ترکیہ
2 منٹ پڑھنے
"معاہدہ طے ہوگیا"ترکیہ برطانیہ سے یورو فائٹر طیارے خریدے گا
ایردوان نے پیر کے روز انقرہ میں صدارتی کمپلیکس میں اسٹارمر کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد کہا کہ ہم اسے دو قریبی اتحادیوں کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کی ایک نئی علامت سمجھتے ہیں
"معاہدہ طے ہوگیا"ترکیہ برطانیہ سے یورو فائٹر طیارے خریدے گا
ایردوان-اسٹارمر / Reuters

صدر رجب طیب ایردوان اور برطانیہ کے وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے یورو فائٹر ٹائفون طیاروں پر دو طرفہ تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

ایردوان نے پیر کے روز انقرہ میں صدارتی کمپلیکس میں اسٹارمر کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد کہا کہ ہم اسے دو قریبی اتحادیوں کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کی ایک نئی علامت سمجھتے ہیں۔

ترک صدر نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ برطانیہ کے ساتھ یورو فائٹر معاہدے سے مشترکہ دفاعی منصوبوں کے دروازے کھل جائیں گے۔ ترک صدر نے ترکیہ اور برطانیہ کے درمیان تجارت کو 40 ارب ڈالر تک بڑھانے کا اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کا وعدہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم برطانیہ کے ساتھ اپنے تجارتی حجم کو ابتدائی طور پر 30 ارب ڈالر اور بالآخر 40 ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں"میں وزیر اعظم اسٹارمر اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس پورے عمل میں یوروفائٹر کنسورشیم کے اندر برطانیہ کی طرف سے کام کیا میں کنسورشیم میں شامل دیگر اتحادی ممالک کے رہنماؤں کی بھی ان کے تعمیری نقطہ نظر کے لیے تعریف کرتا ہوں۔

اسٹارمر نے کہا کہ اس معاہدے کی مالیت تقریبا 11 بلین ڈالر ہے۔

"یہ واقعی ایک اہم معاہدہ ہے  کیونکہ یہ 10.7 بلین ڈالر مالیت کے آرڈر ہیں ۔

اسٹارمر نے کہا کہ ترکیہ اور برطانیہ کے درمیان یورو فائٹر جیٹ معاہدہ "نیٹو کی سلامتی کے لئے ایک جیت ہے۔"

ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسٹارمر نے کہا، "اس سے نیٹو میں سیکیورٹی کو تقویت ملے گی، ہمارے دوطرفہ دفاعی تعاون کو مزید گہرا کیا جائے گا، اور یہاں اور برطانیہ میں اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا، 20،000 برطانوی ملازمتیں حاصل ہوں گی، یہ جدید ترین لڑاکا طیارے تیار ہوں گے۔"

اسٹارمر نے اسے "ایک تاریخی لمحہ قرار دیا جو ہمارے موجودہ تعاون کی بڑھتی ہوئی گہرائی اور وسعت اور مزید آگے بڑھنے کے ہمارے عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔"

برطانیہ کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس آرڈر میں 20 یورو فائٹر طیارے شامل ہوں گے۔

یورو فائٹر ٹائیفون جیٹ طیاروں کو اس وقت پانچ یورپی ممالک، برطانیہ، جرمنی، اٹلی، اسپین اور آسٹریا اور چار خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب، عمان، کویت اور قطر استعمال کرتے ہیں۔

 

دریافت کیجیے
روس: ہم نے یوکرین میں ایک بندرگاہ اور سفر کرنے والے کارگو جہاز کو نشانہ بنایا ہے
ترک خاتون اول امینہ ایردوان نے امام بخاری کے مزار پر حاضری دی
امریکہ کی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصِبات ہماری زد میں ہیں:ایران
اسرائیلی فوج نے گولی مار کر2 فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا
الہان عمر دھوکے باز ہے فوراً استعفی دے:ٹرمپ
بھارت: مودی۔ٹسک ملاقات، دفاع، خلاء اور ایٹمی توانائی کے شعبے میں تعاون پر اتفاق
امریکہ اسرائیل کو بموں کی فراہمی بند کرے: ڈیلیا رامیریز
ملائیشیا: ہم، آسیان سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنائیں گے
امریکہ اور اسرائیل  ایران پر حملوں کا منصوبہ بنا رہے ہیں
پاک-ترک سعودی دفاعی معاہدہ،بل ترک پارلیمان میں پیش کردیاگیا
ہم روس کے ساتھ مذکرات کےلیے تیار ہیں:زیلسنکی
صدر ایردوان کا شام  اور ترکیہ کی خفیہ سروس کے کارکنان کے لیے تہنیتی پیغام
ایلون مسک نے اسپیس ایکس اور ٹیسلا کو یکجا کرنے کی حمایت کر دی
امریکی تجاویز اچھی ہیں مگر سیاسی رعائیتیں ملنا مشکل ہو گا:روس
اسرائیل نے غزہ میں 2 بچوں سمیت 7فلسطینی قتل کر دیئے