیاتی' عزائم رکھنے کا قصوروار ٹھہرایا ہے ۔ دوسری طرف ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وینزویلا نے امریکی 'تیل، زمین اور دیگر اثاثے' چرا لیے ہیں۔
مادورو نے ان الزامات کو حکومت تبدیل کرنے کے لیے بہانہ قرار دیا اور خبردار کیا ہےکہ "نئی حکومت بنانے کی کوئی بھی کوشش جلد ناکام ہو جائے گی۔ ان کا مقصد وینزویلا پر ایک ایسی کٹھ پتلی حکومت مسلط کرنا ہے جو چند دن بھی قائم رہنے کی اہلیت نہ رکھتی ہو لیکن ہمارا آئین اور ہماری دولت ان کے حوالے کر دے۔ وینزویلا ایسی کسی بھی کوشش کا مقابلہ کرے گا"۔
یہ محاذ آرائی منگل کو ٹرمپ کے مادورو حکومت کو 'غیر ملکی دہشت گرد تنظیم' قرار دینے کی دھمکی دینے کے بعد شدت اختیار کر گئی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے ٹرتھ سوشل پلیٹ فارم سے جاری کردہ بیان میں وینزویلا کے نزدیک امریکی بحری موجودگی میں اضافے کی بات کی اور وعدہ کیا ہےکہ جب تک کاراکاس امریکی مطالبات پورے نہیں کرتا وہ دباؤ بڑھاتے رہیں گے۔
واضح رہے کہ پابندیوں، بحری جہازوں کی ضبطیوں اور اشتعالی بیانات کی وجہ سے پچھلے چند ماہ سے کاراکاس اور واشنگٹن کے باہمی تعلقات بتدریج خراب ہو رہے ہیں ۔
مادورو کی کولمبیا سے اتحاد کی اپیل سفارتی اور عسکری کشیدگی میں اضافے کے دوران علاقائی اتحادیوں کو یکجا کرنے کی ایک کوشش دِکھائی دے رہی ہے۔











