مقامی میڈیا نے جمعہ کو اطلاع دی ہے اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 19 بستیوں کوقانونی حیثیت دینے کا منصوبہ منظور کر لیا ۔
یہ فیصلہ وزیرِ خزانہ بزیلئل سموٹریک کی طرف سے مقبوضہ مغربی کنارے میں 19 غیرقانونی بستیوں کو رسمی حیثیت دینے کی تجویز پیش کرنے پر منعقدہ کابینہ کے اجلاس کے دوران لیا گیا ۔
کچھ مقامات حال ہی میں قائم کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر پہلے سے موجود تھے اور اب انہیں رسمی حیثیت دی جائے گی۔
چینل 14 نے رپورٹ کیا ہے کہ جن بستیوں کا ذکر کیا گیا ان میں غنیم اور قدیم بھی شامل ہیں، جنہیں 2005 میں اسرائیل کے علیحدگی منصوبے کے تحت خالی کرایا گیا تھا، جس میں غزہ سے بستیاں ہٹانا بھی شامل تھا ۔
چینل 14 نے رپورٹ کیا کہ یہ فیصلہ مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی حصوں میں بستیوں کی طرف "مکمل واپسی" کو ظاہر کرتا ہے، اور اس علاقے کو اس کے بائبل کے نام یعنی یہودیہ اور ساماریہ سے موسوم کرتا ہے۔ اس ادارے نے اس اقدام کو بستی پالیسی میں ایک بڑا موڑ قرار دیا اور کہا کہ یہ قدم سموٹریک کی قیادت میں اٹھایا گیا۔
750,000 غیرقانونی آبادکار
رپورٹ کے مطابق سیاسی فیصلہ نافذ کرنے کے لیے اب تیز رفتار منصوبہ بندی کا عمل شروع ہو گا تاکہ کابینہ کی منظوری کے مطابق بستیوں کے قیام اور انہیں قانونی حیثیت دلائی جا سکے۔
اسرائیلی بائیں بازو کے گروپ پیس ناؤ کا کہنا ہے کہ تقریباً 500,000 غیرقانونی اسرائیلی آبادکار مقبوضہ مغربی کنارے کی مختلف بستیوں میں رہتے ہیں، جبکہ مزید 250,000 مشرقی یروشلم کے مقبوضہ حصے پر بنائی گئی بستیوں میں مقیم ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی قراردادوں میں بیان کردہ مقبوضہ مغربی کنارے میں توسیع اور رسمی طور پر ضم کرنا دراصل دو ریاستی حل — ایک اسرائیلی اور ایک فلسطینی ریاست — کے نفاذ کے امکان کو ختم کر دے گا ۔
اسرائیل 1948 میں فلسطینی سر زمین پر قائم ہوا، اور بعد ازاں اس نے باقی فلسطینی علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ مسلسل آنے والی اسرائیلی حکومتوں نے ان علاقوں سے انخلاء اور دارالحکومت مشرقی القدس ہونے والی ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کیا ہے۔














