چین کی مشرقی صوبے جیانگسو میں ایک آتش بازی کی دکان میں دھماکے کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک اور 2 زخمی ہو گئے ہیں۔
چین کے دیہی عوام ،منگل کو متوقع اور قمری تقویم کے اعتبار سے نئے سال اور دیگر اجتماعی تقریبات منانے کے لئے عموماً پھُلجھڑیوں اور تیز آواز والے' آتش بازی' سامان کا استعمال کرتےہیں۔
مقامی حکام کے سوشل میڈیا سے جاری کردہ بیان کے مطابق کل بروز اتوار دوپہر کے وقت تقریباً 2 بج کر 30 منٹ پر صوبہ جیانگسو کے علاقے ڈونگ ہائی کی ایک دکان میں ایک یا زیادہ افراد کی طرف سے آتش بازی کو غلط شکل میں استعمال کرنے کے نتیجے میں دھماکہ ہو گیا ہے۔
ڈونگ ہائی کے حکام نے مزید کہا ہے کہ "متاثرین کی مدد کے لئے ایمرجنسی ٹیمیں، فائر بریگیڈ کا عملہ، عوامی تحفظ اور صحت کا عملہ فوری طور پرجائے وقوعہ پر پہنچ گیا ہے۔
حفاظتی معیار
بیان کے مطابق دھماکے سے لگنے والی آگ پر تقریباً 4:00 بجے تک قابو پا لیا گیا اور واقعے میں 8 افراد ہلاک اور 2 معمولی زخمی ہوئے ہیں۔واقعے کی تحقیق جاری ہے اور ذمہ دار افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
وزارتِ ہنگامی حالات نے کہا ہے کہ قمری نئے سال کی تعطیلات کے ساتھ چین ایک ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے کہ جس میں آتش بازی کا استعمال اپنے عروج پر ہو گا۔وزارتِ ہنگامی حالات نے شہریوں کو دکانوں کے باہربطور تجربہ پھلجھڑیاں چلانے یا پھر سگریٹ نوشی کرنے سے منع کیا ہے۔
وزارت نے کہا ہے کہ ملک بھر کی آتش بازی کمپنیوں کو، حفاظتی تدابیر، مکمل جانچ پرکھ اور خطرات و خدشات پر مبنی، ایک وارننگ نوٹس ارسال کر دیا گیا ہے ۔
واضح رہے کہ چین میں حفاظتی معیاروں کی کمزوری کے باعث صنعتی حادثات عام ہیں۔ رواں مہینے میں چین کے شمالی صوبے شان شی میں ایک بایوٹیک فیکٹری میں دھماکے کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک اور جنوری کے آخر میں صوبہ منگولیا کے ایک اسٹیل کارخانے میں دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 9افراد ہلاک ہو گئے تھے۔












