صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے ایک "امن بورڈ کے قیام کا اعلان کیا ہے"، جو محصور فلسطینی علاقے میں اسرائیل کی نسل کشی کے خاتمے کے امریکی حمایت یافتہ منصوبے کے دوسرے مرحلے کا اہم جزو ہے۔
ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر پوسٹ میں کہا کہ یہ میرے لیے بہت اعزاز کی بات ہے کہ میں اعلان کروں کہ امن کا بورڈ قائم ہو چکا ہے،،جبکہ اس ادارے کے ارکان کا اعلان "جلد" کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ ایک معزز بورڈ ہوگا۔
بورڈ کی تشکیل اس وقت ہوئی جب 15 رکنی فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کا اعلان کیا گیا، جس کی ذمہ داری نسل کشی کے بعد غزہ کی روزمرہ حکمرانی کا انتظام ہے۔
یہ کمیٹی امن بورڈ کی نگرانی میں کام کرے گی، جس کی صدارت ٹرمپ کریں گے ۔
اس منصوبے میں غزہ کی حفاظت اور تصدیق شدہ فلسطینی پولیس یونٹس کی تربیت کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
حماس کے سینئر رہنما باسم نعیم نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ اب فیصلہ ثالثوں، امریکی ضامن اور بین الاقوامی برادری کے پاس ہے کہ کمیٹی کو بااختیار بنایا جائے ۔
فلسطینیوں کے لیے مرکزی مسئلہ اسرائیل کی غزہ سے مکمل فوجی انخلا ہے جو منصوبے کے فریم ورک میں شامل ہے لیکن اس کے لیے کوئی تفصیلی ٹائم ٹیبل اعلان نہیں کیا گیا۔
اسرائیلی فورسز نے 71,400 سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں، اور 171,300 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
مطالعات اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں، جو جزوی طور پر اسرائیل کے قبضے میں ہے، وہاں اصل اموات کی تعداد تقریبا 200,000 ہو سکتی ہے۔
10 اکتوبر سے شروع ہونے والی جنگ بندی کے باوجود، اسرائیل غزہ پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور متفقہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے، جس میں 451 فلسطینی ہلاک اور 1,200 سے زائد زخمی ہوئے ہیں









