سعودی عرب، ترکیہ، مصر، اردن، انڈونیشیا، پاکستان، قطر اور متحدہ عرب امارات نے امریکہ کےصدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 'امن بورڈ ' میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے۔
سعودی عرب وزارت خارجہ نے بروز بدھ جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ہر ملک اپنی قانونی کارروائیوں کے مطابق بورڈ میں شمولیت کے دستاویزات پر دستخط کرے گا۔
ٹرمپ نے، عالمی تنازعات کے حل کے لیےتشکیل دیئے گئے ،اس بورڈ میں شمولیت کے لیے درجن بھر عالمی رہنماؤں کو دعوت دی ہے۔
بورڈ کو، جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے ساتھ بیک وقت تشکیل دیا گیا ہے۔اس کا مقصد اسرائیل کی غزہ پر مسّلط کردہ نسل کُشی جنگ کو روکنا ہے۔ اکتوبر 2023 سے جاری نسل کُشی جنگ میں اسرائیل 71,000 سے زائد افراد کو قتل اور 171,000 سے زائد کو زخمی کر چکا ہے۔
امن بورڈ
بروز جمعہ رات دیر گئے وائٹ ہاؤس نے امن بورڈ کے قیام کا اعلان کیا اور اس کے ساتھ ہی غزہ کے انتظام و انصرام کے لیے قومی کمیٹی کی منظوری بھی دی ہے ۔غزّہ قومی کمیٹی علاقے میں عبوری مرحلے کے انتظام کے لیے نامزد کردہ چار اداروں میں سے ایک ہے۔
تقریباً 15 عالمی رہنما وں پر مشتمل اس بورڈ کی صدارت صدر ٹرمپ کریں گے ۔ یہ بورڈ ،نو تشکیل شدہ فلسطینی ماہرین پر مبنی حکومت کی اور غزہ کی تعمیر نو کے عمل کی نگرانی کرے گا۔
جن ممالک کی بورڈ میں شمولیت متوقع ہے ان میں برطانیہ، جرمنی، فرانس اور اٹلی بھی شامل ہیں۔ اور سابق اقوام متحدہ کے مشرق وسطیٰ نمائندہ نیکولائی ملاڈینو کے، بحیثیت بورڈ کے نمائندہ، فیلڈ میں فرائض ادا کرنے کا امکان ہے۔
'امن بورڈ' ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی منصوبے کا حصہ ہے جسے نومبر 2025 میں سلامتی کونسل نے قرارداد نمبر 2803 کے تحت منظور کیا تھا۔












