دنیا
3 منٹ پڑھنے
ایران کے ساتھ مذاکرات میں بلا واسطہ شریک ہوں گا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام پر منگل سے جنیوا میں شروع ہونے والی بات چیت میں "بلا واسطہ طور پر" شامل ہوں گے
ایران کے ساتھ مذاکرات میں بلا واسطہ شریک ہوں گا
ٹرمپ / AP
17 فروری 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام پر منگل سے جنیوا میں شروع ہونے والی بات چیت میں "بلا واسطہ طور پر" شامل ہوں گے۔

 ان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں تہران سود ا کرنا چاہتا ہے۔

ٹرمپ نے پیر کو ایئر فورس ون میں صحافیوں سے کہا کہ میں ان مذاکرات میں بلا واسطہ  طور پر شامل ہوں گا۔

 واضح رہے کہ  مذاکرات سے قبل کشیدگی عروج پر ہے اور امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں ایک دوسرا ایئر کرافٹ کیریئر تعینات کیا ہے۔

ریوٹرز کو بتایا گیا ہے کہ امریکی حکام کے مطابق اگر بات چیت ناکام رہی تو امریکی فوج ممکنہ طور پر ایک طویل فوجی مہم کے لیے تیاری کر رہی ہے۔

مذاکرات کے امکانات کے بارے میں سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ ایران سخت مذاکرات چاہتا تھا لیکن پچھلے موسم گرما میں اس سخت موقف کے نتائج معلوم ہو گئے ۔

ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ اس بار ایرانی مذاکرات کے لیے متحرک ہیں۔

ٹرمپ نے کہا  کہ میں نہیں سوچتا کہ وہ ایک سمجھوتہ نہ ہونے کے نتائج چاہتے ہیں ۔

جون میں امریکہ کے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایرانی جوہری مقامات پر حملہ کرنے سے قبل ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات اس وقت رک گئے تھے جب واشنگٹن نے تہران سے اپنے علاقے پر یورینیم کی افزودگی چھوڑ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

ایران کی سول دفاعی تنظیم نے پیر کو پارس اسپیشل اکنامک انرجی زون میں کیمیائی دفاعی مشق کی تاکہ جنوبی ایران میں واقع اس توانائی مرکز میں ممکنہ کیمیائی واقعات سے نمٹنے کی تیاری مضبوط کی جا سکے۔

ایران اور امریکہ نے عمان کی  ثالثی میں 6 فروری کو مسقط میں اپنی غیر مستقیم جوہری سفارتکاری دوبارہ شروع کی، جو تقریبا آٹھ ماہ بعد ہوئی جب مذاکرات ایک اسرائیلی حملے کے بعد معطل ہو گئے تھے جس نے 12 روزہ جنگ چھیڑ دی۔

دونوں فریقین کی طرف سے تازہ ترین دورِ مذاکرات کے بعد تشخیصات مثبت رہیں، جو بحرِ فارس کے علاقے میں امریکی فوجی تعیناتی کی وجہ سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ہوئے۔

یورینیم کی افزودگی اہم تنازعہ کا نکتہ بنی ہوئی ہے۔ ایران اپنا جوہری  پروگرام محدود کرنے کے بدلے مغربی اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔

دریں اثنا، امریکہ نے ایران سے پوری طور پر افزودگی بند کرنے اور اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو بیرونِ ملک منتقل کرنے کا کہا ہے۔

واشنگٹن نے مذاکرات کے دائرہ کار کو ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں مسلح گروپوں کی حمایت تک بڑھانے کی کوشش کی ہے، جبکہ تہران نے بار بار کہا ہے کہ وہ صرف اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت کرے گا۔

 

دریافت کیجیے
پاکستان کے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے :جے ڈی وینس
آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت غیر مستحکم ہوجائے گی:آسیان
بن گویر کا مسجدِ اقصیٰ پر دھاوا: میں اس جگہ کا مالک ہوں
جنگ بندی کے بعد روس-یوکرین جھڑپوں کی اطلاع
ہنگری:اوربان کا 16 سالہ اقتدار ختم ،ماگیار کو واضح برتری
روس۔یوکرین ایسٹر فائربندی ختم ہو گئی
سوڈان: لاکھوں انسان صرف ایک وقت کھانا کھا رہے ہیں
اسلام آباد میں امن مذاکرات کے غیر نتیجہ خیز ہونے پر ٹرمپ ایران پر نئے فوجی حملوں پر غور کر رہے ہیں
ایران اور امریک اسلام آباد میں مذاکرات کے ختم ہونے سے قبل معاہدے کے بہت قریب تھے: عراقچی
ٹرمپ نے پوپ لیو پر بھی چڑھائی کر دی: مجھے ایسا پوپ نہیں چاہیئے
امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر دی، تیل کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں
ترکیہ: پانچواں انطالیہ ڈپلومیسی فورم عالمی رہنماوں کی میزبانی کے لئے تیار
ترک پراسیکیوٹروں نے نیتن یاہو کے خلاف فردِ جرم تیار کر لی
اسرائیل حزبِ اختلاف: نیتن یاہو ناکام رہے ہیں
عالمی صمود بحری بیڑہ دوبارہ غزہ کے لئے عازمِ سفر