واشنگٹن نے اعلان کیا ہے کہ وینیزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو اس ہفتے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گی، جب کہ کاراکاس میں عبوری قیادت پر سیاسی قیدیوں کی رہائی تیز کرنے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے۔
ماچادو اور ان کے جانشین ایڈمنڈو گونزالیز یوریٹیا کو نظر انداز کرتے ہوئے ٹرمپ ان کے بجائے عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے روڈریگز کو خبردار کیا ہے کہ وہ خاص طور پر ملک کے وسیع تیل کے ذخائر تک رسائی دینے کے معاملے میں واشنگٹن کی پالیسیوں کی پیروی کریں ورنہ نتائج بھگتنے ہوں گے
ایک امریکی انتظامیہ کے اہلکار نے کہا کہ ریپبلکن صدر جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں ماچادو سے ملاقات کریں گے۔
دریں اثنا وینیزویلا نے اعلان کیا کہ اس نے مادورو کے دور میں قید مزید 116 افراد کو رہا کر دیا ہے جن میں سے کئی 2024 کے متنازع صدارتی انتخاب کے بعد احتجاج میں شرکت کرنے پر قید تھے۔
ماچادو نے پیر کو پوپ لیو چودہویں سے قیدیوں کے حق میں "سفارش" کرنے کی اپیل کی۔
" ماچادو نے ویٹیکن میں پوپ سے ملاقات کے بعد کہا کہ میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ اُن تمام وینیزویلا کے باشندوں کے حق میں سفارش کریں جو اب بھی اغوا شدہ اور لاپتہ ہیں،"
روڈریگز حالانکہ مادورو کی سخت حامی ہیں باوجود اس کے وہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہیں جو وینیزویلا کے وسیع تیل کے ذخائر سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
امریکی مندوبین نے گزشتہ ہفتے کاراکاس کا دورہ کیا تاکہ واشنگٹن کے سفارت خانے کو دوبارہ کھولنے پر بات چیت کی جا سکے جو کہ سات سال قبل بند کر دیا گیا تھا۔
اتوار کو ٹرمپ نے کہا کہ وہ روڈریگز سے ملاقات کے لیے تیار ہیں اور ان کی انتظامیہ واقعی بہت اچھے انداز میں امریکہ کے ساتھ کام کر رہی ہے۔
ماچادو کو پچھلے سال نوبل امن انعام سے نوازا گیا تھا، اور انہوں نے اسے ٹرمپ کے نام کیا، جنہوں نے یہ بات چھپائی نہیں کہ وہ اس اعزاز سے محروم رہنے پر مایوس ہیں۔
کاراکاس میں پیر کو روڈریگز نے کئی وزارتی تبدیلیاں کیں اور مادورو کے ایک سابق باڈی گارڈ کو صدارتی دفتر کا وزیر نامزد کیاجسے ان کے شیڈول کی نگرانی اور ریاستی اداروں کے ساتھ رابطہ کرنے کا ذمہ سونپا گیا ہے ۔
انہوں نے صدارتی گارڈ کے سربراہ کو بھی تبدیل کیا، جو اس خوفناک انسدادِ خفیہ یونٹ کی قیادت کرتا ہے۔
ان کی حکومت نے کہا کہ وہ پیر کو ان کے مندوبین کے ساتھ مذاکرات کے بعد یورپی یونین اور برطانیہ کے ساتھ 'نئی ایجنڈا' پر عمل کرنے کے لیے تیار ہے۔











