فرانس اور الجزائر نے بروز منگل، عدالت، پولیس اور انٹیلی جنس شعبوں میں تعاون پر مبنی لیکن غیر فعال 'اعلیٰ سطحی سکیورٹی ہم آہنگی میکانزم' کو دوبارہ فعال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
حکام نے اسے دو طرفہ کشیدہ تعلقات کی بحالی کی طرف ایک ابتدائی قدم قرار دیا ہے۔
فرانس کے وزیر داخلہ لوراں نونیز نے اس فیصلے کا اعلان، دورہ الجزائر کے دوران، صدر عبد المجید تبون کے ساتھ دو روزہ مذاکرات کے بعد کیا ہے۔یہ دورہ الجزائر اِس رُتبے کے کسی فرانسیسی عہدیدار کا ایک طویل عرصے کے بعد پہلا دورہ تھا۔
صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں نونیز نے کہا ہے کہ الجزائر کے وزیر داخلہ سعید سایود اور اعلیٰ سکیورٹی حکام کے ساتھ ان کے مذاکرات میں، دونوں ملکوں کے درمیان دوبارہ "معمول کے سکیورٹی تعلقات" کے قیام کے مقصد پر مبنی، میکانزم کو دوبارہ شروع کرنے کی خاطر ایک باقاعدہ معاہدہ کیا گیا ہے۔
مذکورہ سکیورٹی میکانزم عدالتی ہم آہنگی، پولیس تعاون، انٹیلی جنس کےتبادلے اور امورِ مہاجرین انتظامیہ کا احاطہ کرتا ہے علاوہ ازیں اس میں دونوں حکومتوں کے درمیان ایک طویل عرصے سے غیر حل شدہ موضوعات میں سے ایک یعنی سیاسی حوالے سے حساس واپسیوں کا معاملہ بھی شامل ہے۔
نونیز نے کہا ہےکہ معاہدے کو "جتنی جلدی ممکن ہو" نافذ العمل کر دیا جائے گا اور اس طرح سلامتی و ہجرت پر تعاون " اعلیٰ ترین سطح" سے دوبارہ شروع ہو جائےگا۔
ماہِ اپریل میں فرانس میں الجزائر کے ایک سفارتکار کی گرفتاری کے بعد دونوں فریقین کے درمیان ایک مختصر مدّت کی نرمی ختم ہو گئی اور سکیورٹی ہم آہنگی ، ڈائیلاگ کے دوبارہ آغاز کا بنیادی سبب بن گئی تھی۔ اس دور کے بعد دونوں فریقین نے اپنے سفیر واپس بُلا لئے اور علاقائی پالیسیوں کے موضوع پر بڑھتے ہوئے اختلافات سمیت متعدد پہلووں پر تناو پیدا ہو گیا تھا۔
شدید ترین تنازعہ جولائی 2024 میں فرانس کے مغربی صحارا پر مراکش کے خود مختاری کے بارے میں اپنا موقف تبدیل کرنے پر سامنے آیا ۔ الجزائر نے فرانس کے موقف کو سختی سے مسترد کر دیا تھا۔
باوجودیکہ منگل کے اعلان سے تعلقات میں تجدید کی جھلک دکھائی دیتی ہےحکام نے تعلقات کی مکمل بحالی کا اعلان کرنے سے گریز کیا ہے۔ مبّصرین کے مطابق عدالتی تعاون، امورِ مہاجرت کے تنازعات اور علاقائی سفارتکاری میں پیش رفت ہی طے کرے گی کہ یہ نرمی برقرار رہتی ہے یا نہیں۔









