امریکی محکمہ خارجہ نے جمعہ کو اعلان کیا ہے کہ اس نے افغان پاسپورٹس پر سفر کر نے والے افراد کے لیے ویزے جاری کرنے کے عمل کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔
محکمے نے ایکس پر لکھا ہے کہ امریکی قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کے لیے تمام تر ضروری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ۔
اسٹیٹ سیکرٹری مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ "اپنی قوم اور اپنے شہریوں کے تحفظ سے بڑھ کر کسی چیز کو بالا تر نہیں رکھتا۔"
یہ اعلان اس کے بعد آیا جب ایک افغان شہری رحمان اللہ لاکنوال کو ایک نیشنل گارڈ کے ہلاک اور وائٹ ہاوس کے جوار میں ایک کے زخمی ہونے والے حملے کا مشتبہ قرار دیا گیا ۔
اس واقع کے بعد امریکہ نے اعلان کیا کہ اس نے افغان شہریوں کے لیے تمام امیگریشن کارروائیاں معطل کر دی ہیں۔
امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز نے کہا ہے کہ اس نے پناہ کے تمام فیصلے روک دیے ہیں۔
ایجنسی کے ڈائریکٹر جوزف ایڈلو نے X پر لکھا ہے کہ جب تک ہم یہ یقینی نہیں بنا لیتے کہ ہر غیر ملکی کو زیادہ سے زیادہ درجے تک جانچا اور سکرین کیا گیا ہے، سختی کا یہ عمل جاری رہے گا۔ امریکی عوام کی حفاظت ہمیشہ ہماری اولین ترجیح ہے ۔"
تیسری دنیا کے ممالک سے نقل مکانی کا سد باب
لاکنوال 2021 میں ایک پروگرام کے تحت امریکہ آیا تھا جو امریکی افواج سے تعاون کرنے والے افغانیوں کے لیے تھا ، اور بعد ازاں اسے پناہ مل گئی تھی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تھینکس گیونگ کے موقع پر سروس ممبروں سے فون پر گفتگو کے دوران اس فائرنگ کو "دہشت گردانہ حملہ" قرار دیا۔
اس حملے میں 20 سالہ سارہ بیکسٹرم، جمعرات کو ہلاک ہو گئی جبکہ 24 سالہ انڈریو وولف کی حالت تا حال نازک ہے۔
ٹرمپ نے جمعرات کوسوشل میڈیا پر عہد کیا کہ وہ مستقل طور پر "تیسری دنیا کے تمام تر ممالک" سے نقل مکانی کو روک دیں گے ، بائیڈن کے لاکھوں غیر قانونی داخلوں کو ختم کریں گے، اورکسی بھی ایسے فرد کو نکال دیں گے جو ریاستِ متحدہ کے لیے خالص اثاثہ نہ ہو۔
انہوں نے واضح نہیں کیا کہ وہ کن ممالک کو "تیسری دنیا" سمجھتے ہیں، یہ بات اُن وسیع سفری پابندیوں کی بازگشت تھی جو انہوں نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں نافذ کی تھیں اور بعد میں عدالتوں نے محدود کر دیا تھا۔
جمعہ کو ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ کسی بھی دستاویز کو منسوخ کر دیں گے جس پر بائیڈن نے آٹو پین کے ذریعے دستخط کیے ہوں، آٹو پین ایک ایسا آلہ ہے جو صدور معمول کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
بائیڈن نے 2021 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد ٹرمپ کی متعدد امیگریشن پالیسیاں واپس لے لیں، اور کہا کہ وہ ان لوگوں کی مدد روک رہی تھیں جنہیں تحفظ درکار تھا۔
ٹرمپ کے "تیسری دنیا" کے بیان کے بارے میں پوچھے جانے پر محکمۂ ہوم لینڈ سکیورٹی نے جون میں عائد کی گئی سفری پابندی میں شامل 19 ممالک کا حوالہ دیا۔










