دنیا
3 منٹ پڑھنے
ٹرمپ: ایران ہر گز جوہری ہتھیاروں کا مالک نہیں بن سکتا
امریکی صدر: ہم چاہتے ہیں کہ ایران ایک "عمدہ، بہترین اور خوشحال ملک" بن جائے، لیکن تہران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہیئں۔
ٹرمپ: ایران ہر گز جوہری ہتھیاروں کا مالک نہیں بن سکتا
Iran and world powers signed a nuclear agreement in 2015 for curbs on Tehran’s nuclear activities in exchange for sanctions relief. But, Trump withdrew from the deal in 2018. / AP

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست کے جوہری پروگرام پر اہم مذاکرات سے قبل کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔

ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "میں چاہتا ہوں کہ ایران ایک شاندار، عظیم اور خوشحال ملک بنے، لیکن وہ جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتے۔" یہ بیان اس وقت دیا گیا جب ان کے نمائندے اسٹیو وٹکوف عمان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کرنے والے تھے۔

وٹیکوف نے جمعہ کو کہا تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا وائٹ ہاؤس کی "سرخ لکیر" ہے۔

انہوں نے دی وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا، "میرا خیال ہے کہ ہمارا مؤقف آپ کے پروگرام کو ختم کرنے سے شروع ہوتا ہے۔ اسوقت ہماری پالیسی یہی ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم دونوں ممالک کے درمیان سمجھوتے کے دیگر طریقے تلاش نہیں کریں گے۔"

یہ بیان اس وقت آیا جب وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ٹرمپ کا "حتمی مقصد" یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار کا مالک نہ بن سکے۔

وٹیکوف نے کہا، "جہاں ہماری سرخ لکیر ہوگی، وہاں آپ کی جوہری صلاحیت کو ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔"

رپورٹ کے مطابق، نمائندے نے کہا کہ اگر تہران اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے سے انکار کرتا ہے تو وہ اس مسئلے کو ٹرمپ کے پاس لے جائیں گے تاکہ اگلے اقدامات کا فیصلہ کیا جا سکے۔

ایران حقیقی اور منصفانہ معاہدے کا خواہاں

ایران نے جمعہ کو کہا  ہے کہ وہ ایک "حقیقی اور منصفانہ" معاہدہ چاہتا ہے۔

دیرینہ حریف چند ہفتوں بعد ملاقات کرنے والے ہیں، صدر ٹرمپ نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک خط بھیج کر سفارت کاری کی خواہش ظاہر کی  تھی لیکن خبردار کیا  تھا کہ  اگر ایران انکار کرتا ہے تو ممکنہ فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے ایکس پراپنی  پوسٹ لکھا تھا کہ"کیمرے کے سامنے صرف بات کرنے کے بجائے، تہران ایک حقیقی اور منصفانہ معاہدہ چاہتا ہے، اہم اور قابل عمل تجاویز تیار ہیں۔"

انہوں نے تصدیق کی کہ وزیر خارجہ عراقچی "امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے لیے مکمل اختیار کے ساتھ عمان جا رہے ہیں" اور مزید کہا کہ اگر واشنگٹن نیک نیتی دکھائے تو آگے کا راستہ "ہموار" ہوگا۔

ایران اور عالمی طاقتوں نے 2015 میں ایک جوہری معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت تہران کی جوہری سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی گئیں اور اس کے بدلے میں پابندیوں میں نرمی کی گئی۔

تاہم، ٹرمپ نے 2018 میں اس معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب، ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف شہری توانائی کے مقاصد کے لیے ہے۔

دریافت کیجیے
ایران امریکی حملوں میں پانچ صوبوں میں 14 افراد ہلاک،، تہران-مشہد ریل آپریشن بند
بھارت جوہری توانائی کے منصوبوں کے تحت آسٹریلیا سے یورینیم برآمد کرے گا
یورپی یونین اور نیٹو کی طرف سے"اتحاد" کا پیغام
نیٹو کا ترکیہ کو بھی  شامل کرتے ہوئے عظیم سطح کے بین الاقوامی دفاعی منصوبوں کا اعلان
چین میں طوفانوں سے کم ازکم 15افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی
فرانس میں ایک اور اہم میوزیم سے قدیم زیورات کی چوری نے ہلچل مچا دی
روسی ڈراونز اور میزائل حملے میں کیف علاقے میں جانی نقصان
امریکہ: یومِ آزادی کے موقع پر فائرنگ، 8 افراد زخمی
اسرائیل: بن گویر نے دورہ نیویارک منسوخ کر دیا
شمالی کوریا: اسٹریٹجک ہتھیاروں کے تجربات
ایران: تہران میں مرحوم خامنہ ای کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی
روس: یوکرین کا سٹریٹیجک علاقہ کوسیانتیو تیوکا مکمل طور پر ہمارے قبضے میں ہے
سعودی قیادت کے اتحاد کی حوثیوں کو  سخت دھمکی
لیونل میسی نے ورلڈ کپ کے میچوں میں 20 واں گول کرتے ہوئے ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا
زلزلے سے ہلاک شدگان کی تعداد 2595 ہو گئی ہے:وینیزویلا
برکینا فاسو میں فوج کا آپریشن،سینکڑوں حملہ آور مارے گئے
روس کا کیف پر شدید حملہ،9 افراد ہلاک
قطر: الثانی۔وٹکوف ملاقات
میکسیکو  نے 40 سال بعد اپنی میزبانی میں منعقدہ ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں ایکواڈور  کو شکست دے دی
روس: 400 سے زیادہ یوکرینی ڈرون مار گرائے گئے ہیں