ترک دفاعی صنعتی فرموں نے قدرتی آفات میں استعمال کے اہل اور زندگی بچانے والے ڈراونز تیار کیے ہیں
حال ہی میں ویت نام کے Cu Jut ضلع میں سیلاب کے باعث پھنسے ایک شخص کو ڈرون کے ذریعے محفوظ مقام تک پہنچایا گیا ہے۔
ترک دفاعی صنعتی فرموں  نے قدرتی آفات میں استعمال کے اہل اور زندگی بچانے والے ڈراونز تیار کیے  ہیں
زائرون ڈائنامکس، ٹٹرا ٹیکنالوجی اور داسال جیسی معروف کمپنیاں ایسی مصنوعات تیار کرتی ہیں جو مشکل آفاتی حالات میں استعمال کی جا سکتی ہیں۔ / اے اے / AA
25 نومبر 2025

ترکیہ کی چند معروف  فرمیں ڈراونز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیشِ نظر قدرتی آفات کے دوران ریسکیو آپریشنز کو سہل بنانے کے لیے جان بچانے والے ڈرون تیار کر رہی ہیں۔

حال ہی میں ویت نام کے Cu Jut ضلع میں سیلاب کے باعث پھنسے ایک شخص کو ڈرون کے ذریعے محفوظ مقام تک پہنچایا گیا۔ جب روایتی ریسکیو طریقے سیلابی پانی اور دشوار گزار زمین کی وجہ سے ناکام ہو گئے، تو ایک ایسا ڈرون جسے عام طور پر زرعی کاموں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، متاثرہ شخص کی زندگی بچانے کا وسیلہ بنا۔

اس ڈرون کی وزن  اٹھانے کی صلاحیت 100 کلوگرام (220 پاؤنڈ) تھی، جس نے اسے قابل رسائی مقام تک پہنچایا، اور ریسکیو ٹیموں نے اسے محفوظ طریقے سے پانی سے نکالا۔

اسی طرح ترکیہ  کی دفاعی کمپنیوں کے بلند سطح کا بوجھ  اٹھا سکنے  والے ڈرون بھی انہی خصوصیات کے باعث ریسکیو آپریشنز کے لیے مناسب قرار پاتے ہیں۔

Zyrone Dynamics، Titra Technology اور DASAL جیسی معروف کمپنیوں نے ایسے ماڈلز تیار کیے ہیں جو مشکل حالات میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

Zyrone Dynamics کا ZD360 کارگو ڈراون اگلی نسل کا ہائی کیپیسِٹی حل ہے جو 60 کلوگرام (132 پاؤنڈ) کے پے لوڈ کے ساتھ 10 کلومیٹر (6.2 میل) کے دائرے میں آپریشن کر سکتا ہے۔ یہ 1 کلومیٹر (0.62 میل) کے اندر 100 کلوگرام اٹھانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

ڈرون کا کمپیکٹ سائز — جو مشابہ نظاموں کے قریباً ایک چوتھائی کے برابر ہے — اسے گاڑی کے ذریعے کہیں بھی لے جانے اور جلد تعینات کرنے کے قابل بناتا ہے۔

Titra Technology کا آلپین ترکیہ کا پہلا  بلا  پائلٹ کا ہیلی کاپٹر ہے۔ یہ ونگ ایئر کرافٹ، ایندھن سمیت، 200 کلوگرام (440 پاؤنڈ) تک کا پے لوڈ اٹھا سکتا ہے۔

Alpin کی اعلیٰ نقل و حمل صلاحیت اور طویل پرواز کی مدت اسے پہاڑی علاقوں یا سیلاب اور آتش زدہ جیسے خطرناک مقامات پر آپریشنز کے لیے اہم اثاثہ بناتی ہیں۔

دریں اثنا، DASAL مختلف کارگو ڈراون  تیار کرتی  ہے جن میں سے ایک PUHU C75 ہے۔ یہ ڈرون 75 کلوگرام (165 پاؤنڈ) تک وزن اٹھا سکتا ہے۔

PUHU C75، اپنے سابقہ ماڈل کا اپ گریڈ ہے جس میں پے لوڈ کی زیادہ صلاحیت اور مستقبل کے تقاضوں کو مدنظر رکھا گیا ہے؛ یہ بدلتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور مختلف صارفین کی بڑھتی ہوئی پے لوڈ اور بڑھائی گئی رینج کی ضروریات کا حساب رکھتا ہے۔

PUHU C100 کو میدان میں اہم لاجسٹک ضروریات پورا کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، جس میں 100 کلوگرام پے لوڈ، طویل رینج اور زیادہ افقی رفتار شامل ہیں۔

DASAL نے CONDOR-C150 بھی تیار کیا ہے، جو 30 منٹ تک 150 کلوگرام (330 پاؤنڈ) کا پے لوڈ اٹھا سکتا ہے۔

ترکیہ کی دفاعی کمپنیوں کے بھاری پے لوڈ، خود مختار اور حملوں کے خلاف مزاحم ڈرون اور کارگو ڈراون دفاعی صنعت میں استعمال ہوتے ہیں، مگر سیلاب، زلزلے اور آگ جیسی آفات کے دوران ریسکیو اور انسانی امدادی کاموں میں بھی با  صلاحیت  ہیں۔

یہ نظام تیزی اور مؤثر ریسکیو آپریشنز کے ذریعے انسانی جانی نقصان اور آفات کے باعث ماحولیاتی و مادی نقصانات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جبکہ نجات دینے والوں کو خطرناک علاقوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

 

دریافت کیجیے
ترک وزیر خارجہ کا امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد متعدد عالمی ہم منصبوں سے رابطہ
اسرائیل نے ایرانی رہبران کی بلند پایہ شخصیات، بشمول خامنہ ای اور پزشکیان کو نشانہ بنایا: حکام
ایران کا امریکہ اور اسرائیل پر اقوام متحدہ کے آئین کی خلاف ورزی کرنے کا الزام
خدشات کی تصویری عکاسی: امریکہ-اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد کے مناظر
ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل پر میزائل داغ دیے
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے وسیع پیمانے کے خطرات کو جنم دے دیا
پاکستان کی افغانستان میں فضائی کارروائیاں جاری
امریکہ نے ایران میں "بڑی جنگی کارروائیاں" شروع کر دی ہیں، صدر ٹرمپ
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد دنیا بھر میں خطرے کے بادل منڈلانے لگے
اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا
اسرائیل کے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے مقامات پر حملے
کینیڈا نے تل ابیب سے عملے کو واپس بلا لیا اور اپنے شہریوں سے ایران سے نکلنے کا انتباہ
امریکہ کی افغانستان کے خلاف پاکستانی فضائی آپریشنز کی حمایت
افغانستان کی طالبان انتظامیہ کے331 اہلکار و خوارج ہلاک
پاکستان نے افغانستان سرحد پر تناؤ کے درمیان ڈرون حملے ناکام بنا دیے