غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
صمود فلوٹیلا 'مرسی مطروح' پہنچ گیا
ہم، غزہ کے قریب پہنچ رہے ہیں اور صیہونیوں کی طرف سے کسی بھی وقت ہمارے خلاف جنگی جرم کا ارتکاب متوقع ہے: صمود فلوٹیلا کمیٹی
صمود فلوٹیلا 'مرسی مطروح' پہنچ گیا
Earlier, the committee said it would dispatch a boat carrying journalists and medical professionals to the Israel-blockaded Gaza. / Reuters Archive
29 ستمبر 2025

غزّہ کی طرف عازمِ سفر 'عالمی صمود امدادی بیڑا' مصر کے بحیرہ روم  ساحل پر 'مرسی مطروح' کے شمال میں پہنچ گیا ہے۔

صمود فلوٹیلا  کی ،غزّہ محاصرہ توڑنے کے لئے قائم کی گئی  ،بین الاقوامی کمیٹی نے اتوار کو ایکس سے جاری کردہ بیان میں  کہا  ہےکہ فلوٹیلا چند گھنٹوں میں اسکندریہ  کے شمالی پانیوں کی طرف روانہ ہوجائے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ "ہم، غزہ کے قریب پہنچ رہے ہیں اور صیہونیوں کی طرف سے کسی بھی وقت ہمارے خلاف جنگی جرم کا ارتکاب متوقع ہے"۔

عالمی صمودکمیٹی  نے کہا ہے کہ "ہمارے مرکزی جہاز 'اوہویلا 'اور 'آل ان' اس وقت  غزہ سے صرف 678 کلومیٹر دور ہیں۔ توقع ہے کہ جہاز  3 سے 4 دن تک غزّہ  پہنچ جائیں گے۔ حال ہی میں دو نئے جہازوں کی شرکت سے ہمارے امدادی بیڑے کے جہازوں کی تعداد    44 ہو گئی ہے"۔

مزید کہا  گیا ہے کہ "صرف دو دن میں، بیڑا خطرناک علاقے میں داخل ہو جائے گا۔ ہمارا عزم مضبوط ہے، لیکن یہ وہ لمحہ ہے جب عالمی سطح پر آپ سب کا  چوکس اور  باہم متحد ہونا  سب سے زیادہ ضروری ہے۔"

اس سے قبل، کمیٹی نے کہا تھا کہ " ہم ،صحافیوں اور طبی ماہرین  پر مشتمل  ایک کشتی کو، اسرائیل کے زیرِ محاصرہ،غزہ بھیجیں گے ۔یہ کشتی،  یکم اکتوبر کو روانہ ہوگی اور 100 سے زائد بین الاقوامی میڈیا کارکنوں اور ڈاکٹروں کو  غزّہ پہنچائے  گی۔

روک تھام

اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے کان کی خبر کے مطابق  اسرائیل، صمود فلوٹیلا  کو روکنے اور اسے قبضے میں لینے کی تیاری کر رہا ہے۔ توقع ہے کہ صمود  چار دن میں یعنی یہودیوں کی مذہبی تعطیل "یوم کپور" کے موقع پر  غزہ کے ساحل تک پہنچے گا ۔

کان نشریاتی ادارے کے مطابق، اسرائیل کی بحری کمانڈو یونٹ 'شایتیت 13' نے حالیہ دنوں میں "سمندر میں جہازوں پرقبضے " کی مشقیں کی ہیں۔یہ مشقیں "جہاز کے عملے کو پہنچنے والے نقصان کو کم سے کم کرنے" کے لیے کی گئی ہیں۔

خبر میں  مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے حال ہی میں بیڑے کے منتظمین سے رابطہ کیا  اور انسانی امداد کو اشکلون پورٹ، یونانی زیر انتظام جنوبی قبرص یا پھر  ویٹیکن کے ذریعے غزّہ پہنچانے  کی پیشکش کی ہے  لیکن منتظمین نے انکار کر دیا  ہے۔ یہ  ایک ایسا قدم  ہےجسے تل ابیب اشتعال انگیزی قرار دیتا ہے۔

اگر یہ کارروائی کی گئی تو متوقع اسرائیلی آپریشن ویسا ہی ہو گا جیسا کہ  جون اور جولائی میں میڈلین اور ہندالہ امدادی جہازوں کو روکنے کے لئے کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ صمود فلوٹیلا رواں مہینے کے آغاز میں ،غزہ پر اسرائیلی  محاصرہ توڑنے اور انسانی امداد، خاص طور پر طبی سامان، کی فراہمی کے لیے، روانہ ہوا تھا۔

2اسرائیل نے2 مارچ سے، غزہ کی گزرگاہوں کو مکمل طور پر بند کر رکھا  ہے، خوراک اور امدادی قافلوں کو روک دیا  اور علاقے میں غذائی قلّت  کو  قحط کی حد تک شدید  کر دیا ہے۔

بحیثیت ایک قابض طاقت کے، اسرائیل غزہ کی طرف جانے والے جہازوں کو روکنے، جہازوں کو قبضے میں لینے اور کارکنوں کو ملک بدر کرنے کا ریکارڈ رکھتا ہے۔ ناقدین ان اقدامات کو بحری قزاقی قرار دیتے ہیں۔

اسرائیلی فوج اکتوبر 2023 سے تا حال غزہ میں ، زیادہ تر عورتوں اور بچوں پر مشتمل ،  66,000 سے زائد فلسطینیوں کو قتل کر چُکی ہے ۔ مسلسل بمباری نے علاقے کو ناقابل رہائش بنا دیا ہے  اور بھوک اور بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن گئی ہے۔