آسٹریلین وزیر اعظم انتھونی البانیز نے منگل کو تاکہ احمد الا احمد کی مزاج پرسی کے لیے جنوبی سڈنی کے سینٹ جارج ہسپتال کا دورہ کیا کریں، یہ وہ مسلمان شخص ہے جس نےبونڈی بیچ کے ہلاکت خیز حملے کے دوران ایک مسلح حملہ آور کو بے بس کر دیا تھا ۔
ہسپتال کے بستر کے پاس کھڑے ہو کر البانیز نے دو بچوں کے والد، 43 سالہ الا احمد کی غیر معمولی بہادری کو سراہا اور انہیں دہشت گردی کے سامنے قومی یکجہتی کی علامت قرار دیا۔
البانیز نے بعد میں X پر لکھا "احمد، آپ ایک آسٹریلوی ہیرو ہیں۔ آپ نے دوسروں کی جان بچانے کے لیے خود کو خطرے میں ڈالا، ہم اس بُرے وقت میں آپ میں آسٹریلوی شہریوں کی بہترین خوبی دیکھتے ہیں۔
الا احمد اسوقت شدید زخمی ہو گیا جب اس نے ایک حملہ آور کو قابو کر لیا، اس کا ہتھیار چھینا اور اسی ہتھیار کو اس کی جانب موڑ دیا جس پر حملہ آور نے ہتھیار ڈال دیا۔ الا احمد کو کئی گولیاں لگیں اور اس کے بازو اور کندھے زخمی ہو گئے۔ ہسپتال کے حکام نے کہا ہے کہ ان کی حالت مستحکم ہے۔
اسپتال میں عیادت دورے کے بعد اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے البانیز نے خبردار کیا کہ خوف یا نفرت سے ملک کو تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا'یہی وہ چیز ہے جس کے دہشت گرد متلاشی ہوتے ہیں، لیکن ہم اپنے ملک کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے،"ہم متحد ہوں گے، ایک دوسرے سے بغلگیر ہوں گے اور ان چالوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔"
15 ہلاک، 41 دیگر زخمی
پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ اتوار کی شام بونڈی بیچ کے مقام پر پیش آیا جب ایک 50 سالہ مرد اور اس کا 24 سالہ بیٹا بھیڑ پر فائرنگ کرنے لگے۔ پندرہ افراد ہلاک ہوئے اور کم از کم 42 دیگر زخمی ہوئے جنہیں سڈنی کے ہسپتالوں میں زیر علاج لیا گیا۔
پولیس کے مطابق حملہ آوروں میں سے ایک کو موقعہ واردات پر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، جبکہ دوسرے کو شدید زخم آئے ہیں اور وہ زیرِ حفاظت ہے۔ حکام نے واقعے کو باضابطہ طور پر دہشت گردانہ عمل قرار دے دیا ہے اور ممکنہ محرکات اور روابط کی تفتیش جاری ہے۔
حملے نے آسٹریلیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور متاثرین اور ان شہریوں کے لیے خراجِ عقیدت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جنہوں نے جان بچانے کے لیے مداخلت کی۔ سڈنی کے بعض حصوں میں پرچم سر نگوں کر دیے گئے اور پیر کی رات ساحلِ سمندر کے طولِ و عرض پر تعزیتی اجتماعات منعقد ہوئے اور شمعیں روشن کی گئیں۔
حکام نے کہا کہ پوری قوم سوگ منا رہی ہے اور تفتیش کار یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حملہ آوروں نے یہ حملہ کیسے کیا، اس دوران اضافی حفاظتی اقدامات برقرار رکھے گئے ہیں۔












