غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
اسرائیل غزہ کی طرف جانے والے امدادی بحری جہاز 'مدلین' کو روکنے کی تیاری کر رہا ہے: رپورٹ
بین الاقوامی کمیٹی برائے غزہ محاصرہ توڑنے نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ امدادی جہاز 'مدلین' مصری پانیوں میں داخل ہو چکا ہے اور غزہ کی طرف بڑھ رہا ہے، حالانکہ اسرائیل نے اسے روکنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
اسرائیل غزہ کی طرف جانے والے امدادی بحری جہاز 'مدلین' کو روکنے کی تیاری کر رہا ہے: رپورٹ
The military aims to halt the ship before it enters Gaza’s territorial waters, citing its enforcement of the naval blockade. / AP
8 جون 2025

چینل 12 نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی بحریہ غزہ کی طرف  رخت سفر باندھنے والے امدادی جہاز 'مدلین' کو روکنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس بحری جہا ز کو اسے اسرائیل کے مرکزی علاقے اشدود بندرگاہ کی طرف لے جانے کا منصوبہ ہے۔

فوج کا مقصد جہاز کو غزہ کے علاقائی پانیوں میں داخل ہونے سے پہلے روکنا ہے، جس کا حوالہ بحری ناکہ بندی کے نفاذ کے طور پر دیا گیا ہے۔

چینل 12 نے مزید بتایا  کہ جہاز پر موجود کارکنان کو اسرائیلی حکام کے حوالے کر کے ملک بدر کیا جائے گا۔

بین الاقوامی کمیٹی برائے غزہ محاصرہ توڑنے نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ امدادی جہاز 'مدلین' مصری پانیوں میں داخل ہو چکا ہے اور غزہ کی طرف بڑھ رہا ہے، حالانکہ اسرائیل نے اسے روکنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

کمیٹی، جو امدادی قافلے کے منتظمین میں سے ایک ہے، نے ایک بیان میں کہا کہ جہاز نے شمالی مصر کے شہر اسکندریہ کو عبور کر لیا ہے اور "چند گھنٹوں میں منصورہ شہر پہنچے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ "آنے والے گھنٹے انتہائی اہم ہوں گے۔"

ضروری امدادی سامان

گزشتہ ہفتے، اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کان نے رپورٹ کیا کہ تل ابیب نے جہاز کو گزرنے کی ابتدائی اجازت واپس لے لی ہے۔ یہ منظوری اس بنیاد پر واپس لی گئی کہ یہ مستقبل کے انسانی امدادی مشنز کے لیے "ایک مثال قائم" کر سکتی ہے۔

منتظمین کے مطابق بحری جہاز غزہ کے عوام کے لیے انتہائی ضروری سامان لے کر جا رہا ہے، جس میں بچوں کے لیے خاص دودھ، آٹا، چاول، ڈائپرز، خواتین کی صفائی کے سامان، پانی صاف کرنے کے آلات، طبی سامان، بیساکھیاں، اور بچوں کے مصنوعی اعضا شامل ہیں۔

فریڈم فلوٹیلا کولیشن کے زیر انتظام ایک اور جہاز، 'کانشینس'، کو 2 مئی کو مالٹا کے ساحل کے قریب ڈرونز نے نشانہ بنایا گیا تھا۔

اسرائیل نے بین الاقوامی جنگ بندی کی اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے اکتوبر 2023 سے غزہ میں تباہ کن حملے جاری رکھے ہیں، جن میں تقریباً 54,800 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

امدادی اداروں نے غزہ کے دو ملین سے زیادہ باشندوں میں قحط کے خطرے کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

گزشتہ نومبر میں، بین الاقوامی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔

اسرائیل کو بین الاقوامی عدالت انصاف میں غزہ کے شہریوں کے خلاف جنگی جرائم کے لیے نسل کشی کے مقدمے کا بھی سامنا ہے۔

 

دریافت کیجیے
پاکستان کے فضائی آپریشن میں ہفتے کی رات تک 352 افغان فوجی اور طالبان ہلاک
ترک وزیر خارجہ کا امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد متعدد عالمی ہم منصبوں سے رابطہ
اسرائیل نے ایرانی رہبران کی بلند پایہ شخصیات، بشمول خامنہ ای اور پزشکیان کو نشانہ بنایا: حکام
ایران کا امریکہ اور اسرائیل پر اقوام متحدہ کے آئین کی خلاف ورزی کرنے کا الزام
خدشات کی تصویری عکاسی: امریکہ-اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد کے مناظر
ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل پر میزائل داغ دیے
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے وسیع پیمانے کے خطرات کو جنم دے دیا
پاکستان کی افغانستان میں فضائی کارروائیاں جاری
امریکہ نے ایران میں "بڑی جنگی کارروائیاں" شروع کر دی ہیں، صدر ٹرمپ
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد دنیا بھر میں خطرے کے بادل منڈلانے لگے
اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا
اسرائیل کے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے مقامات پر حملے
کینیڈا نے تل ابیب سے عملے کو واپس بلا لیا اور اپنے شہریوں سے ایران سے نکلنے کا انتباہ
امریکہ کی افغانستان کے خلاف پاکستانی فضائی آپریشنز کی حمایت
افغانستان کی طالبان انتظامیہ کے331 اہلکار و خوارج ہلاک