دنیا
3 منٹ پڑھنے
ٹرمپ: ایران ہر گز جوہری ہتھیاروں کا مالک نہیں بن سکتا
امریکی صدر: ہم چاہتے ہیں کہ ایران ایک "عمدہ، بہترین اور خوشحال ملک" بن جائے، لیکن تہران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہیئں۔
ٹرمپ: ایران ہر گز جوہری ہتھیاروں کا مالک نہیں بن سکتا
Iran and world powers signed a nuclear agreement in 2015 for curbs on Tehran’s nuclear activities in exchange for sanctions relief. But, Trump withdrew from the deal in 2018. / AP
12 اپریل 2025

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست کے جوہری پروگرام پر اہم مذاکرات سے قبل کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔

ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "میں چاہتا ہوں کہ ایران ایک شاندار، عظیم اور خوشحال ملک بنے، لیکن وہ جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتے۔" یہ بیان اس وقت دیا گیا جب ان کے نمائندے اسٹیو وٹکوف عمان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کرنے والے تھے۔

وٹیکوف نے جمعہ کو کہا تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا وائٹ ہاؤس کی "سرخ لکیر" ہے۔

انہوں نے دی وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا، "میرا خیال ہے کہ ہمارا مؤقف آپ کے پروگرام کو ختم کرنے سے شروع ہوتا ہے۔ اسوقت ہماری پالیسی یہی ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم دونوں ممالک کے درمیان سمجھوتے کے دیگر طریقے تلاش نہیں کریں گے۔"

یہ بیان اس وقت آیا جب وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ٹرمپ کا "حتمی مقصد" یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار کا مالک نہ بن سکے۔

وٹیکوف نے کہا، "جہاں ہماری سرخ لکیر ہوگی، وہاں آپ کی جوہری صلاحیت کو ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔"

رپورٹ کے مطابق، نمائندے نے کہا کہ اگر تہران اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے سے انکار کرتا ہے تو وہ اس مسئلے کو ٹرمپ کے پاس لے جائیں گے تاکہ اگلے اقدامات کا فیصلہ کیا جا سکے۔

ایران حقیقی اور منصفانہ معاہدے کا خواہاں

ایران نے جمعہ کو کہا  ہے کہ وہ ایک "حقیقی اور منصفانہ" معاہدہ چاہتا ہے۔

دیرینہ حریف چند ہفتوں بعد ملاقات کرنے والے ہیں، صدر ٹرمپ نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک خط بھیج کر سفارت کاری کی خواہش ظاہر کی  تھی لیکن خبردار کیا  تھا کہ  اگر ایران انکار کرتا ہے تو ممکنہ فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے ایکس پراپنی  پوسٹ لکھا تھا کہ"کیمرے کے سامنے صرف بات کرنے کے بجائے، تہران ایک حقیقی اور منصفانہ معاہدہ چاہتا ہے، اہم اور قابل عمل تجاویز تیار ہیں۔"

انہوں نے تصدیق کی کہ وزیر خارجہ عراقچی "امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے لیے مکمل اختیار کے ساتھ عمان جا رہے ہیں" اور مزید کہا کہ اگر واشنگٹن نیک نیتی دکھائے تو آگے کا راستہ "ہموار" ہوگا۔

ایران اور عالمی طاقتوں نے 2015 میں ایک جوہری معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت تہران کی جوہری سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی گئیں اور اس کے بدلے میں پابندیوں میں نرمی کی گئی۔

تاہم، ٹرمپ نے 2018 میں اس معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب، ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف شہری توانائی کے مقاصد کے لیے ہے۔

دریافت کیجیے
پاکستان: خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہرے
میرے خیال میں تہران واقعی معاہدہ نہیں چاہتا تھا: ٹرمپ
ایرانی سڑکوں پر نکل آئے
اسرائیل نے رفح سرحدی چوکی دوبارہ بند کر دی
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے مشرق وسطی کو آتش فشاں میں بدل سکتے ہیں: صدر ایردوان
ایران کی تصدیق: علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے ہیں
پاکستان کے فضائی آپریشن میں ہفتے کی رات تک 352 افغان فوجی اور طالبان ہلاک
ترک وزیر خارجہ کا امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد متعدد عالمی ہم منصبوں سے رابطہ
اسرائیل نے ایرانی رہبران کی بلند پایہ شخصیات، بشمول خامنہ ای اور پزشکیان کو نشانہ بنایا: حکام
ایران کا امریکہ اور اسرائیل پر اقوام متحدہ کے آئین کی خلاف ورزی کرنے کا الزام
خدشات کی تصویری عکاسی: امریکہ-اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد کے مناظر
ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل پر میزائل داغ دیے
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے وسیع پیمانے کے خطرات کو جنم دے دیا
پاکستان کی افغانستان میں فضائی کارروائیاں جاری
امریکہ نے ایران میں "بڑی جنگی کارروائیاں" شروع کر دی ہیں، صدر ٹرمپ