دنیا
3 منٹ پڑھنے
ٹرمپ نے روس۔یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے 28 نکاتی منصوبے پر دستخط کر دیئے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے پر مبنی 28 نکاتی منصوبے کی منظوری دے دی ہے
ٹرمپ نے روس۔یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے 28 نکاتی منصوبے پر دستخط کر دیئے
فائل - صدر ڈونلڈ ٹرمپ لاس ویگاس میں ایک تقریب میں خطاب کر رہے ہیں۔ / AP
20 نومبر 2025

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے پر مبنی 28 نکاتی منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔

ایک اعلیٰ حکومتی اہلکار نے این بی سی نیوز کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے یوکرین۔روس جنگ کے خاتمے پر مبنی منصوبے پر دستخط کر دیئے ہیں۔یہ منصوبہ، ایک پائیدار امن کے قیام کی خاطر،  دونوں فریقین کو سلامتی کی ضمانتیں فراہم کرنے پر مبنی ہے ۔اس میں وہ  شقیں بھی شامل ہیں جنہیں  یوکرین پائیدار امن کے لیے ضروری خیال کرتا ہے"۔

اہلکار نے منصوبے کی تفصیلات بیان کرنے سے گریز کیا اور کہا ہے کہ ابھی منصوبہ، متعلقہ فریقین کے درمیان، مذاکراتی مراحل میں ہے۔

تین اور  امریکی اہلکاروں کی  بھی این بی سی نیوز کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق  امن معاہدے کا خاکہ ابھی کیف کو پیش نہیں کیا گیا۔

دو امریکی اہلکاروں، ایک یورپی اہلکار اور یوکرینی حکومت کے ایک قریبی ذریعے نے بتایا  ہے کہ بدھ کو آرمی سیکریٹری ڈینیئل ڈریسکول  کی زیرِ قیادت ایک امریکی فوجی وفد نے  دو مقاصد کے  تحت کیف کا دورہ کیا ہے۔یہ دو مقاصد فوجی حکمتِ عملی اور ٹیکنالوجی پر گفتگو کرنا اور انتظامیہ کی امن عمل کی بحالی کی کوششوں کی حمایت کرنا ہے۔

 ایک امریکی اہلکار نے اس دورے کو وائٹ ہاؤس کی ’امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے‘ کی کوشش کا حصہ قرار دیا ہے۔

تاہم، کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ روس،  کیف میں بات چیت کے بعد ڈریسکول سے ملاقات کا کوئی پروگرام نہیں رکھتا۔ یہ بیان   اشارہ کرتا ہے  کہ اگست میں الاسکا کے شہر اینکرج میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادیمیر پوتن کے درمیان اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد سے تاحال صورتحال میں کوئی  نمایاں پیشرفت نہیں ہوئی۔

یوکرینی حکومت کے ایک قریبی ذریعے اور ایک یورپی اہلکار نے کہا ہے کہ یوکرین کو مجّوزہ امن منصوبے کی تشکیل میں کوئی کردار نہیں دیا گیا۔ یوکرین کو منصوبے کے عمومی خاکے سے آگاہ کیا گیا تھا مگر تفصیلی بریفنگ یا رائے طلب نہیں کی گئی۔

دریں اثنا یوکرینی حکومت کے قریبی ذریعے نے کہا ہے کہ وولودیمیر زیلنسکی کے خلاف بدعنوانی  اسکینڈل کے دوران منظرِ عام پر لائے جانے کی وجہ سے اس تجویز کا وقت  سیاسی مقاصد سے منسلک ہے۔ یہ تجویز، کریملن کی طرف سے کمزور ہوتی یوکرینی قیادت کا، فائدہ اٹھانے کی کوشش ہو سکتی ہے۔

روس  وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا بروز بدھ جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ  ذرائع  ابلاغ کی حالیہ خبروں کے بیان کردہ یوکرین سے متعلقہ ’معاہدوں‘ کے بارے میں امریکی سرکاری ذرائع کی طرف سے کوئی معلومات وصول نہیں کی گئیں۔

کریملن نے  کہا تھا کہ الاسکا میں پوتن کی ٹرمپ سے ملاقات کے بعد ممکنہ یوکرین امن معاہدے کے بارے میں اس کا موقف تبدیل نہیں ہوا۔

ایکسیوس نیوز سائٹ  کے مطابق، ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور پوتن کے ایلچی کیریل دمترییف نے گذشتہ  ماہ کے آخر میں  فلوریڈا میں جنگ ختم کرنے کے لیے ایک فریم ورک پر مذاکرات کئے تھے۔خبر کے مطابق مذکورہ  28 نکاتی امریکی منصوبہ، ٹرمپ کے، غزہ  جنگ بندی منصوبے  سے  متاثر ہے۔

دریافت کیجیے
پاکستان: خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہرے
میرے خیال میں تہران واقعی معاہدہ نہیں چاہتا تھا: ٹرمپ
ایرانی سڑکوں پر نکل آئے
اسرائیل نے رفح سرحدی چوکی دوبارہ بند کر دی
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے مشرق وسطی کو آتش فشاں میں بدل سکتے ہیں: صدر ایردوان
ایران کی تصدیق: علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے ہیں
پاکستان کے فضائی آپریشن میں ہفتے کی رات تک 352 افغان فوجی اور طالبان ہلاک
ترک وزیر خارجہ کا امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد متعدد عالمی ہم منصبوں سے رابطہ
اسرائیل نے ایرانی رہبران کی بلند پایہ شخصیات، بشمول خامنہ ای اور پزشکیان کو نشانہ بنایا: حکام
ایران کا امریکہ اور اسرائیل پر اقوام متحدہ کے آئین کی خلاف ورزی کرنے کا الزام
خدشات کی تصویری عکاسی: امریکہ-اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد کے مناظر
ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل پر میزائل داغ دیے
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے وسیع پیمانے کے خطرات کو جنم دے دیا
پاکستان کی افغانستان میں فضائی کارروائیاں جاری
امریکہ نے ایران میں "بڑی جنگی کارروائیاں" شروع کر دی ہیں، صدر ٹرمپ