ترکیہ نے یونان کے علاقے 'مغربی تھریس' کے گاؤں 'قاراجااوغلان' میں ترک اقلیت کے ایک پرائمری اسکول پر حملے کی مذّمت کی ہے۔
ترکیہ وزارتِ خارجہ کے ترجمان اونجو کیچےلی نے بروز جمعہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "ہم، نامعلوم افراد کی طرف سے مغربی تھریس کے گاؤں قاراجااوغلان میں واقع اور 2021-2022 کے تعلیمی سال میں یونانی حکام کی طرف سے بند کئے گئے،ترک اقلیت کے پرائمری اسکول پر حملے کی مذّمت کرتے ہیں"۔
حملے کی خبر 4 جنوری کو قاراجا اوغلان کے دیہاتیوں کے نقصان کو دیکھنے کے بعد منظر عام پر آئی۔بعد ازاں پولیس نے تفتیش شروع کروا دی تھی۔
کیچےلی نے کہا ہے کہ "حملہ آور خواہ کوئی بھی ہو ہم ،یونانی حکام سے واقعے کو پوری وضاحت سے منظر عام پر لانے، حملے کے فاعلوں کی جلد از جلد نشاندہی کرنےاور ضروری تدابیر اختیار کرنے کی توقع رکھتے ہیں"۔
انہوں نے کہا ہے کہ "ہم قاراجااوغلان کے ترک النسل رہائشیوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور بحیثیت ترکیہ، لوزان امن معاہدے کے تحت مغربی تھریس کی ترک اقلیت کو تفویض کئے گئے حقوق و مفادات پر بغور نگاہ رکھنا اور ان کا دفاع کرنا جاری رکھیں گے"۔
مغربی تھریس ترک اقلیت کے مشاورتی بورڈ نے بھی اس حملے کی مذمت کی اور ماضی میں بھی اسی نوعیت کے واقعے کی یاد دہانی کروائی ہے۔














