سیاست
3 منٹ پڑھنے
26 یورپی ممالک کی امریکی فوجی مداخلت کے بعد ونیزویلا میں بین الاقوامی قانون کے احترام کی اپیل
یہ بیان، ہنگری کے علاوہ 26 رکن ممالک کی حمایت کے ساتھ، اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے ارکان کی 'خصوصی ذمہ داری' کو یاد دلاتا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے اصولوں کو بین الاقوامی سکیورٹی کے ڈھانچے کے ستون کے طور پر برقرار رکھیں۔
26 یورپی ممالک کی امریکی فوجی مداخلت کے بعد ونیزویلا میں بین الاقوامی قانون کے احترام کی اپیل
European Union foreign policy chief Kaja Kallas speaks with the media as she arrives for the EU Summit in Brussels, Thursday, Dec. 18 2025 [FILE]. / AP
5 جنوری 2026

یورپی یونین  کے 26 رکن ممالک نے ونیزویلا میں حالیہ امریکی عسکری مداخلت کے بعد بین الاقوامی قانون کے احترام  کی اپیل کی ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے اتوار کی  شب   یونین کے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ، یورپی یونین تمام فریقین سے کشیدگی سے گریز اور بحران کے پرامن حل کو یقینی بنانے کے لیے پرسکون اور محتاط رویہ اپنانے کا مطالبہ کرتی ہے۔ یورپی یونین اس بات کی  یاد دہانی کراتی  ہے کہ ہر صورت میں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ  کے اصولوں کی پاسداری ضروری ہے۔

یہ بیان، ہنگری کے علاوہ 26 رکن ممالک کی حمایت کے ساتھ، اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے ارکان کی 'خصوصی ذمہ داری' کو یاد دلاتا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے اصولوں کو بین الاقوامی سکیورٹی کے ڈھانچے کے ستون کے طور پر برقرار رکھیں۔

یورپی یونین نے بارہا کہا ہے کہ ونیزویلا کے گرفتار صدر نکولا مادورو کو جمہوری طور پر منتخب صدر کی حیثیت حاصل نہیں ہے اور اس نے ونیزویلا کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے وینیزویلا کی قیادت میں پرامن عبوری جمہوری عمل کی حمایت کی ہے۔ ونیزویلا کے عوام کے اپنے مستقبل کے تعین کے حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے۔

بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ 'سرحد پار منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ' سے نمٹنے کے لیے مستقل تعاون کی ضرورت ہے، اور یہ تعاون بین الاقوامی قانون اور علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے اصولوں کے مکمل احترام کے ساتھ ہونا چاہیے۔

بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہےکہ ہم ریاستِ ہائے متحدہ  امریکہ کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے بھی قریبی رابطے میں ہیں تاکہ تمام فریقین کے ساتھ مذاکرات کی حمایت اور سہولت فراہم کی جا سکے۔

امریکی فوجی کارروائی

بیان میں وینیزویلا کے عوام کی جمہوریت بحال کرنے اور موجودہ بحران کے حل کے لیے ان کے ارادے  کے احترام کی بھی اپیل کی گئی  ہے۔

تمام سیاسی قیدی جو اس وقت ونیزویلا میں زیرِ حراست ہیں، بلا شرط رہا کیے جانے چاہئیں۔ یورپی یونین کے رکن ممالک کے قونصلر حکام قریبی ہم آہنگی میں کام کر رہے ہیں تاکہ ونیزویلا میں غیرقانونی طور پر حراست میں لیے گئے  یورپی شہریوں کی سلامتی کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

یہ بیان ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کی طرف سے  ونیزویلا  میں  امریکی فوجی کارروائی کے نتیجے میں صدر نکولا مادورو اور ان کی اہلیہ سِلیا فلورس  کی گرفتاری کا اعلان کیا  اور وقتی طور پر ملک پر امریکی کنٹرول نافذ کرنے کا عندیہ دیا ۔

میڈورو اور فلورس ہفتے کی رات  گئے نیویارک پہنچے اور انہیں بروکلن کے ایک حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے۔ اُن پر منشیات کی اسمگلنگ سے متعلق امریکی وفاقی الزامات ہیں اور مبینہ طور پر ایسے گروہوں کے ساتھ تعاون کے الزامات ہیں جنہیں دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا گیا ہے۔

مادورو نے ان الزامات کی تردید کی ہے تو ونیزویلا کے دارالحکومت قارا قاس  میں حکام نے اس جوڑے کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

دریافت کیجیے
امریکہ ہمارے اڈے استعمال کر سکتا ہے: سٹارمر
امریکہ سے مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا:لاریجانی
ایرانی میزائل حملوں سے اسرائیل میں کم از کم 12 افراد ہلاک
جنگ کا دوسرا دن: اسرائیل-امریکہ ایران پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ تہران علاقائی بدلہ لے رہا ہے
پاکستان: خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہرے
میرے خیال میں تہران واقعی معاہدہ نہیں چاہتا تھا: ٹرمپ
ایرانی سڑکوں پر نکل آئے
اسرائیل نے رفح سرحدی چوکی دوبارہ بند کر دی
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے مشرق وسطی کو آتش فشاں میں بدل سکتے ہیں: صدر ایردوان
ایران کی تصدیق: علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے ہیں
پاکستان کے فضائی آپریشن میں ہفتے کی رات تک 352 افغان فوجی اور طالبان ہلاک
ترک وزیر خارجہ کا امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد متعدد عالمی ہم منصبوں سے رابطہ
اسرائیل نے ایرانی رہبران کی بلند پایہ شخصیات، بشمول خامنہ ای اور پزشکیان کو نشانہ بنایا: حکام
ایران کا امریکہ اور اسرائیل پر اقوام متحدہ کے آئین کی خلاف ورزی کرنے کا الزام
خدشات کی تصویری عکاسی: امریکہ-اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد کے مناظر