ترکیہ
2 منٹ پڑھنے
مغربی کنارے کا اسرائیل سے الحاق کا منصوبہ قابل مذمت ہے:ترکیہ
یلدز نے کہا  کہ ترکیہ جنگ بندی کے انتظامات کے مکمل نفاذ کا مطالبہ کرتا ہے، جس میں سلامتی  کونسل کی قرارداد 2803 اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا 20 نکاتی منصوبہ شامل ہیں ۔
مغربی کنارے کا اسرائیل سے الحاق کا منصوبہ قابل مذمت ہے:ترکیہ
ترکیہ / Reuters
16 گھنٹے قبل

ترکیہ کے اقوام متحدہ  میں نمائندے نے کہا ہے کہ اسرائیل کے یکطرفہ اقدامات کا مقصد قبضہ شدہ مغربی کنارے میں اپنی غیرقانونی موجودگی کو مستحکم کرنا ہے، جبکہ انہوں نے غزہ میں جنگ بندی کے مکمل نفاذ اور اس علاقے سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کا بھی مطالبہ کیا۔

گزشتہ روز  فلسطین کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے احمد یلدز نے کہا کہ اگرچہ توجہ غزہ میں نازک جنگ بندی پر مرکوز ہے،  البتہ قابض   طاقت مغربی کنارے میں اپنی غیرقانونی موجودگی کو مستحکم کرنے کے لیے یکطرفہ اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

 یلدز نے کہا  کہ ترکیہ جنگ بندی کے انتظامات کے مکمل نفاذ کا مطالبہ کرتا ہے، جس میں سلامتی  کونسل کی قرارداد 2803 اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا 20 نکاتی منصوبہ شامل ہیں ۔

انہوں نے زور دیا کہ جنگ بندی کو برقرار رکھنا مزید ہلاکتوں کو روکنے ،انسانی امداد کی فراہمی ، اور بامعنی سیاسی مصروفیت کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا  کہ ہم انسانی امداد پر بار بار ہونے والے حملوں اور پابندیوں کی مذمت کرتے ہیں۔ غزہ میں داخل ہونے والی انسانی امداد میں نمایاں اضافہ ہونا چاہیے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ بلا رکاوٹ پہنچنی چاہیے ۔

یلدز نے اس بات پر بھی  زور دیا کہ بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے غزہ سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا ضروری ہے ،ترکیہ تعمیر نو کی کوششوں میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے،۔

مقبوضہ  مغربی کنارے کے بارے میں انہوں نے انقرہ کی اسرائیلی الحاق کی مخالفت کو دہرایا  اور کہا کہ ہم ہر قسم کے الحاق کی قطعی مخالفت کرتے ہیں۔

 ترک نمائندے نے اسرائیل کے مقبوضہ  مغربی کنارے میں اپنی موجودگی بڑھانے کے یکطرفہ اقدامات کو 'بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں' قرار دیا۔

انہوں نے سلامتی کونسل سے فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اسے 'اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی کشیدگی بند کرنے، جنگ بندی کے انتظامات کا مکمل نفاذ کرنے اور  اسے  غیرقانونی قبضے کو ختم کرنے پر مجبور کرنا چاہیے،غزہ میں جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والی رفتار کو دو ریاستی حل کے نفاذ میں منتقل کیا جانا چاہیے،'ترکیہ ان کوششوں میں ایک تعمیری، ذمہ دار اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر کام کرتا رہے گا۔

 

دریافت کیجیے