امریکی حکام نے اتوار کو کہا کہ براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ کے واقعے کے حوالے سے حراست میں لیے گئے ایک شخص جلد رہا کر دیا جائے گا اور ساتھ ہی بتایا کہ مشتبہ شخص کی تلاش دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔
ایک حملہ آور نے ہفتہ کو پراوڈنس، روڈ آئلینڈ میں واقع آئیوی لیگ یونیورسٹی میں فائرنگ کی، جس عمارت میں امتحانات جاری تھے۔ اس واقعے نے کیمپس کو لاک ڈاؤن کر دیا اور مشتبہ شخص کی تلاش کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔
امریکی حکام نے اتوار کی صبح ایک شخص کو اس فائرنگ کے سلسلے میں حراست میں لیا، جس میں نو دیگر افراد بھی زخمی ہوئے — یہ واقعہ امریکہ میں اسکول پر حملوں کی طویل فہرست میں تازہ اضافہ ہے۔
براؤن یونیورسٹی کی چانسلر کرسٹینا پیکسن نے کمیونٹی کے اراکین کو بھیجے گئے خط میں تصدیق کی کہ تمام 11 متاثرین طلبا ہیں۔
قاتل تا حال مفرور
عہدیداروں نے کہا کہ وہ مشتبہ شخص کی تلاش جاری رکھیں گے مگر تفتیش میں پیش رفت کے بارے میں کم ہی تفصیلات فراہم کیں۔
نیروہا نے کہا"صاف ظاہر ہے کہ ہمارے سامنے ایک قاتل موجود ہے، اور اسی لیے ہم اپنا آپریشنل منصوبہ افشاء نہیں کریں گے۔"
پولیس نے مشتبہ شخص کی دس سیکنڈز طویل فوٹیج جاری کی، جس میں اسے پیچھے سے دکھایا گیا ہے کہ وہ پہلی منزل کے ایک کلاس روم میں فائرنگ کے بعد خالی سڑک پر تیز قدموں سے چل رہا ہے۔
جوابی کارروائی میں متعدد ادارے شامل ہیں جن میں اسٹیٹ پولیس، ایف بی آئی، اور بیورو آف الکحل، ٹوبیکو، فائر آرمز اینڈ ایکسپلوزِوز شامل ہیں۔
عہدیداروں نے کہا کہ وفاقی اور مقامی ایجنسیاں تفتیش کے جاری رہنے کے دوران قریب سے تعاون کر رہی ہیں۔











