اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے کہا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر جنین میں دو فلسطینیوں کو گولی مارنے والے اسرائیلی فوجیوں کی مکمل حمایت" کرتے ہیں۔
بین گویر نے X پر لکھا کہ میں بارڈر گارڈ کے ارکان اور اسرائیلی فوجیوں کی مکمل حمایت کرتا ہوں جنہوں نے جنین میں ایک عمارت سے نکلنے والے مطلوبہ دہشت گردوں پر فائرنگ کی۔ فورسز نے بالکل ویسا ہی عمل کیا جیسا ان سے توقع کی گئی ،دہشت گردوں کا مرنا ضروری ہے ۔
اسرائیلی فوج اور پولیس نے کہا کہ وہ اس واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر ویڈیوز گردش کر رہی تھیں جنہیں اسرائیلی و بین الاقوامی ذرائع نے انہیں نشر کیا جن میں دو مرد ہاتھ اٹھائے اسرائیلی فورسز کے قریب آ رہے تھے پھر فائرنگ ہوئی اور مرد گر پڑے۔
فلسطینی انتظامیہ نے اس واقعے کو جنگی جرم اور وحشیانہ قرار دیا۔
ایک مشترکہ بیان میں اسرائیلی فوج اور پولیس نے کہا کہ فورسز "مطلوبہ افراد کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی تھیں جنہوں نے دہشت گردی کی کارروائیاں کیں، جن میں دھماکہ خیز مواد پھینکنا اور سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کرنا شامل تھی۔
فورسز علاقے میں داخل ہوئیں، اس عمارت کو گھیر لیا جہاں مشتبہ افراد موجود تھے اور ہتھیار ڈالنے کا عمل شروع کیا جو کئی گھنٹے جاری رہا۔
فلسطینی وزارت صحت نے ان مردوں کی شناخت 37 سالہ یوسف علی عسائس اور 26 سالہ المنتصر بلہ محمود عبداللہ کے طور پر کی ہے اور کہا کہ وہ جبل ابو ظہیر کے علاقے جنین میں مارے گئے اور ان کی لاشیں اسرائیلی فورسز کے قبضے میں ہیں۔
فلسطینی وزارت خارجہ نے اس واقعے کو "وحشیانہ " قرار دیا اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی قتل عام کی اس مشین کو روکنے کے لیے اور فلسطینیوں کے لیے حفاظتی اقدامات نافذ کرے۔














