سیاست
2 منٹ پڑھنے
پولینڈ آخری روسی قونصلیٹ جنرل بھی بند کر رہا ہے، کریملن کا اظہارِ افسوس
روسی خفیہ ادارے کے لیے کام کرنے کے مبینہ ارادے کے تحت دو یوکرینی شہری پولینڈ میں ایک ریلوے لائن اڑا دینے کے شبہے میں ہیں۔
پولینڈ آخری روسی قونصلیٹ جنرل بھی بند کر رہا ہے، کریملن کا اظہارِ افسوس
میکا میں وارسا-لوبلن لائن کی ریلوے پٹریوں پر ہونے والے دھماکے کی جگہ کا لوگ معائنہ کر رہے ہیں۔ / Reuters

پولینڈ نے کہا ہے کہ وہ ملک میں روس کا آخری قونصلیٹ بھی  بند کر دے گا۔

 یہ اقدام ریلوے دھماکے کے بعد کیا جا رہا ہے جسے وارسا نے ماسکو کے لیے کام کرنے والوں کے ذریعے ہونے کے طور پر موردِ الزام ٹھہرایا ہے، اور اس فیصلے پر کریملن نے تنقید کی ہے۔

پولینڈ کے وزیر خارجہ رادیک سیکورسکی نے بدھ کو یہ فیصلہ سنایا، اس کے بعد حکام نے کہا تھا کہ روسی خفیہ ادارے کے لیے کام کرنے کے مبینہ ارادے کے تحت دو یوکرینی شہری پولینڈ میں ایک ریلوے لائن اڑا دینے کے شبہے میں ہیں۔ اس دھماکے نے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات کو مزید دگرگوں کر دیا ہے۔

سیکورسکی، جسے حکومتی خبر رساں ایجنسی PAP نے حوالہ دیا، نے کہا کہ وارسا نے ماسکو کو بار بار خبردار کیا تھا کہ اگر وہ وہی کرے گا جسے پولینڈ دشمنانہ اقدام سمجھتا ہے تو اس کی سفارتی موجودگی کم کر دی جائے گی۔

“اسی مناسبت سے، اگرچہ یہ ہمارا مکمل جواب نہیں ہوگا، میں نے گدانسک میں روس کے آخری قونصلیٹ کے آپریشن کے لیے دی گئی  منظوری کو  واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے،” سیکورسکی نے کہا اور اضافہ کیا کہ چند گھنٹوں میں روس کو باقاعدہ طور پر مطلع کر دیا جائے گا۔ جب یہ قونصلیٹ بند ہو جائے گا تو روس کے پاس صرف وارسا میں سفارت خانہ باقی رہے گا۔

کریملن نے اس فیصلے کی مذمت کی اور کہا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان مکمل طور پر تعلقات کے ٹوٹنے کی عکاسی کرتا ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ ماسکو اس اقدام پر افسوس کرتا ہے اور پولینڈ پر "روسوفوبیا" کا الزام عائد کیا۔

پیسکوف نے صحافیوں سے کہا"پولینڈ کے ساتھ تعلقات مکمل طور پر خراب ہو چکے ہیں۔ یہ شاید اسی خرابی کا مظہر ہے — پولش حکام کی خواہش کہ قونصلی یا سفارتی تعلقات کے امکانات کو صفر تک محدود کر دیا جایا گا"یہاں صرف افسوس کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔ اس کا عام فہم سے کوئی تعلق نہیں۔

یوکرین کے تنازعے کے آغاز سے پولینڈ اور روس کے تعلقات تیزی سے خراب ہوئے ہیں، جس میں وارسا یورپ میں کیف کا ایک مضبوط حامی بن کر سامنے آیا ہے اور ماسکو پر بار بار پولش تحفظات کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔

 

دریافت کیجیے
کیا امریکہ اور ایران دوبارہ تمام طاقت کے جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں؟
ہرمز میں نئی مساوات عمل میں آ رہی ہے۔ ایرانی پارلیمانی اسپیکر
جنوبی کوریا نے ہرمز میں جہاز میں آگ لگنے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، ٹرمپ کا ایران پر الزام
ایران: آبنائے ہرمز میں کوئی بھی امریکی منصوبہ فائر بندی کی خلاف ورزی ہو گا
بھارتی وزیر اعظم مودی کو صوبائی انتخابات میں ایک اہم امتحان کا سامنا ہے
ٹرمپ نے یورپی گاڑیوں پر 25 فیصد امریکی ٹیرف کا اعلان کر دیا
امریکہ، ایران جنگ پر اختلافات کے بعد جرمنی سے تقریباً 5,000 فوجیوں کو واپس بلا رہا ہے
ٹرمپ: مجھے ایران کی تازہ ترین پیشکش 'ناگوار' لگی ہے
ایران نے ہوائی دفاعی نظام فعال کر دیا تو ٹرمپ کو کانگریس میں جنگی اختیارات کی مدت کا سامنا ہے
سعودی وزیر: ہمارے ترکیہ کے ساتھ تعلقات، اسٹریٹجک ہیں، ہم اس میںم مضبوطی لانے کے متمنی ہیں
ٹرمپ کو ایران پر ممکنہ حملوں کے بارے میں فوجی بریفنگ دی جائے گی، رپورٹ
ملک کے پاس سالوں کی جنگ کے لیے کافی میزائل اور ڈرون کے ذخائر موجود ہیں
جنوبی کوریا کی شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو حل کرنے کے لیے عالمی سطح پر فوری کارروائی کی اپیل
چین کی یورپی یونین کی صنعتی پالیسی پر نکتہ چینی
اقوام متحدہ کے آئینی اصولوں پر 'براہ راست حملہ' کیا جا رہا ہے، یورپی یونین کی تنبیہ
برطانیہ اور فرانس خلیج فارس کے راستے کھولنے کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد کی قیادت کریں گے
نائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
ایرانی اسپیکر: امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے ساتھ ساتھ تہران 'ضروری اقدامات' کے لیے تیار ہے
وزیر خارجہ حاقان فیدان کی مشرق وسطی میں بھڑکنےو الی آگ کو بجھانے اور پائیدار امن کی اپیل
امریکی اور کیوبائی حکام کی نئی سفارتی کوششوں کے دائرہ کار میں  ہوانا میں ملاقات