یوکرین کا کہنا ہے کہ روس نے اس کے جنوبی ساحل کے قریب بحیرہ اسود میں دو مال بردار جہازوں کو نشانہ بنایا، جن میں سے ایک جہاز پر سوار ایک شامی عملے کے رکن ہلاک ہو گیا۔
وزیر اولیکسی کولیبا نے ٹیلی گرام پر کہا کہ ایک جہاز جنوبی بندرگاہ چورونومورسک پر اناج لوڈ کرنے جا رہا تھا جبکہ دوسرے کو اوڈیسا کے قریب سویا بین لے جا رہے ہوتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔
کولیبا نے کہا، "بدقسمتی سے اس حملے کے نتیجے میں عملے کے ایک رکن، جو کہ شامی شہری تھا، ہلاک ہو گیا۔"
انہوں نے مزید کہا، "یہ ایک اور مثال ہے کہ روس جان بوجھ کر شہری مقامات، بین الاقوامی شپنگ اور خوراک کی ترسیل کے نظام کو نشانہ بنا رہا ہے۔"
بحیرہ اسود میں ترکیہ کی امن کی اپیل
گزشتہ ماہ جب یوکرین نے علاقے میں روس سے منسلک ٹینکروں پر بحری ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا تھا تو ترکیہ نے بحیرہ اسود میں 'تشویشناک شدت' کے بارے میں انتباہ دیا تھا۔
ماہ دسمبر میں روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن کے ساتھ رو برو بات چیت کے دوران صدر رجب طیب ایردوان نے روس-یوکرین جنگ میں بندر گاہوں اور توانائی کی تنصیبات پر حملوں کے معاملے میں 'محدود جنگ بندی' کا مطالبہ کیا تھا۔













