یمن میں سعودی زیرِ قیادت اتحاد نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ یمن کے جنوبی علیحدگی پسندوں کے لیڈر عیدروس الزبیدی کے بذریعہ کشتی صومالی لینڈ جانے اور وہاں سے صومالیہ کے شہر موغادیشو جانے والے ایک طیارے پر سوار ہونے کا اعلان کیا ہے۔
اتحاد نے آج بروز جمعرات علی الصبح جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ"الزبیدی کو متحدہ عرب امارات کے فوجی افسران کی زیرِ نگرانی صومالی لینڈ سے موغادیشو لے جانے والا طیارہ ابو ظہبی کی ایک فوجی بیس کے لئے پرواز لینے سے پہلے ایک گھنٹے تک انتظار کرتا رہا تاہم الزبیدی کے ابھی تک طیارے میں ہونے یا نہ ہونے کی وضاحت نہیں کی گئی۔
سعودی زیرِ قیادت اتحاد کا بیان، جنوبی عبوری کونسل کے لیڈر الزبیدی کے مذاکرات کی خاطر ریاض کے لئے پرواز نہ کرسکنے اور ان کی عاقبت کے غیر یقینی ہونے سے متعلقہ بیان سے ایک دن بعد جاری کیا گیا ہے۔ اس صورتحال نے، گذشتہ مہینے پھوٹ نکلنے والے عسکری تناو پر قابو پانے کی کوششوں کو متاثر کیا ہے۔
یمن کے جنوب سے تیزی سے پھیلنے والے اس بحران نے، پیٹرول کی دولت سے مالا مال دو مضبوط خلیجی ممالک یعنی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات کی راہ ہموار کر کےایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے ساتھ برسرپیکار یمن کی بین الاقوامی تسلیم شدہ حکومت کے اتحاد کو منتشر کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے 2014 میں، یمن کے دارالحکومت صنعاء پر حوثیوں کے قبضے کے بعد ، پہلی بار یمن میں مداخلت کی تھی۔
اگلے سال متحدہ عرب امارات نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمن حکومت کی حمایت میں سعودی زیرِ قیادت اتحاد میں شمولیت اختیار کی۔
جنوبی عبوری کونسل (STC) ، 2017 میں متحدہ عرب امارات کے تعاون سے قائم کی گئی اور آخر میں جنوبی اور مشرقی یمن پر حکمران 'حکومتی اتحاد' میں شامل ہو گئی تھی۔ جنوبی عبوری کونسل نے گذشتہ مہینے اچانک زمین کے ایک وسیع ٹکڑے پر قبضہ کر کے طاقت کا توازن تبدیل کر دیا اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ایک دوسرے کا حریف بنا دیا تھا۔









