امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو معزول کرنے کے بعد کیوبا پر آنکھیں گاڑے ہوئے ہیں۔
روزنامہ وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی جمعرات کی اشاعت میں کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ، وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی معزولی سے حوصلہ پا کر کیوبا حکومت کے اندر بھی ایسے حلیف تلاش کر رہی ہے جو سال ختم ہونے سے پہلے ملک میں کمیونسٹ حکمرانی کے خاتمے پر گفت و شنید میں مدد دے سکیں۔
خبر کے مطابق امریکی عہدیداروں کا خیال ہے کہ کیوبا کی معیشت زوال کے قریب ہے اور وینزویلا سے ملنے والی حمایت ختم ہونے کے بعد حکومت غیر معمولی طور پر کمزور ہو گئی ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ حکومت کو ختم کرنے کا کوئی مفّصل منصوبہ سامنے نہیں آیا لیکن امریکی عہدیدارمادورو کے اغوا اور اس کے بعد دی گئیں رعایتوں کو ہوانا کے لیے بھی بطور مثال اور وارننگ ہر دوشکلوں میں دیکھ رہے ہیں۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 11 جنوری کے سوشل میڈیا بیان میں کہا تھا کہ " کیوبا کو مزید تیل یا پیسے نہیں دیئے جائیں گے ۔میں انہیں سختی سے کسی معاہدے کا مشورہ دیتا ہوں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے" ۔
خبر کے مطابق امریکی عہدیداروں نے، کیوبا انتظامیہ کے اندر گفت و شنید کے لئے تیار افراد کی نشاندہی کی خاطر، میامی اور واشنگٹن میں کیوبا کے جلاوطن گروپوں سے ملاقاتیں کی ہیں۔
خبر میں کہا گیا ہے کہ کاراکاس پر امریکی چھاپے میں مادورو کے حفاظتی دستے کے 32 فوجی اور انٹیلی جنس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مادورو کے اغوا پر منتج ہونے والی کاروائی میں بھی اندر کے ہی ایک شخص نے مدد کی تھی۔
امریکی عہدیداروں کے مطابق اگرچہ امریکہ نے کُھل کر کیوبا کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی نہیں دی لیکن وینزویلا پر چھاپہ ،نافرمانی کی صورت میں، ممکنہ نتائج کا اشارہ دینے کے لیے تھا۔
انٹیلی جنس اندازوں کے مطابق کیوبا کی معیشت خطرناک حالت میں ہے۔ملک میں اشیائے ضروریہ، ادویات اور بجلی کی قلت ہے۔ واشنگٹن ،وینزویلا سے تیل کی فراہمی روک کر اور کیوبا کے بیرونِ ملک طبی مشنوں کو نشانہ بنا کر حکومت کو مزید کمزور کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
وائٹ ہاؤس سے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ "مادورو، کیوبا کی تباہی کے ذمہ دار نااہل کمیونسٹ حکمرانوں کو سہارا دینے کے بھی ذمہ دار ہیں۔ کیوبا کو بہت دیر ہونے سے پہلے ایک معاہدہ کر لینا چاہیے"۔
امریکہ وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ کیوبا میں جمہوری انتظامیہ کا قیام اور مخالف عسکری و انٹیلی جنس قوتوں کی جزیرے میں داخلے پر بندش امریکہ کے مفاد میں ہے۔
خبر میں کہا گیا ہے کہ بعض امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ، حکمرانوں کی تبدیلی کی روایتی حکمتِ عملی اختیار کرنے کے بجائے دباؤ ڈالنا اور گفت و شنید کے لیے گنجائش چھوڑنا پسند کرتے ہیں۔
پھر بھی، ان کے کئی حلیف کسی ممکنہ عدم استحکام کی طرف توجہ مبذول کروا رہے اور کمیونسٹ حکومت کے خاتمے کی امید لگائے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ کیوبا کی قیادت نے دہائیوں تک امریکی دباؤ کا سامنا کیا ہے۔
کیوبا کے صدر میگوئل دیاز۔کانیل نے مادورو کا دفاع کیا اور ہلاک ہونے والے کیوبائی اہلکاروں کی یاد میں منعقدہ تقریب میں کہا تھا کہ "نہ تو ہتھیار ڈالنے یا سرمایہ دارانہ نظام جیسی کوئی بات ممکن ہے اور نہ ہی دھونس دھمکی پر مبنی کسی سمجھوتے کا سوال پیدا ہوتا ہے"۔
ہوانا میں لو ڈ شیڈنگ میں مستقل اضافہ اور ایندھن کی قلت کی وجہ سے رات کےوقت گلیوں کی خاموشی کو صرف گھروں سے اُٹھنے والی برتنوں کی آوازہی توڑتی ہے۔ یہ چیز، بڑھتی ہوئی مایوسی کی، ایک خاموش اور بے نام علامت ہے۔
اپنی پوری زندگی ہوانا میں گزارنے والے ایک ریٹائر شخص روڈولفو جیمینز نے کہا ہے کہ "آپ نہیں بتا سکتے کہ وہ کون ہیں۔ وہ نہ تو چیختے ہیں نہ ہی کچھ کہتےہیں۔ بس برتن بجائے جا رہے ہیں۔ لوگ، شکایت کے خوف سے ایسا صرف رات کو کرتے ہیں"۔












