اپنے والدین کے سائے میں طویل عرصے تک دبے رہنے والے اور بنگلہ دیش کے سب سے بااثر سیاسی خاندانوں میں سے ایک کے وارث کے طور پر، طارق رحمن آخرکار منظرِ عام پر آ گئے۔
60 سال کی عمر میں، بنگلہ دیش نیشنلِسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما17 کروڑ آبادی کے حامل جنوبی ایشیائی ملک کی قیادت سنبھالنے کی تیاری میں ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہ ملک کو "آگے بڑھانے" کی تمنا رکھتے ہیں۔
شیخ حسینہ کے سخت گیر نظام کو زائل کرنے والی مہلک بغاوت کے ڈیڑھ سال بعد، بی این پی نے جمعرات کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں اپنی “بھاری فتح” کا دعویٰ کیا۔
سرکاری نتائج ابھی جاری نہیں ہوئے، مگر رہنماوں نے رحمن کو اس "تاریخی"فتح پر مبارکباد دی ہے ۔
ان کا عروج ایک نمایاں تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔ وہ ڈھاکہ کے سیاسی طوفانوں سے دور برطانیہ میں 17 سال جلاوطنی کے بعد ماہ دسمبر میں وطن لوٹے تھے۔
طارق ضیا کے نام سے پہچانے جانے والے رحمن سیاسی نام استعمال کرتے ہیں جس نے ان کی زندگی کے ہر مرحلے کو تشکیل دیا ہے۔
15 سال کی عمر میں ان کے والد، صدر ضیاءالرحمن، 1981 میں قتل کر دیے گئے تھے۔
طارق کی والدہ، خالدہ ضیا — جو تین بار وزیرِاعظم رہیں اور کئی دہائیوں تک بنگلہ دیشی سیاست میں ایک مضبوط شخصیت تھیں — دسمبر میں رحمن کی وطن واپسی کے چند دن 80 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔
میرا وطن
پولنگ کے دو دن قبل اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے، رحمن نے اپنے کنبے کے ورثے کو آگے بڑھانے کا عہد کیا۔
انہوں نے اپنے دفتر سے، مرحوم والدین کی سونے کے فریم والی تصاویر تلے کھڑے ہو کر کہا:"وہ ،وہ ہیں، میں، میں ہوں۔ میں اُن سے بہتر کرنے کی کوشش کروں گا۔"
انہوں نے دسمبر میں وطن پہنچنے پر محسوس کردہ "مخلوط جذبات"کا ذکر کرتے ہوئے کہا ان کی وطن واپسی کی خوشی فوراً ہی اپنی والدہ کی وفات کے غم سے ماند پڑ گئی۔
انہوں نے کہا: "یہ میرا ملک ہے، میں یہاں پیدا ہوا، میں یہاں پلا بڑھا — اس لیے بلاشبہ یہ ایک بہت خوشی کا احساس تھا۔"
تاہم خوشی منانے کی بجائے انہیں اپنی علیل والدہ کو رخصت کرنا پڑا، جو طویل عرصے سے خصوصی نگہداشتِ یونٹ میں زیرِ علاج تھیں۔
انہوں نے کہا: جب آپ اتنے عرصے بعد گھر لوٹتے ہیں تو ہر بیٹا چاہتا ہے کہ وہ اپنی ماں کو گلے لگا لے۔ لیکن افسوس مجھے وہ موقع نہیں ملا۔"
ڈھاکہ پہنچنے کے چند دنوں کے اندر ہی انہوں نے بی این پی کی قیادت اور پارٹی کی انتخابی مہم سنبھال لی۔
ابھی تک سوگ میں ڈوبے وارث نے اسٹیج سنبھالا، مائیک ہاتھ میں لے کر بڑے اجتماعات سے خطاب کیا۔
"بہت سے لوگوں کو بے چین کرتا ہے"
ان کا جنم اس وقت ہوا جب ملک ابھی مشرقی پاکستان کہلاتا تھا؛ 1971 کی آزادی کی جنگ کے دوران بطور بچے انہیں مختصر طور پر حراست میں لیا گیا تھا۔
ان کی جماعت انہیں “جنگِ آزادی کے سب سے کم عمر قیدیوں میں سے ایک” کے طور پر متعارف کراتی ہے۔
ان کے والد، آرمی کمانڈر ضیاءالرحمن، 1975 کی ایک بغاوت کے چند ماہ بعد اثر و رسوخ حاصل کرنے لگے، جب بانی رہنما شیخ مجیب الرحمان — شیخ حسینہ کے والد — قتل کر دیے گئے تھے۔
اس نے دونوں خاندانوں کے درمیان ایک ایسا تنازعے کو جنم دیا جو دہائیوں تک ملک کی سیاست کو متعین کرتا رہا۔ ضیاءالرحمن خود 1981 میں قتل کر دیے گئے۔
رحمن اپنی والدہ کے سیاسی دائرے میں پروان چڑھے، جو بعد ازاں ملک کی پہلی خاتون وزیرِاعظم بنیں اور ایک طویل اور کڑی جدوجہد میں حسینہ کے ساتھ اقتدار کا تبادلہ کرتی رہیں۔
رحمن نے کہا: میں ان کی نشستوں میں جاتا، مہم چلایا کرتا تھا۔ اسی طرح آہستہ آہستہ میری سیاست میں شمولیت شروع ہوئی۔
لیکن ان کے کیریئر پر بدعنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات کا بھی سایہ رہا ہے۔
دوسرے کیبلز نے انہیں “لوٹ مار پر مبنی حکومت اور پرتشدد سیاست کی علامت” قرار دیا اور الزام لگایا کہ وہ “انتہائی بدعنوان” ہیں۔
2007 میں بدعنوانی کے الزامات پر گرفتار کیے جانے کے بعد، رحمن کہتے ہیں کہ حراست میں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
اگلے سال وہ لندن فرار ہو گئے، جہاں انہیں غیر حاضری میں متعدد مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے تمام الزامات کی تردید کی اور انہیں سیاسی محرک کہا۔
تاہم انہوں نے اے ایف پی کو یہ بھی بتایا کہ انہوں نے معافی مانگی۔
انہوں نے اے ایف پی کو کہا: "اگر کوئی ایسی غلطیاں ہوئیں جو غیر ارادی تھیں تو ہم اُس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔"
حسینہ کے زوال کے بعد، 2004 میں حسینہ کے جلسے پر گرینیڈ حملے کہ جسے انہوں نے ہمیشہ مسترد کیا تھا کے حوالے سے مقدمے میں غیر حاضری میں دی گئی عمر قید سے رحمن کو بری کر دیا گیا ۔
وہ ایک کارڈیالوجسٹ سے شادی شدہ ہیں اور ان کی بیٹی وکیل ہے؛ برطانیہ میں انہوں نے ایک نسبتاً پرسکون زندگی گزاری۔
یہ منظر دسمبر میں ان کی ڈرامائی واپسی اور ہیرو کی طرح کے استقبالیے کے ساتھ بدل گیا، جب وہ اپنی نرم و نازک سنہری بلی جیبُو کے ساتھ آئے، جن کی تصاویر بنگلہ دیشی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔
ان کا کہنا ہے کہ آگے کا کام "بہت اہم" اور کٹھن ہے: ایک ایسے ملک کی تعمیرِ نو،جو ان کے بقول، سابقہ حکومت نے "تباہ" کر دیا تھا۔










