چین نے کہا ہے کہ جنوبی بحیرہ چین کی صورتحال سے متعلق فلپائن قومی بحری کونسل کا تازہ بیان 'بے بنیاد اور گمراہ کن' ہے اور ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔
چین سرکاری ذرائع ابلاغ کی آج بروز منگل جاری کردہ خبر کے مطابق چین نے جنوبی بحیرہ چین کی صورتحال سے متعلق فلپائن قومی بحری کونسل کے بیان کو 'بے بنیاد اور گمراہ کن' قرار دیا اور اسے مسترد کردیا ہے۔
گلوبل ٹائمز کے مطابق، منیلا کے چین سفارت خانے نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے بحری قانون کنونشن (UNCLOS) میں 'بحری زون' جیسا کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔
سفارت خانے نے کہا ہےکہ مذکورہ کنونشن ، 'قومی ساحلی پانی' (territorial sea) اور 'خصوصی اقتصادی زون' (EEZ) پر مشتمل مخصوص قانونی نظام وضع کرتا ہے۔ فلپائن ان دونوں اصطلاحات کے درمیان فرق کو جان بوجھ کر معدوم کر رہا ہے۔
چین سفارت خانے کے ترجمان نے کہا ہے کہ 'فلپائن پچھلے تمام سالوں میں 'قومی ساحلی پانی' اور' خصوصی اقتصادی زون' کے تصورات کو گڈ مڈ کرکے عوام کو گمراہ کرتا رہا ہے"۔
واضح رہے کہ کل بروز سوموار فلپائن کی قومی بحری کونسل نے کہا تھا کہ مغربی بحیرہ فلپائن میں کشیدگی کی وجہ چین کی، غیر قانونی، جابرانہ، جارحانہ اور فریب کار، سرگرمیاں ہیں۔ بیان میں بیجنگ کے، منیلا کو اشتعال انگیزی کا قصوروار ٹھہرانے سے متعلقہ، دعوے کو بھی مسترد کر دیا گیا تھا۔
کونسل نے زور دیا تھا کہ فلپائنی ماہی گیر ملکی بحری حدود میں اور قانونی طور پر کام کر رہے ہیں۔
کونسل نے فیس بک سے جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ "یہ کارروائیاں جائز، قانونی اور بین الاقوامی قانون خصوصاً UNCLOS اور 2016 کے ثالثی فیصلے کے مطابق ہیں"۔
بیان میں کونسل نے بین الاقوامی قانون کے تحت مذاکرات پر آمادگی کی دوبارہ تصدیق کی چین سے UNCLOS اور 2016 کے ثالثی فیصلے کی پابندی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
دی ہیگ میں اقوامِ متحدہ کے حمایت یافتہ ایک ٹریبونل کے 2016 کے فیصلے نے جنوبی بحیرہ چین میں بیجنگ کے وسیع دعوؤں کو رد کر دیا اور فلپائن کے خصوصی اقتصادی زون میں وسائل کے حقوق کی توثیق کی تھی۔ چین نے کاروائی میں حصہ لینے سے انکار کیا تھا اور فیصلے کے اجراء کے بعد سے اسے مسترد کر رہا ہے۔










