دنیا
3 منٹ پڑھنے
چین، مصنوعی ذہانت کی، دوڑ جیتنے کو ہے: ہوانگ
چین، نئی نسل مصنوعی ذہانت کی دوڑ جیتنے کو ہے واشنگٹن کو چاہیے کہ اپنی کوششیں تیز کر دے: جینسن ہوانگ
چین، مصنوعی ذہانت کی، دوڑ جیتنے کو ہے: ہوانگ
(FILE) NVIDIA CEO Jensen Huang introduces an "Industrial AI Cloud" project during a press conference in Berlin, Germany, November 4, 2025. / Reuters
6 نومبر 2025

این ویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ نے کہا ہے کہ چین، نئی نسل مصنوعی ذہانت کی دوڑ جیتنے کو ہے  واشنگٹن کو چاہیے کہ اپنی کوششیں تیز کر دے۔

امریکہ میں پیداوار دینے اور مائیکرو  چِپ بنانے والی معروف کمپنی این ویڈیا  کے سربراہ جینسن ہوانگ نے فنانشل ٹائمز کے لئےجاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بیجنگ کی توانائی سبسڈیاں، مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی  کے معاون و مددگار ‘جدید سیمی کنڈکٹروں’ کی تیاری میں، مدد فراہم کر رہی ہیں۔

اخبار نےلکھا ہے کہ ہوانگ نے بدھ کے روز لندن میں ایک تقریب کے دوران یہ بھی کہا ہے کہ "چین مصنوعی ذہانت کی دوڑ جیتنے والا ہے"۔

ہوانگ نے این ویڈیا کے سوشل میڈیا ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "جیسا کہ میں بہت عرصے سے کہتا چلا آ رہا ہوں چین مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں امریکہ سے محض رتّی بھر ہی پیچھے ہے"۔

این ویڈیا کے سوشل میڈیا ایکس سے جاری کردہ ایک اور بیان میں ہوانگ نے کہا ہے کہ "امریکہ کا، دنیا بھر میں ڈویلپیر حاصل کر کے اس دوڑ کو جیتنا ضروری ہے "۔

کیلیفورنیا میں قائم این ویڈیا گذشتہ ہفتے دنیا کی پہلی 5 ٹریلین ڈالر قدر والی کمپنی بن گئی تھی۔ تاہم اس کے بعد اس کی مارکیٹ ویلیو کم ہو کر تقریباً 4.7 ٹریلین ڈالر رہ گئی ہے۔

این ویڈیا کی تیار کردہ مائیکرو چِپیں، پیداواری مصنوعی ذہانت سسٹموں کی تربیت  کے لئے اور انہیں چلانے کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔امریکہ کے سکیورٹی خدشات اور چینی حکومت کی پابندیوں کے باعث اس وقت یہ چِپیں چین کے ہاتھ فروخت نہیں کی جا رہیں۔ 

مصنوعی ذہانت کےبارے میں 'شبہات'

رواں ہفتے کے آغاز میں، وائٹ ہاؤس نے کہا تھا  کہ وہ این ویڈیا کواپنے جدید 'بلیک ویل' چپ ماڈل چین میں فروخت کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

امریکہ نے کہا تھا کہ یہ پابندی، چِپ کے چین کو فوجی برتری دِلا سکنے کے، خطرے کے باعث لگائی گئی ہے۔

ہوانگ نے بارہا واشنگٹن سے درخواست کی ہے کہ وہ این ویڈیا چِپ کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی کرے کیونکہ یہ پالیسی چین کو اپنی ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کی طرف مائل کرنے کے علاوہ اور کسی کام نہیں آئے گی۔

 بدھ کے روز  فنانشیل ٹائمز کے لئے انٹرویو میں این ویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ نے مختلف امریکی ریاستوں کی طرف سے مصنوعی ذہانت پر لاگو کئے گئے نئے قواعد و ضوابط پر تنقید کی اور کہا ہے کہ  چین میں حکومت ٹیکنالوجی کے ساتھ تعاون کے لئے بجلی پر سبسڈی دے رہی ہے۔

انہوں نے کہا  ہے کہ امریکہ اور برطانیہ جیسے مغربی ممالک،  مصنوعی ذہانت سے متعلق، 'شبہات' کی وجہ سے پیچھے رہ رہے ہیں۔

دریافت کیجیے
روس بھارت سے تجارت جاری رکھنا چاہتاہے:پوٹن
بھارتی ایئر لائن انڈیگو نے500 پروازیں منسوخ کر دیں
اسرائیلی افواج نے مغربی کنارے میں پانچ تاریخی آثار کو ضبط کر لیا
امریکی فوج نے مشرقی پیسیفک میں  منشیات کے جہاز پر حملہ کردیا،4 افراد ہلاک
بین الاقوامی برادری اسرائیل کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرے:ترکیہ
ٹی آر ٹی کا اسرائیل کی یورو ویژن میں شراکت پر بحث پر یورپی براڈ کاسٹنگ یونین کے اجلاس سے واک آؤٹ
ترکیہ کی دفاعی و ہوائی صنعت کی برآمدات 11 ماہ میں 7.4 بلین ڈالر تک پہنچ گئیں
پوتن کا دورہ بھارت: دفاع اور توانائی سمیت متعدد موضوعات مذاکراتی ایجنڈے پر
نیو اورلینز میں نیشنل گارڈز بھیجوں گا:ٹرمپ
ماسکو تاحال جنگ ختم کرنے کا خواہاں ہے:ٹرمپ
چین فرانس کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے:شی جن پنگ
اسرائیل  نے حماس سے وصول کردہ لاش کی تصدیق کر دی
اسرائیل جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے
ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فونک باتچیت دوستانہ ماحول میں ہوئی:مادورو
روس-یوکرین مذاکرات کےلیے ترکیہ موزوں ترین ملک ہے:فدان