امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام پر منگل سے جنیوا میں شروع ہونے والی بات چیت میں "بلا واسطہ طور پر" شامل ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں تہران سود ا کرنا چاہتا ہے۔
ٹرمپ نے پیر کو ایئر فورس ون میں صحافیوں سے کہا کہ میں ان مذاکرات میں بلا واسطہ طور پر شامل ہوں گا۔
واضح رہے کہ مذاکرات سے قبل کشیدگی عروج پر ہے اور امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں ایک دوسرا ایئر کرافٹ کیریئر تعینات کیا ہے۔
ریوٹرز کو بتایا گیا ہے کہ امریکی حکام کے مطابق اگر بات چیت ناکام رہی تو امریکی فوج ممکنہ طور پر ایک طویل فوجی مہم کے لیے تیاری کر رہی ہے۔
مذاکرات کے امکانات کے بارے میں سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ ایران سخت مذاکرات چاہتا تھا لیکن پچھلے موسم گرما میں اس سخت موقف کے نتائج معلوم ہو گئے ۔
ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ اس بار ایرانی مذاکرات کے لیے متحرک ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ میں نہیں سوچتا کہ وہ ایک سمجھوتہ نہ ہونے کے نتائج چاہتے ہیں ۔
جون میں امریکہ کے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایرانی جوہری مقامات پر حملہ کرنے سے قبل ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات اس وقت رک گئے تھے جب واشنگٹن نے تہران سے اپنے علاقے پر یورینیم کی افزودگی چھوڑ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
ایران کی سول دفاعی تنظیم نے پیر کو پارس اسپیشل اکنامک انرجی زون میں کیمیائی دفاعی مشق کی تاکہ جنوبی ایران میں واقع اس توانائی مرکز میں ممکنہ کیمیائی واقعات سے نمٹنے کی تیاری مضبوط کی جا سکے۔
ایران اور امریکہ نے عمان کی ثالثی میں 6 فروری کو مسقط میں اپنی غیر مستقیم جوہری سفارتکاری دوبارہ شروع کی، جو تقریبا آٹھ ماہ بعد ہوئی جب مذاکرات ایک اسرائیلی حملے کے بعد معطل ہو گئے تھے جس نے 12 روزہ جنگ چھیڑ دی۔
دونوں فریقین کی طرف سے تازہ ترین دورِ مذاکرات کے بعد تشخیصات مثبت رہیں، جو بحرِ فارس کے علاقے میں امریکی فوجی تعیناتی کی وجہ سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ہوئے۔
یورینیم کی افزودگی اہم تنازعہ کا نکتہ بنی ہوئی ہے۔ ایران اپنا جوہری پروگرام محدود کرنے کے بدلے مغربی اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔
دریں اثنا، امریکہ نے ایران سے پوری طور پر افزودگی بند کرنے اور اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو بیرونِ ملک منتقل کرنے کا کہا ہے۔
واشنگٹن نے مذاکرات کے دائرہ کار کو ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں مسلح گروپوں کی حمایت تک بڑھانے کی کوشش کی ہے، جبکہ تہران نے بار بار کہا ہے کہ وہ صرف اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت کرے گا۔











