دنیا
3 منٹ پڑھنے
او آئی سی: اسرائیل تسلیم نامہ واپس لے
ہم، 6 جنوری 2026 کو اسرائیلی وزیرِ خارجہ  کے غیر قانونی دورہ 'صومالی لینڈ' کی سخت مذمت کرتے ہیں: او آئی سی
او آئی سی: اسرائیل تسلیم نامہ واپس لے
موغادیشو میں مظاہرین، اسرائیل کی جانب سے علیحدگی پسند صومالی لینڈ خطے کو ایک آزاد ملک کے طور پر تسلیم کرنے کے خلاف احتجاج کے دوران۔ / AP
9 جنوری 2026

جمعرات کو بائیس اسلامی ممالک اور اسلامی تعاون تنظیم 'او آئی سی'نے اسرائیل کے وزیرِ خارجہ کے صومالیہ کے متنازع خطے 'جمہوریہ صومالی لینڈ' کے غیر قانونی دورے کی سخت مذمت کی اور کہا  ہےکہ یہ دورہ، صومالیہ کی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

جاری کئے گئے مشترکہ بیان میں او آئی سی اور دستخط کرنے والے ممالک کی وزارتِ ہائے خارجہ نے کہا ہے  کہ "ہم، 6 جنوری 2026 کو اسرائیلی وزیرِ خارجہ  کے غیر قانونی دورہ 'صومالی لینڈ' کی سخت مذمت کرتے ہیں"۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیڈیون سار کا یہ دورہ 'وفاقی جمہوریہ صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی واضح خلاف ورزی ہے اوراس نے  بین الاقوامی اصولوں اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کو نقصان پہنچایا ہے"۔

اعلامیے کے دستخط کنندگان نے صومالیہ کی 'خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت' کی حمایت  کا اعادہ کیا اور  خبردار کیا ہے کہ 'علیحدگی پسندانہ ایجنڈوں کی حوصلہ افزائی ناقابلِ قبول ہے اور ایک ایسے خطّے میں کہ جو  پہلے ہی نازک دور سے گزر رہا ہے  کشیدگی میں اضافہ کر سکتی ہے"۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "علاقائی و عالمی استحکام کے لئے ضروری ہے کہ بین الاقوامی قانون کا احترام، خودمختار ریاستوں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت، اور سفارتی اصولوں کی پابندی کی جائے"۔

بیان میں ،پر امن بین الاقوامی روابط، تعمیری سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کی پابندی کے بارے میں موغادیشو  کے عزم کی بھی گیا اور کہا  گیا ہےکہ دستخط کنندگان بین الاقوامی قانون کے مطابق صومالیہ کی 'خودمختاری، علاقائی سالمیت اور استحکام کے تحفظ' کے لیے  سفارتی و قانونی اقدامات کی حمایت جاری رکھیں گے۔

اسرائیل نے 26 دسمبر کو ، سرکاری سطح  پر صومالی لینڈ کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست تسلیم کر نے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے ساتھ اسرائیل صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے والا  واحد ملک بن گیا ہے۔ اس اقدام پر کئی ممالک نے شدید تنقید کی اور  اکثر نے اسے غیر قانونی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

او آئی سی  کے بیان نے اسرائیل سے اپنا موقف واپس لینے کا مطالبہ کیا اور  کہا ہے کہ" تل ابیب کو صومالیہ کی خودمختاری، قومی اتحاد اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کرنا ، بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کرنا اور صومالی لینڈ کے تسلیم نامے کو فوری طور پر واپس لے لینا چاہیے"۔

واضح رہے کہ صومالی لینڈنے 1991 میں صومالیہ سے علیحدگی کا اعلان کیا لیکن اسے کوئی  سرکاری  شناخت حاصل نہیں  ہو سکی تھی۔  صومالی لینڈ  عملی طور پر ایک  خودمختار انتظامیہ اور سیاسی و سکیورٹی اکائی کے طور پر کام کر رہا ہے لیکن اس کی قیادت کو بین الاقوامی سطح پر  تسلیم نہیں کیا گیا۔

او آئی سی کے مشترکہ بیان پر دستخط کرنے والوں میں الجزائر، بنگلہ دیش، کوموروس، جبوتی، مصر، گیمبیا، انڈونیشیا، ایران، اردن، کویت، لیبیا، مالدیپ، نائیجیریا، عمان، پاکستان، فلسطین، قطر، سعودی عرب، صومالیہ، سوڈان، ترکیہ اور یمن کی وزارت ہائے  خارجہ شامل ہیں۔

دریافت کیجیے
ایران: حملہ ہوا تو ہم جوابی کاروائی تک محدود نہیں رہیں گے
امریکہ کی ایران کے خلاف کاروائی کا امکان، اسرائیل چوکنا ہو گیا
بین الاقوامی استحکام فورس میں شامل ہونا چاہتےہیں:بنگلہ دیش
دہشتگرد تنظیم YPG نے  حلب کا پانی بند کردیا
جنگ بندی کی تازہ خلاف ورزی،اسرائیلی فوج نےمزید 3 فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا
ٹرمپ نےفوج کو گرین لینڈ پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے کا حکم  دے دیا
اسرائیل نے سیز فائر کے باوجود غزہ میں نئے فضائی حملے شروع کر دیے
یوکرین: روس کے بحیرہ اسود میں دو کارگو جہازوں پر حملے میں عملے کا ایک کارکن ہلاک ہو گیا ہے
فرانس اور برطانیہ طوفان گورتی کی زد میں، لاکھوں افراد بجلی کی سہولت سے محروم
ترکیہ: یونان میں ترک اقلیت کے اسکول پر حملے کی مذمت اور انصاف کا مطالبہ
چین: اسرائیل تناو میں اضافہ کرنے سے پرہیز کرے
شام: دہشت گرد تنظیم وائے پی جی کو حلب سے انخلاء کرنے کی مہلت پوری ہو گئی ہے
یوکرینی حملے سے روس کے بیلگورود علاقے کی بجلی اور ہیٹنگ بند
او آئی سی: اسرائیل تسلیم نامہ واپس لے
ایران میں مظاہرے امریکی اور اسرائیلی ایجنٹوں  نے شروع کروائے ہیں