ترکیہ
2 منٹ پڑھنے
مغربی کنارے کا اسرائیل سے الحاق کا منصوبہ قابل مذمت ہے:ترکیہ
یلدز نے کہا  کہ ترکیہ جنگ بندی کے انتظامات کے مکمل نفاذ کا مطالبہ کرتا ہے، جس میں سلامتی  کونسل کی قرارداد 2803 اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا 20 نکاتی منصوبہ شامل ہیں ۔
مغربی کنارے کا اسرائیل سے الحاق کا منصوبہ قابل مذمت ہے:ترکیہ
ترکیہ / Reuters
19 فروری 2026

ترکیہ کے اقوام متحدہ  میں نمائندے نے کہا ہے کہ اسرائیل کے یکطرفہ اقدامات کا مقصد قبضہ شدہ مغربی کنارے میں اپنی غیرقانونی موجودگی کو مستحکم کرنا ہے، جبکہ انہوں نے غزہ میں جنگ بندی کے مکمل نفاذ اور اس علاقے سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کا بھی مطالبہ کیا۔

گزشتہ روز  فلسطین کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے احمد یلدز نے کہا کہ اگرچہ توجہ غزہ میں نازک جنگ بندی پر مرکوز ہے،  البتہ قابض   طاقت مغربی کنارے میں اپنی غیرقانونی موجودگی کو مستحکم کرنے کے لیے یکطرفہ اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

 یلدز نے کہا  کہ ترکیہ جنگ بندی کے انتظامات کے مکمل نفاذ کا مطالبہ کرتا ہے، جس میں سلامتی  کونسل کی قرارداد 2803 اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا 20 نکاتی منصوبہ شامل ہیں ۔

انہوں نے زور دیا کہ جنگ بندی کو برقرار رکھنا مزید ہلاکتوں کو روکنے ،انسانی امداد کی فراہمی ، اور بامعنی سیاسی مصروفیت کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا  کہ ہم انسانی امداد پر بار بار ہونے والے حملوں اور پابندیوں کی مذمت کرتے ہیں۔ غزہ میں داخل ہونے والی انسانی امداد میں نمایاں اضافہ ہونا چاہیے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ بلا رکاوٹ پہنچنی چاہیے ۔

یلدز نے اس بات پر بھی  زور دیا کہ بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے غزہ سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا ضروری ہے ،ترکیہ تعمیر نو کی کوششوں میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے،۔

مقبوضہ  مغربی کنارے کے بارے میں انہوں نے انقرہ کی اسرائیلی الحاق کی مخالفت کو دہرایا  اور کہا کہ ہم ہر قسم کے الحاق کی قطعی مخالفت کرتے ہیں۔

 ترک نمائندے نے اسرائیل کے مقبوضہ  مغربی کنارے میں اپنی موجودگی بڑھانے کے یکطرفہ اقدامات کو 'بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں' قرار دیا۔

انہوں نے سلامتی کونسل سے فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اسے 'اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی کشیدگی بند کرنے، جنگ بندی کے انتظامات کا مکمل نفاذ کرنے اور  اسے  غیرقانونی قبضے کو ختم کرنے پر مجبور کرنا چاہیے،غزہ میں جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والی رفتار کو دو ریاستی حل کے نفاذ میں منتقل کیا جانا چاہیے،'ترکیہ ان کوششوں میں ایک تعمیری، ذمہ دار اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر کام کرتا رہے گا۔

 

دریافت کیجیے
سوڈان: لاکھوں انسان صرف ایک وقت کھانا کھا رہے ہیں
اسلام آباد میں امن مذاکرات کے غیر نتیجہ خیز ہونے پر ٹرمپ ایران پر نئے فوجی حملوں پر غور کر رہے ہیں
ایران اور امریک اسلام آباد میں مذاکرات کے ختم ہونے سے قبل معاہدے کے بہت قریب تھے: عراقچی
ٹرمپ نے پوپ لیو پر بھی چڑھائی کر دی: مجھے ایسا پوپ نہیں چاہیئے
امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر دی، تیل کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں
ترکیہ: پانچواں انطالیہ ڈپلومیسی فورم عالمی رہنماوں کی میزبانی کے لئے تیار
ترک پراسیکیوٹروں نے نیتن یاہو کے خلاف فردِ جرم تیار کر لی
اسرائیل حزبِ اختلاف: نیتن یاہو ناکام رہے ہیں
عالمی صمود بحری بیڑہ دوبارہ غزہ کے لئے عازمِ سفر
ترکیہ: اردوعان۔ماکرون ملاقات
پاکستان میں 21 گھنٹے کے طویل امریکہ۔ایران مذاکرات بغیر معاہدے کے ختم ہو گئے
امریکی فریق کے غیر معقول مطالبات نے مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہونےدی: ایران ذرائع ابلاغ
اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات شروع
ایران جنگ می امریکی طیارہ نما ڈراون طیاروں کو وسیع پیمانے کا نقصان
اسرائیل کے غزہ کے ایک مہاجر کیمپ پر حملے میں فلسطینی شہری شہید