ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے آج بروز جمعہ، رات بھر جاری رہنے والے ملک گیر مظاہروں کے بارے میں، خاموشی توڑی اور کہا ہے کہ ایران میں امریکی اور اسرائیلی "دہشت گرد ایجنٹوں" نے آگ لگائی اور تشدد بھڑکایا ہے۔
ایران سرکاری ٹیلی ویژن کی صبح 8 بجے کی نشریات میں مظاہروں کے بارے میں سرکاری سطح کی، مختصر اور دبے الفاظ میں، پہلی خبر نشر کی گئی ہے۔
خبر میں ، احتجاج کے دوران پیش آنے والے پُرتشدد واقعات کے نتیجے میں جانی نقصان کا دعویٰ کیا گیا ہے لیکن اس کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔
مزید کہا گیا ہےکہ مظاہروں کے دوران "شہریوں کی ذاتی گاڑیاں، موٹر سائیکلیں اور میٹرو جیسے عوامی مقامات، فائر بریگیڈ کے ٹرک اور بسیں جلا دی گئی ہیں"۔
ایران حکومت نے انٹرنیٹ اور بین الاقوامی فون کالیں بند کر دی ہیں جس سے ملک کے اندر موجود لوگوں سے رابطہ مشکل ہو گیا ہے۔
ایران شاہی خاندان کے رکن 'رضا پہلوی' کی طرف سے بروز جمعرات جاری کی گئی عوامی اپیل کے بعد مقامی وقت کے مطابق شام 8 بجے سے ملک میں بڑے پیمانے کے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ رضا پہلوی ، 1979 کے انقلاب سے معزول کئے گئے شاہِ ایران کے آخری بیٹے ہیں، جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور خود کو "ولیعہد" کہتے ہیں۔
نیٹ بلاکس نے ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "لائیو میٹرکس ظاہر کرتا ہے کہ ایران اس وقت ملک گیر انٹرنیٹ بندش کے دور سے گزر رہا ہے" تاہم حکام کی طرف سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔
انٹرنیٹ بندش، ریال کی قدر میں کمی اور اقتصادی مشکلات کے خلاف ہفتوں سے جاری، احتجاجی مظاہروں کے بعد شروع ہوئی ہے۔
حقوقِ انسانی کے گروپوں کا کہنا ہے کہ مظاہرے تہران کے گرینڈ بازار میں سے شروع ہوئے اور تب سے کم از کم 38 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
تہران نے امریکہ کی "ایران کے اندرونی امور میں مداخلت" کی مذّمت کی اور واشنگٹن کو "ایرانی عوام کے خلاف دشمنی پالنے" کا قصوروار ٹھہرایا ہے۔














