خلیجی تعاون کونسل 'جی سی سی'کے رہنماؤں نے پیر کے روز، اسرائیل کی قطر کے خلاف جارحیت کے بعد کی صورتحال کے جائزے کے لئے منعقدہ عسکری کمیٹی نشست کے بعد، مشترکہ دفاعی کونسل کے ہنگامی اجلاس کا مطالبہ کیا ہے۔
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں، ہنگامی عرب۔اسلامی سربراہی اجلاس کےدوران، ایک ہنگامی جی سی سی سربراہی اجلاس بھی کیا گیا ہے۔
اجلاس کے اختتامی اعلامیے میں رہنماؤں نے کہا ہے کہ "ان جارحانہ پالیسیوں کا تسلسل امن کے حصول کی کوششوں اور اسرائیل کے ساتھ موجودہ معاہدوں اور مفاہمتوں کے مستقبل کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ اس جارحیت کے، پورے خطے کے استحکام پر، سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔"
بیان میں کہا گیا ہے کہ خلیجی تعاون سپریم کونسل نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کی زیرِ صدارت اور جی سی سی کے سیکریٹری جنرل جاسم البدیوی کی شرکت سے دوحہ میں ایک ہنگامی اجلاس کا انعقاد کیا ہے۔
اس ہنگامی سربراہی اجلاس میں متحدہ عرب امارات کے نائب صدر منصور بن زید النہیان، بحرین کے بادشاہ کے ذاتی نمائندے شیخ عبداللہ بن حمد الخلیفہ، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، عمان کے نائب وزیر اعظم برائے دفاعی امور شہاب بن طارق السعید اور کویت کے ولی عہد شیخ صباح خالد الحمد الصباح نے بھی شرکت کی ہے۔
’کھلی جارحیت‘
بیان میں اسرائیل کے قطر پر حملے کو ، غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی کے لیے بین الاقوامی برادری اور عالمی تنظیموں کی کوششوں کے خلاف، کھلی جارحیت اور "بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی" قرار دیا گیا ہے۔
اختتامی اعلامیے میں "اسرائیلی جارحیت اور قطر کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی کی شدید مذمت کی گئی اور اس جارحیت کو ایک خطرناک اور ناقابل قبول اضافہ اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ چارٹر کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیاہے"۔
بیان میں زور دیا گیا ہے کہ " جی سی سی کے بنیادی آئین اور مشترکہ دفاعی معاہدے کی رُو سے ہر رکن ملک کی سلامتی ناقابل تقسیم ہے اور ان میں سے کسی ایک پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ مزید کہا گیا ہے کہ رکن ممالک کی تمام صلاحیتوں کو برادر ملک قطر کی سلامتی، استحکام اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے بروئے کار لایا جائے گا"۔
بیان کے مطابق، رہنماؤں نے جی سی سی مشترکہ دفاعی کونسل کو دوحہ میں ہنگامی اجلاس بلانے کی ہدایت دی، جس سے پہلے اعلیٰ فوجی کمیٹی کا اجلاس ہوگا۔مشترکہ دفاعی کونسل کا اجلاس "رکن ممالک کی دفاعی پوزیشن اور خطرے کے ذرائع کا جائزہ لینے کے لیے منعقد ہوگا۔ اجلاس میں متحدہ فوجی کمان کو ،اسرائیلی جارحیت کے پیش نظر ، مشترکہ دفاعی میکانزم اور خلیجی دفاعی صلاحیتوں کو فعال کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دی جائے گی۔"
اخلاقی اور قانونی ذمہ داریاں
سپریم کونسل نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ "قطر پر اسرائیل کا وحشیانہ حملہ اجتماعی خلیجی سلامتی اور علاقائی امن و استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔"
مزید کہا گیا ہےکہ "ان جارحانہ پالیسیوں کا تسلسل امن کے حصول کی کوششوں اور اسرائیل کے ساتھ موجودہ معاہدوں اور مفاہمتوں کے مستقبل کو نقصان پہنچاتا ہے، جس کے پورے خطے کے استحکام پر خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔"
بیان میں زور دیا گیا ہے کہ "بین الاقوامی برادری کو اپنی اخلاقی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں اور اسرائیل کو روکنے اور بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی بار بار خلاف ورزیوں کو ختم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں کہ جو خطے کی سلامتی اور بین الاقوامی امن و استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔"
واضح رہے کہ قطر کے دارالحکومت میں ہونے والے حملے کا ہدف فلسطینی گروپ حماس کے رہنما تھے، جو امریکی جنگ بندی کی تجویز پر بات چیت کر رہے تھے۔ حملے میں حماس کے پانچ ارکان اور ایک قطری سکیورٹی افسر ہلاک ہو گئے تھے۔ حملے کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی ہے اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ فضائی حملوں سے "بہت ناخوش" ہیں۔







