دنیا
3 منٹ پڑھنے
دیکھتے ہیں یوکرین کا سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے:کریملن
کریملن نے کہا  کہ ہم دیکھیں گے کہ اس سمت میں معاملات کیسے آگے بڑھتے ہیں اور مزید کہا کہ ماسکو نے ابھی تک اس مسئلے پر بشمول امریکہ کسی سے بات نہیں کی ہے
دیکھتے ہیں یوکرین کا سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے:کریملن
کریملن / Reuters

 یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے اس بیان کے بعد کہ اگر سیکیورٹی یقینی بنائی گئی تو وہ صدارتی انتخابات کے لیے "تیار" ہیں روس نے کہا ہے کہ وہ  دیکھے گا کہ حالات کیسے آگے بڑھتے ہیں۔

ایک پریس بریفنگ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ یوکرین میں انتخابات کرانے کے مسئلے پر روسی صدر ولادیمیر پوتن "کافی عرصے سے بات کر رہے ہیں"، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی "حال ہی میں اس  پر بات کی ہے"۔

پیسکوف نے کہا  کہ ہم دیکھیں گے کہ اس سمت میں معاملات کیسے آگے بڑھتے ہیں اور مزید کہا کہ ماسکو نے ابھی تک اس مسئلے پر ، بشمول امریکہ کسی سے بات نہیں کی  ہے ۔

پیسکوف نے زیلنسکی کے اس بیان کے بارے میں کہا کہ اگر روس بھی متفق ہو جائے تو یوکرین جنگ بندی کے لیے تیار ہے۔

زیلنسکی نے منگل کو کہا کہ اگر سیکیورٹی اور قانونی حالات یقینی بنائے گئے تو وہ 60-90 دن کے اندر صدارتی انتخابات کرانے کے لیے "تیار" ہیں، اور امریکہ اور یورپی شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ جنگی ووٹ کے لیے ضروری ماحول پیدا کرنے میں مدد کریں۔

زیلنسکی کے یہ بیانات اس وقت آئے جب ٹرمپ نے پیر کو پولیٹیکو کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ اب یوکرین کے لیے انتخابات کرانے کا "وقت" آ گیا ہے، اور کہا کہ کیف صدارتی ووٹ سے بچنے کے لیے "جنگ کا استعمال کر رہا ہے" اور خبردار کیا کہ طویل عرصے تک بیلٹ باکس  کی عدم موجودگی یوکرین کی جمہوریت کو نقصان پہنچانے کا خطرہ رکھتی ہے۔

زیلنسکی نے اس دعوے کو مسترد کیا کہ کیف سیاسی فائدے کے لیے ووٹ سے گریز کر رہا ہے، اور کہا کہ ساڑھے 3 سال  سے زائد جاری رہنے والی یوکرین جنگ اس بات سے متعلق نہیں کہ کون عہدہ سنبھالتا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ انتخابات کرانے کے فیصلے صرف یوکرینیوں کے اختیار میں ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ یہ مسئلہ ان کے حالیہ امریکی حکام سے رابطوں میں نہیں اٹھایا گیا۔

کریملن کے ترجمان نے پولیٹیکو کے ساتھ ٹرمپ کے انٹرویو پر بھی مزید بات کی اور کہا کہ ماسکو نے امریکی صدر کے انٹرویو، خاص طور پر یوکرین امن عمل کے حصے کا "احتیاط سے" جائزہ لیا۔

کئی لحاظ سے، صدر ٹرمپ نے اس تنازعے کی جڑوں کی وجوہات [انٹرویو کے دوران] کو چھوا،" پیسکوف نے مزید کہا کہ یوکرین کی نیٹو رکنیت اور علاقوں کے مسئلے پر ان کا بیان "ہماری سمجھ بوجھ سے ہم آہنگ ہے۔"

انہوں نے کہا کہ یہ پرامن تصفیے کے امکانات کے لحاظ سے بہت اہم ہے۔

دریافت کیجیے
صدر ایردوان : "ہم نے اپنے دوستوں اور دشمنوں کو خطے میں عدم استحکامی برداشت نہ کرنے کا پیغام دیا ہے
"دست خدا" گول میں زیر استعمال گیند 33٫5 لاکھ ڈالر میں فروخت
جنوبی تھائی لینڈ میں چار صوبوں میں 70 سے زیادہ مقامات پر آتشزدگی اور بم حملے
اسرائیلی فوج نے تین سالہ جنگ میں 30 سال کے استعمال کے لائق گولیاں استعمال کی ہیں
امریکہ میں، 75 ممالک کے شہریوں پر عائد کردہ امیگرینٹ ویزے پر پابندی کالعدم قرار
امریکہ، ایران کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ میں داخل ہو گیا ہے: بیسنٹ
اسرائیلی فوج کی جنوبی شام میں  ایک نئی فوجی کارروائی
غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں نے قصرہ میں تین فلسطینی گھروں کو گھیرے میں لے لیا
کینیڈا ہماری ریاست بنے بغیر تمام فوائد چاہتاہے:ٹرمپ
ہمسایہ ممالک امریکہ کا آلہ کار نہ بنیں ورنہ انجام ٹھیک نہ ہوگا:ایران
"اسرائیل پر پابندی ختم "کولومبیا کوئلہ برآمد کرےگا
جب تک اقتدار پر ہوں فلسطینی ریاست کا قیام ممکن نہیں ہوگا:نیتن یاہو
ایران ' نہ جنگ ، نہ امن' کی صورتحال کا خاتمہ چاہتا ہے:پزشکیان
اسرائیلی فوجی حکام نیتن یاہو انتخابات میں تاخیر کرنے کے لیے تشدد میں اضافے کی کوشش کر سکتے ہیں: رپورٹ
قالیباف: ہمیں ہمسایہ ممالک سے سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے پیغامات موصول ہوئے ہیں