دنیا
6 منٹ پڑھنے
مادورو: ہم امریکہ کے ساتھ منشیات کے معاملے پر بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں
وینزوئیلا کے صدر نکولاس مادورو نے وینزوئیلا کے بندرگاہ پر سی آئی اے کے حملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے، کہتے ہیں کہ وہ اس پر چند دنوں میں بات کریں گے۔
مادورو: ہم امریکہ کے ساتھ منشیات کے معاملے پر بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں
Asked about the operation on Venezuelan soil, Maduro said he could "talk about it in a few days." / Reuters
2 جنوری 2026

جنوبی امریکی ملک کے صدر نیکولا مادورو نے سرکاری  ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک پہلے سے ریکارڈ شدہ انٹرویو میں کہا ہے کہ ونیزویلا امریکی حکام کے ساتھ منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف ایک معاہدے پر مذاکرات کے لیے  تیار ہے۔

لیکن انہوں نے گزشتہ ہفتے سی آئی اے کی قیادت میں وینیزویلا  کی ایک بندر گاہ  پر حملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا جسے ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق کارٹیلز استعمال کرتی تھیں۔

مادورو نے ہسپانوی صحافی اگناسیو رامونیٹ  کو  ایک انٹرویو دیتے  ہوئے اس بات کا اعادہ کیا  کہ امریکہ وینیزویلا پر حکومت کی تبدیلی مسلط کرنا چاہتا ہے اور اگست میں کیریبین سمندر میں بڑے فوجی تعیناتی کے ساتھ شروع ہونے والی چند ماہ طویل دباؤ مہم کے ذریعے اس کے وسیع تیل کے ذخائر تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔

مادورو نے کہا کہ"وہ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ یہ واضح ہے کہ وہ دھمکیوں، خوفزدہ کرنے اور طاقت کے ذریعے خود کو مسلط کرنا چاہتے ہیں،" بعد ازاں انہوں نے کہا کہ اب دونوں ممالک کے لیے سنجیدگی سے بات چیت شروع کرنے کا وقت ہے۔

انہوں نے کہا، امریکی حکومت جانتی ہے، کیونکہ ہم نے ان کے کئی ترجمانوں کو بتایا ہے، کہ اگر وہ منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف ایک معاہدے پر سنجیدگی سے بات کرنا چاہتے ہیں تو ہم تیار ہیں۔"

اگر وہ تیل چاہتے ہیں، تو وینیزویلا امریکی سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے، جیسا کہ شیورون کے ساتھ، جب چاہیں، جہاں چاہیں، اور جس طرح چاہیں۔

شیورون کارپوریشن واحد بڑی تیل کمپنی ہے جو وینیزویلا کا خام تیل امریکہ کو برآمد کرتی ہے۔ وینیزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل ذخائر ہیں۔

امریکی حملے

یہ انٹرویو نئے سال کی شام ریکارڈ کیا گیا تھا، اسی دن جب امریکی فوج نے پانچ مبینہ منشیات اسمگلنگ کشتیوں کے خلاف حملے کا اعلان کیا تھا۔

ان تازہ حملوں کے بعد معلوم کشتی حملوں کی کل تعداد 35 ہو گئی اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم 115 تک پہنچ گئی، یہ اعداد و شمار ٹرمپ انتظامیہ نے جاری کیے۔ وینیزویلا کے باشندے بھی مقتولین میں شامل ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں کو منشیات کے امریکہ میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے ضروری  قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ امریکہ منشیات کے اسمگلروں کے ساتھ ایک 'مسلح تصادم' میں ملوث ہے۔ یہ حملے وینیزویلا کے کیریبین ساحل کے قریب شروع ہوئے اور بعد ازاں مشرقی بحرِ الکاہل تک پھیل گئے۔

یہ کشتیوں پر حملوں کے آغاز کے بعد وینیزویلا کی سرزمین پر ہونے والی پہلی معلوم براہِ راست کارروائی تھی، اور انتظامیہ کی مادورو پر دباؤ مہم میں ایک اہم شدت اختیار کرنا تصور کی جاتی ہے، جن پر امریکہ میں دہشت گردی کے الزامات عائد ہیں۔

مادورو سے وینیزویلا کی سرزمین پر ہونے والی اس کارروائی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ 'چند روز میں اس کے بارے میں بات کر سکتے ہیں۔'

ٹرمپ انتظامیہ نے یہ ثبوت فراہم نہیں کیا کہ نشانہ بنائی گئی کشتیوں کا منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہونا ثابت ہوتا ہے، جس سے ان کاروائیوں کی قانونی حیثیت پر بحث شروع ہوگئی ہے۔

بین الاقوامی قانون کے ماہرین اور حقوقِ انسانی کی تنظیمیں کہتی ہیں کہ یہ حملے ممکنہ طور پر بغیر عدالتی کارروائی کے قتل کے مترادف ہیں۔

 جنوبی امریکی ملک کے صدر نیکولا مادورو نے سرکاری  ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک پہلے سے ریکارڈ شدہ انٹرویو میں کہا ہے کہ ونیزویلا امریکی حکام کے ساتھ منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف ایک معاہدے پر مذاکرات کے لیے  تیار ہے۔

لیکن انہوں نے گزشتہ ہفتے سی آئی اے کی قیادت میں وینیزویلا  کی ایک بندر گاہ  پر حملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا جسے ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق کارٹلز استعمال کرتی تھیں۔

مادورو نے ہسپانوی صحافی اگناسیو رامونیٹ  کو  ایک انٹرویو دیتے  ہوئے اس بات کا اعادہ کیا  کہ امریکہ وینیزویلا پر حکومت کی تبدیلی مسلط کرنا چاہتا ہے اور اگست میں کیریبین سمندر میں بڑے فوجی تعیناتی کے ساتھ شروع ہونے والی چند ماہ طویل دباؤ مہم کے ذریعے اس کے وسیع تیل کے ذخائر تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔

مادورو نے کہا کہ"وہ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ یہ واضح ہے کہ وہ دھمکیوں، خوفزدہ کرنے اور طاقت کے ذریعے خود کو مسلط کرنا چاہتے ہیں،" بعد ازاں انہوں نے کہا کہ اب دونوں ممالک کے لیے سنجیدگی سے بات چیت شروع کرنے کا وقت ہے۔

انہوں نے کہا، امریکی حکومت جانتی ہے، کیونکہ ہم نے ان کے کئی ترجمانوں کو بتایا ہے، کہ اگر وہ منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف ایک معاہدے پر سنجیدگی سے بات کرنا چاہتے ہیں تو ہم تیار ہیں۔"

اگر وہ تیل چاہتے ہیں، تو وینیزویلا امریکی سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے، جیسا کہ شیورون کے ساتھ، جب چاہیں، جہاں چاہیں، اور جس طرح چاہیں۔

شیورون کارپوریشن واحد بڑی تیل کمپنی ہے جو وینیزویلا کا خام تیل امریکہ کو برآمد کرتی ہے۔ وینیزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل ذخائر ہیں۔

امریکی حملے

یہ انٹرویو نئے سال کی شام ریکارڈ کیا گیا تھا، اسی دن جب امریکی فوج نے پانچ مبینہ منشیات اسمگلنگ کشتیوں کے خلاف حملے کا اعلان کیا تھا۔

ان تازہ حملوں کے بعد معلوم کشتی حملوں کی کل تعداد 35 ہو گئی اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم 115 تک پہنچ گئی، یہ اعداد و شمار ٹرمپ انتظامیہ نے جاری کیے۔ وینیزویلا کے باشندے بھی مقتولین میں شامل ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں کو منشیات کے امریکہ میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے ضروری  قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ امریکہ منشیات کے اسمگلروں کے ساتھ ایک 'مسلح تصادم' میں ملوث ہے۔ یہ حملے وینیزویلا کے کیریبین ساحل کے قریب شروع ہوئے اور بعد ازاں مشرقی بحرِ الکاہل تک پھیل گئے۔

یہ کشتیوں پر حملوں کے آغاز کے بعد وینیزویلا کی سرزمین پر ہونے والی پہلی معلوم براہِ راست کارروائی تھی، اور انتظامیہ کی مادورو پر دباؤ مہم میں ایک اہم شدت اختیار کرنا تصور کی جاتی ہے، جن پر امریکہ میں دہشت گردی کے الزامات عائد ہیں۔

مادورو سے وینیزویلا کی سرزمین پر ہونے والی اس کارروائی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ 'چند روز میں اس کے بارے میں بات کر سکتے ہیں۔'

ٹرمپ انتظامیہ نے یہ ثبوت فراہم نہیں کیا کہ نشانہ بنائی گئی کشتیوں کا منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہونا ثابت ہوتا ہے، جس سے ان کاروائیوں کی قانونی حیثیت پر بحث شروع ہوگئی ہے۔

بین الاقوامی قانون کے ماہرین اور حقوقِ انسانی کی تنظیمیں کہتی ہیں کہ یہ حملے ممکنہ طور پر بغیر عدالتی کارروائی کے قتل کے مترادف ہیں۔