یورپی یونین کے 26 رکن ممالک نے ونیزویلا میں حالیہ امریکی عسکری مداخلت کے بعد بین الاقوامی قانون کے احترام کی اپیل کی ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے اتوار کی شب یونین کے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ، یورپی یونین تمام فریقین سے کشیدگی سے گریز اور بحران کے پرامن حل کو یقینی بنانے کے لیے پرسکون اور محتاط رویہ اپنانے کا مطالبہ کرتی ہے۔ یورپی یونین اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ ہر صورت میں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے اصولوں کی پاسداری ضروری ہے۔
یہ بیان، ہنگری کے علاوہ 26 رکن ممالک کی حمایت کے ساتھ، اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے ارکان کی 'خصوصی ذمہ داری' کو یاد دلاتا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے اصولوں کو بین الاقوامی سکیورٹی کے ڈھانچے کے ستون کے طور پر برقرار رکھیں۔
یورپی یونین نے بارہا کہا ہے کہ ونیزویلا کے گرفتار صدر نکولا مادورو کو جمہوری طور پر منتخب صدر کی حیثیت حاصل نہیں ہے اور اس نے ونیزویلا کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے وینیزویلا کی قیادت میں پرامن عبوری جمہوری عمل کی حمایت کی ہے۔ ونیزویلا کے عوام کے اپنے مستقبل کے تعین کے حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ 'سرحد پار منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ' سے نمٹنے کے لیے مستقل تعاون کی ضرورت ہے، اور یہ تعاون بین الاقوامی قانون اور علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے اصولوں کے مکمل احترام کے ساتھ ہونا چاہیے۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہےکہ ہم ریاستِ ہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے بھی قریبی رابطے میں ہیں تاکہ تمام فریقین کے ساتھ مذاکرات کی حمایت اور سہولت فراہم کی جا سکے۔
امریکی فوجی کارروائی
بیان میں وینیزویلا کے عوام کی جمہوریت بحال کرنے اور موجودہ بحران کے حل کے لیے ان کے ارادے کے احترام کی بھی اپیل کی گئی ہے۔
تمام سیاسی قیدی جو اس وقت ونیزویلا میں زیرِ حراست ہیں، بلا شرط رہا کیے جانے چاہئیں۔ یورپی یونین کے رکن ممالک کے قونصلر حکام قریبی ہم آہنگی میں کام کر رہے ہیں تاکہ ونیزویلا میں غیرقانونی طور پر حراست میں لیے گئے یورپی شہریوں کی سلامتی کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
یہ بیان ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ونیزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے نتیجے میں صدر نکولا مادورو اور ان کی اہلیہ سِلیا فلورس کی گرفتاری کا اعلان کیا اور وقتی طور پر ملک پر امریکی کنٹرول نافذ کرنے کا عندیہ دیا ۔
میڈورو اور فلورس ہفتے کی رات گئے نیویارک پہنچے اور انہیں بروکلن کے ایک حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے۔ اُن پر منشیات کی اسمگلنگ سے متعلق امریکی وفاقی الزامات ہیں اور مبینہ طور پر ایسے گروہوں کے ساتھ تعاون کے الزامات ہیں جنہیں دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا گیا ہے۔
مادورو نے ان الزامات کی تردید کی ہے تو ونیزویلا کے دارالحکومت قارا قاس میں حکام نے اس جوڑے کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔














