جنوب مشرقی ایشیا میں مسلسل بارشیں تھائی لینڈ اور انڈونیشیا دونوں میں تباہ کن سیلاب اورلرزش اراضی کا موجب بنی ہیں ، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک اور ہزاروں کو اپنے گھربار سے نقل مکانی کرنا پڑی۔
دونوں ملکوں کے حکام خبردار کر رہے ہیں کہ مون سون کے سخت پیٹرنز اور متلاطم موسمی نظام عوام کو مزید خطرات سے دو چار کر سکتے ، جبکہ بچاؤ اور بحالی کے کام جاری ہیں۔
ایک سینئر حکومتی اہلکار کے مطابق تھائی لینڈ میں ملک کے جنوب میں سیلاب سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 33 ہو گئی ہے۔
حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی وجوہات میں لینڈ سلائیڈنگ اور بجلی سے کرنٹ لگنا شامل ہیں۔
دریں اثناء انڈونیشیا کے جزیرے سُومامترا میں موسلا دھار بارشوں کے بعد سیلاب اورلرزشِ اراضی سے کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔
قومی آفات ایجنسی (BNPB) کے مطابق شمالی سوما ترا میں چند دنوں سے شدید موسمی حالات جاری ہیں اور پیر سے ٹاپانولی سیلاٹن ضلع کے بعض حصے زیرِ آب ہیں۔
BNPB کے ترجمان عبدال مہاری نے ایک بیان میں کہا، 'ٹاپانولی سیلاٹن میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں آٹھ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، 58 زخمی ہوئے اور 2,851 رہائشیوں کو نقل مکانی کرنا پڑی۔'
انہوں نے کہا کہ مقامی آفات ایجنسی نے ملبہ ہٹانے کے لیے بھاری مشینری تعینات کر دی ہے، کیونکہ ملبہ سڑکوں کو بند کر چکا ہے اور ضلع تک رسائی متاثر ہوئی ہے۔
موسمیات، آب و ہوا اور جیوفزکس ایجنسی کے مطابق سائیکلون سیڈز — وہ موسمی حالات جن کے اندر ٹراپیکل سائیکلون بننے کی صلاحیت ہوتی ہے — شدید موسمی حالات کی ایک وجہ بتائی گئی ہے ۔
عام طور پر جون سے ستمبر کے درمیان آنے والا سالانہ مون سون کا موسم اکثر تیز بارشیں لاتا ہے، جو لینڈ سلائیڈنگ، اچانک سیلاب اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ بنتی ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلیوں نے بشمول موسم کے دورانیے اور شدت کے طوفانی عمل کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث بارشیں زیادہ ہونے، اچانک سیلاب اور تیز ہوا کے جھکڑوں میں اضافہ ہوا ہے۔
اس ماہ وسطی جاوا میں شدید بارشوں کے نتیجے میں ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ میں کم از کم 38 افراد ہلاک ہوئے اور تقریباً 13 افراد تا حال لاپتہ ہیں۔










