صدر رجب طیب ایردوان کی تصویر کے ہمراہ ان کے مشہور قول "دنیا پانچ سے بڑی ہے" اور "ایک منصفانہ دنیا ممکن ہے" نیویارک شہر کی مرکزی گلیوں اور شاہراہوں پرآویزاں کیے گئے۔
یہ وہ نعرے ہیں جو ایردوان طویل عرصے سے اقوام متحدہ کے نظام میں تبدیلی کے مطالبے کے طور پر دہراتے رہے ہیں۔
کئی سالوں سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ اس کے پانچ مستقل ارکان – امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین – غیر متناسب اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔
منگل کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایردوان نے عالمی ادارے میں تبدیلی کے اپنے مطالبے کو دہرایا۔
ایک منصفانہ دنیا ممکن ہے
انہوں نے کہا، " مجھے یقینِ کامل ہے کہ یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ اقوام متحدہ کو اس کی 80ویں سالگرہ پر اس کے بانی اصولوں کی طرف واپس لے جانے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت تک کہتے رہیں گے، ’دنیا پانچ سے بڑی ہے!‘ جب تک ایک ایسا نظام قائم نہ ہو جائے جہاں طاقتور کے بجائے انصاف کا غلبہ ہو۔"
ان کا قول "ایک منصفانہ دنیا ممکن ہے" ٹائمز اسکوائر میں ایل ای ڈی اسکرینوں پر بھی دکھایا گیا۔













