دنیا
3 منٹ پڑھنے
عراق نے دعش کے خلاف اتحادی مشن کی تحلیل کے پہلے مرحلے کو مکمل کر لیا
وفاقی علاقوں میں اتحاد کے مشیران کی موجودگی والے تمام فوجی اڈوں اور کمانڈ ہیڈکوارٹرز سے انخلاء کو  مکمل کر لیا گیا ہے اور ان مقامات کو مکمل کنٹرول کے ساتھ عراقی فورسز کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
عراق نے دعش کے خلاف اتحادی مشن کی تحلیل کے پہلے مرحلے کو مکمل کر لیا
عراقی سیکیورٹی فورسز عراق کے یوم فتح کے جشن کے دوران فوجی گاڑیوں پر سوار ہیں، جو داعش دہشت گردوں کو شکست دینے کی آٹھویں سالگرہ کی یاد میں منایا جا رہا ہے۔ / Reuters
19 جنوری 2026

عراقی نیوز ایجنسی کی اطلاع کے مطابق عراق نے داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کے مشن کے پہلے مرحلے کی تکمیل کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان اتوار کی رات بین الاقوامی اتحاد کے مشن کو ختم کرنے والی اعلیٰ عسکری کمیٹی کے ایک بیان میں کیا گیا۔

کمیٹی نے کہا کہ اس نے وفاقی علاقوں میں اتحاد کے مشیران کی موجودگی والے تمام فوجی اڈوں اور کمانڈ ہیڈکوارٹرز سے انخلاء کو  مکمل کر لیا ہے اور ان مقامات کو مکمل کنٹرول کے ساتھ عراقی فورسز کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

کمیٹی نے بتایا کہ آخری موجود مشیران نے انبار صوبے کے عین الاسد فضائی اڈے اور مشترکہ آپریشنز کمانڈ کے ہیڈکوارٹرز چھوڑ دیے، اور دونوں مقامات کا مکمل انتظامی کنٹرول عراقی سکیورٹی فورسز کو منتقل کر دیا گیا۔

عراق کی وزارت دفاع نے ہفتہ کو کہا تھا کہ امریکی فوجیوں نے عین الاسد فضائی اڈے سے انخلا کر لیا ہے اور عراقی فوج نے اس تنصیبات کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

کمیٹی نے کہا کہ اس تکمیل کے ساتھ بغداد نے امریکہ کے ساتھ دوطرفہ سکیورٹی تعلقات کی جانب منتقلی کر لی ہے۔

یہ تعلقات عسکری تعاون کے بارے میں یادداشتِ تفاہم پر عمل درآمد اور عراقی مسلح افواج کی صلاحیتوں کی ترقی پر مرکوز ہوں گے، جن میں سازوسامان، ہتھیار، تربیت، مشقیں اور مشترکہ آپریشنز شامل ہیں، تاکہ مستمراور داعش کے خلاف  جدوجہد  کو یقینی بنایا جا سکے۔

دریں اثنا، کمیٹی نے کہا کہ اتحاد کا دوسرا اور آخری مرحلہ پڑوسی ملک شام میں شروع ہو گیا ہے، اور باقی داعش اہداف کو شکست دینے اور عراق کی قومی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہم آہنگی جاری رہی۔

بیان کے مطابق اتحاد اپنے شام آپریشنز کے لیے سرحد پار لاجسٹک معاونت شمالی عراق کے عربیل میں ایک فضائی اڈے کے ذریعے فراہم کرے گا۔

کمیٹی نے مزید کہا کہ ضرورت پڑنے پر عراقی فورسز عین الاسد فضائی اڈے سے امریکہ کے ساتھ مشترکہ طور پر داعش کے خلاف آپریشنز کر سکتی ہیں۔

واشنگٹن یا دمشق کی جانب سے فوری طور پر کوئی سرکاری ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔

ریاست ہائے متحدہ  امریکہ اور عراق نے 27 ستمبر 2024 کو ایک مشترکہ بیان میں عراق میں اتحاد کے مشن کو ختم کرنے کے لیے دو مرحلوں پر مشتمل منصوبے پر اتفاق کیا تھا۔

پہلا مرحلہ، جسے ابتدا میں ستمبر 2025 تک مکمل کرنے کا شیڈول تھا، اتحاد کے فوجی مشن کے خاتمے، افواج کے انخلا اور اڈوں کی حوالگی، اور دوطرفہ سکیورٹی شراکت داری میں منتقلی شامل تھا۔

دوسرا مرحلہ ستمبر 2026 تک جاری رہے گا اور اس میں شام میں اتحاد کی فوجی کارروائیوں کا تسلسل شامل ہے، جن کا رابطہ عراق کے ذریعے عربیل کے ایک فضائی اڈے سے ہوگا۔

امریکہ کی قیادت میں اتحاد، جس میں فرانس اور اسپین  جیسے ممالک بھی شامل ہیں، 2014 میں داعش کے خلاف لڑنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا، جب  اس تنظیم نے  عراق اور شام کے  ایک بڑے علاقے کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

عراق نے دسمبر 2017 میں داعش کے خلاف فتح کا اعلان کیا تھا، تاہم وہ گروپ شمالی، مغربی اور مشرقی علاقوں میں بکھرے ہوئے حملوں کے ذریعے اب بھی سرگرم عمل ہے، جس کے نتیجے میں عراقی فورسز کی جانب سے مسلسل سکیورٹی اور عسکری کارروائیاں جاری ہیں۔

 

دریافت کیجیے
پاکستان: خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہرے
میرے خیال میں تہران واقعی معاہدہ نہیں چاہتا تھا: ٹرمپ
ایرانی سڑکوں پر نکل آئے
اسرائیل نے رفح سرحدی چوکی دوبارہ بند کر دی
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے مشرق وسطی کو آتش فشاں میں بدل سکتے ہیں: صدر ایردوان
ایران کی تصدیق: علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے ہیں
پاکستان کے فضائی آپریشن میں ہفتے کی رات تک 352 افغان فوجی اور طالبان ہلاک
ترک وزیر خارجہ کا امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد متعدد عالمی ہم منصبوں سے رابطہ
اسرائیل نے ایرانی رہبران کی بلند پایہ شخصیات، بشمول خامنہ ای اور پزشکیان کو نشانہ بنایا: حکام
ایران کا امریکہ اور اسرائیل پر اقوام متحدہ کے آئین کی خلاف ورزی کرنے کا الزام
خدشات کی تصویری عکاسی: امریکہ-اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد کے مناظر
ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل پر میزائل داغ دیے
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے وسیع پیمانے کے خطرات کو جنم دے دیا
پاکستان کی افغانستان میں فضائی کارروائیاں جاری
امریکہ نے ایران میں "بڑی جنگی کارروائیاں" شروع کر دی ہیں، صدر ٹرمپ