سیاست
3 منٹ پڑھنے
زیلنسکی: امریکی جنگی منصوبے کا مطلب ہے کہ یوکرین یا تو اپنی 'عزت' کھو دے گا یا اپنا اتحادی
کسی بھی معاہدے کو یوکرین کے بنیادی مفادات کا تحفظ ہو اور اسے "غداری" کے طور پر بیان کرنے سے گریز کیا جائے۔
زیلنسکی: امریکی جنگی منصوبے کا مطلب ہے کہ یوکرین یا تو اپنی 'عزت' کھو دے گا یا  اپنا اتحادی
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ زیلنسکی کو ان کا 28 نکاتی منصوبہ "ماننا پڑے گا" یا روس سے جنگ جاری رکھنی پڑے گی۔ / Reuters
22 نومبر 2025

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جنگ کے خاتمے کے امریکی منصوبے کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے یوکرین کے پاس دو تکلیف دہ متبادل ہیں: یا تو اپنی عزت قربان کر دیں یا واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات کو خطرے میں ڈالیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیف کو معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے ایک ہفتے سے بھی کم وقت دینے کے بعد، زیلنسکی نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کریں گے کہ کسی بھی معاہدے کو یوکرین کے بنیادی مفادات کا تحفظ ہو اور اسے "غداری" کے طور پر بیان کرنے سے گریز کیا جائے۔

انہوں نے موجودہ ایام کو یوکرین کی تاریخ کے سب سے مشکل لمحات قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک پر دباؤ غیر معمولی ہے۔

زیلنسکی نے کہا کہ وہ ٹرمپ کے 28 نکاتی منصوبے کے متبادل تجاویز پیش کریں گے۔

کیف اور اس کے یورپی اتحادی اس تجویز پر حیران رہ گئے — جس کے تحت یوکرین کو زمین چھوڑنی پڑ سکتی ہے، اپنی فوج کم کرنی پڑے گی اور کبھی نیٹو میں شمولیت نہ کرنے کا وعدہ کرنا ہوگا۔

منصوبے کے مسودے کے مطابق، روس کو علاقوں کا حصول ہوگا، اسے عالمی معیشت میں دوبارہ شامل کیا جائے گا اور جی8 میں دوبارہ شمولیت کا راستہ کھلے گا۔

زیلنسکی نے فروری 2022 میں روسی حملے کے ردِعمل میں کیف کی قیادت کو یاد کرتے ہوئے کہا: 'ہم نے اُس وقت یوکرین کو دھوکہ نہیں دیا، ہم اب بھی ایسا نہیں کریں گے۔'

انہوں نے مزید کہا"میں دلائل پیش کروں گا، قائل کروں گا، متبادل پیش کروں گا۔"

دریں اثنا، جمعہ کو ٹرمپ نے یوکرین پر زور دیا کہ وہ اُن کی انتظامیہ کے منصوبے کو قبول کرے اور کہا کہ کیف میں اُن کے ہم منصب  کو"اسے پسند کرنا پڑے گا"۔

ٹرمپ نے صحافیوں کے" زیلنسکی کے غیر پرجوش ردِعمل کے بارے میں سوال " کا  جواب دیتے ہوئے کہ"اُسے پسند کرنا پڑے گا، اور اگر وہ اسے پسند نہیں کرتا تو، وہ لڑتے رہیں،کسی نہ کسی مرحلے پر اسے کچھ قبول کرنا  ہی پڑے گا۔"

یورپی طاقتوں کی طرف سے  یوکرین کی حمایت کا عہد

زیلنسکی نے امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ بات چیت کے بعد کہا کہ یوکرین اب بھی ٹرمپ کی جنگ ختم کرنے کی خواہش کا 'احترام' کرتا ہے۔

انہوں نے جرمن، فرانسیسی اور برطانوی رہنماؤں کے ساتھ بھی ہنگامی رابطہ کیا۔

ان کے دفتر نے کہا ہے کہ یوکرینی رہنما جلد ہی براہِ راست ٹرمپ سے بات کریں گے۔

امریکی منصوبہ ماسکو کے زیرِ کنٹرول علاقوں کو 'عملی طور پر' روسی تسلیم کرنے کا تصورپیش کرتا ہے، جس کے تحت کیف دونتسک کے بعض حصوں سے اپنی افواج واپس بلائے گا۔

کیف اپنی فوج کی تعداد 600,000 تک محدود کرے گا، نیٹو میں شمولیت کا امکان خارج کرے گا اور اس کی سرزمین پر نیٹو کی کوئی فورس تعینات نہیں ہوگی۔

اس کے بدلے میں، یوکرین کو غیر معین 'قابلِ اعتماد سیکیورٹی ضمانتیں' دی جائیں گی اور تعمیرِ نو کے لیے ایک فنڈ بنایا جائے گا جس میں کچھ ایسے روسی اثاثے شامل کیے جائیں گے جو بیرونِ ملک کے کھاتوں میں منجمد ہیں۔

زیلنسکی کے ساتھ ایک کال میں، اہم اتحادی برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے مشترکہ بیان میں کہا کہ وہ "ایک دیرپا اور منصفانہ امن کے راستے پر یوکرین کی غیر متزلزل اور مکمل حمایت" پر زور دیتے ہیں۔

 

دریافت کیجیے
ترک وزیر خارجہ کا امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد متعدد عالمی ہم منصبوں سے رابطہ
اسرائیل نے ایرانی رہبران کی بلند پایہ شخصیات، بشمول خامنہ ای اور پزشکیان کو نشانہ بنایا: حکام
ایران کا امریکہ اور اسرائیل پر اقوام متحدہ کے آئین کی خلاف ورزی کرنے کا الزام
خدشات کی تصویری عکاسی: امریکہ-اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد کے مناظر
ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل پر میزائل داغ دیے
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے وسیع پیمانے کے خطرات کو جنم دے دیا
پاکستان کی افغانستان میں فضائی کارروائیاں جاری
امریکہ نے ایران میں "بڑی جنگی کارروائیاں" شروع کر دی ہیں، صدر ٹرمپ
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد دنیا بھر میں خطرے کے بادل منڈلانے لگے
اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا
اسرائیل کے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے مقامات پر حملے
کینیڈا نے تل ابیب سے عملے کو واپس بلا لیا اور اپنے شہریوں سے ایران سے نکلنے کا انتباہ
امریکہ کی افغانستان کے خلاف پاکستانی فضائی آپریشنز کی حمایت
افغانستان کی طالبان انتظامیہ کے331 اہلکار و خوارج ہلاک
پاکستان نے افغانستان سرحد پر تناؤ کے درمیان ڈرون حملے ناکام بنا دیے