کئی یورپی ممالک نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ترغیب دی ہے، کیونکہ سیکیورٹی صورتحال خراب ہوتی جا رہی ہے کیونکہ ایران پر ممکنہ امریکی حملوں کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
اسپین کی وزارت خارجہ نے اپنے شہریوں کو ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا اور خبردار کیا کہ ملک بھر میں حالات غیر مستحکم ہیں۔
وزارت نے ایک تازہ ترین سفری انتباہ میں کہا کہ ایران میں موجود ہسپانویوں کو ملک چھوڑنے کی سفارش کی جاتی ہے تاکہ دستیاب وسائل استعمال کیے جا سکیں۔"
اس نے مزید کہا پورے ملک میں صورتحال غیر مستحکم ہے جبکہ مختلف ذرائع نے کئی مظاہرین کی ہلاکتوں اور گرفتاریوں کی اطلاع دی ہے ۔
اٹلی نے بھی سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مطالبہ دوبارہ دہرایا ہے ۔
اطالوی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس وقت ملک میں تقریبا 600 اطالوی موجود ہیں جن میں سے زیادہ تر تہران میں ہیں۔
پولینڈ نے بھی اسی طرح کی وارننگ جاری کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو فورا ایران چھوڑنے کی تلقین کی ہے ۔
جرمنی نے بھی ایران کے سفر کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے ایران میں پہلے سے موجود افراد کو نکل جانے کی تلقین کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وہ حکومت مخالف مظاہرین اور ان کے رہنماؤں کو پھانسی دیتے ہیں تو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی جائے گی۔
لیکن انہوں نے امریکہ کے ردعمل کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی اور یہ واضح نہیں ہوسکا کہ وہ کارروائی میں تاخیر کریں گے یا نہیں۔
دسمبر کے آخر سے ایران کو احتجاجات کی لہروں نے ہلا کر رکھ دیا ہے، جو قومی کرنسی کی تیزی سے قدر میں کمی اور بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال کی وجہ سے شروع ہوئی ہیں۔
مظاہرے تہران کے گرینڈ بازار میں شروع ہوئے اور پھر کئی شہروں تک پھیل گئے۔
ایرانی حکام نے غیر ملکی مداخلت کو مورد الزام قرار دیا ہے اور مظاہرین پر الزام لگایا ہے کہ وہ "دہشت گردی کی کارروائیوں" میں ملوث ہیں۔
گزشتہ روز ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے "اسپیشل رپورٹ" پروگرام کو بتایا کہ تین دن کی دہشت گرد کارروائی کے بعداب سکون ہے اور صورتحال مکمل کنٹرول میں ہے۔









